صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 475 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 475

صحيح البخاری جلد ٦ ۴۷۵ ۶۰ - كتاب احاديث الأنبياء اوصاف کا علم تو ہوسکتا ہے لیکن کسی شخصیت کی تعیین کا علم نہیں ہوسکتا اور نہ تجارتی کمپنی والے مفہوم سے شخصیت کی تعیین میں کوئی زیادہ مدد مل سکتی ہے سوائے اس کے کہ اگر کوئی بڑی تجارتی جماعت ہو، جو روئے زمین پر اپنی تجارت کی بدولت غالب و متسلط ہو اور اس کے افراد میں دجل کے مذکورہ بالا اوصاف پائے جاتے ہوں تو پھر قرین قیاس ہوگا کہ ایسی تجارتی قوم کو اس لفظ الدجال کا مصداق سمجھا جائے جس کے فتنے کی حدیث نبوی میں صراحت ہے کہ پیدائش عالم سے تا قیامت آسمان کے نیچے بنی آدم کے لئے زمین پر ایسا فتنہ پیدا نہیں ہوا۔بشرطیکہ واقعات سے ثابت ہو کہ فی الواقع اوصاف مذکورہ کے ساتھ کوئی قوم اپنے عقیدہ و کردار سے بہت بڑے فتنہ کا موجب ہے۔یعنی اس کے ذریعہ سے دینی عقائد بھی مسخ ہو چکے ہوں اور اخلاق بھی خراب اور قوموں کی تباہی و بربادی بھی ہو۔لیکن پھر بھی اس لفظ دجال کی تطبیق میں ایک خامی رہ جائے گی کہ لوگ فتنہ و فساد اور تخریب اخلاق میں آسانی سے ایک دوسرے کو متہم کر سکتے ہیں اور دجال کے نام سے بھی دوسروں کو پکار لیتے ہیں، اس لئے کسی واضح بیان کی ضرورت ہے جو کھلے طور سے دجال کے اصلی مصداق پر چسپاں ہوتا ہو۔ماتھے پرک۔ف۔“ والی علامت کی بھی تاویل کی جاتی ہے کہ کفر نمایاں ہوگا اور یک چشم ہونے کی بھی توجیہہ کی جاتی ہے کہ دین سے محروم ہوگا اور بائیں آنکھ دانہ انگور کی طرح پھولی ہوئی ہوگی کہ ایسا شخص دنیا کے امور میں خوب بینا ہو گا۔مگر ایسی تاویل و توجیہہ بھی دوسروں پر چسپاں کی جاسکتی ہے کہ رویاء میں ایسا دیکھا گیا تھا۔اگر چہ یہ احتمال ایسا نہیں کہ مذکورہ بالا اوصاف رجل اور علامات رویاء یکجائی طور پر کسی قوم میں پائے جانے کے باوجود رڈ کرنے کے قابل ہیں۔مگر امام بخاری جو غایت درجہ محتاط ہیں اور ان کا طریق عمل واضح طور پر یہ ہے کہ قرآن مجید کے ذریعہ سے احادیث وروایات کی تائید حاصل کرتے ہیں۔لہذا یہاں بھی انہوں نے یہی طریق اختیار کیا ہے کہ نزول مسیح، کسر صلیب اور قتل دجال وغیرہ سے متعلق ابواب قائم کرنے کے بعد ایک عنوان سورۃ الکہف کی آیت أَمْ حَسِبْتَ أَنَّ أَصْحَابَ الْكَهْفِ وَالرَّقِيمِ سے قائم کیا ہے۔یہ علیحدہ باب نہیں بلکہ سابقہ ابواب ہی کے ضمن میں ایک ذیلی عنوان ہے۔اس تصرف سے یہ بتانا مقصود ہے کہ بلحاظ مضمون اس کا تعلق سابقہ ابواب ہی سے ہے۔اب وہ کیا تعلق ہے، یہ امر قابل شرح ہے۔حدیث نبوی میں وارد ہوا ہے کہ اگر کوئی شخص فتنہ دجال کے شر سے محفوظ ہونا چاہے تو سورۃ الکہف کی اوائل کی دس آیات کی تلاوت کرے اور اسی طرح اس کی آخری دس آیتیں بھی کہیں اب ہمیں دیکھنا چاہیے کہ ان آیات کا کیا موضوع ہے۔سو معلوم ہو کہ سورۃ الکہف کا آغاز یوں ہوتا ہے : الْحَمدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ عَلى عَبْدِهِ الْكِتَب وَلَمْ يَجْعَلْ لَّهُ عِوَجًاه قَيْمًا لِيُنْذِرَ بَأْسًا شَدِيدًا مِّنْ لَّدُنْهُ وَيُبَقِرَ (مسلم ، کتاب صلاة المسافرين وقصرها، باب فضل سورة الكهف وآية الكرسي) الترمذى، كتاب فضائل القرآن عن رسول الله، باب ما جاء في فضل سورة الكهف) أبی داؤد، کتاب الملاحم، باب خروج الدجال ابن ماجه، كتاب الفتن، باب فتنة الدجال وخروج عيسى ابن مريم وخروج يأجوج ومأجوج)