صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 474
صحيح البخاری جلد ۲ ۴۷۴ ۲۰ - کتاب احاديث الأنبياء جن اقوام عالم کی صنعت کاری پر پورے طور پر منطبق ہیں ، وہ یقیناً وصف دجال کے مصداق اول ہیں اور اگر ان معانی کو مد نظر رکھا جائے تو سمجھ میں آسکتا ہے کہ نزول مسیح و کسر صلیب اور قتل دجال کی پیشگوئی اور سورۂ کہف کی محولہ آیات کا آپس میں کیا جوڑ ہے اور امام بخاری نے انہیں ایک باب میں کیوں اکٹھا کیا ہے۔ مذکورہ بالا تمہید کے بعد اب سورہ کہف کے اسی قدر حصہ کا بیان کیا جائے گا جو زیر باب مندرجہ پیشگوئی سے متعلق ہے۔ باقی تفصیل کے لئے دیکھئے کتاب التفسیر، سورۃ الکہف ۔ زیر شرح روایات انذار و بشارت پر مشتمل ہیں۔ انذار کا تعلق تو خروج دجال اور اس کے فتنہ سے ہے اور بشارت کا نزول مسیح ، کسر صلیب اور قتل دجال سے۔ سورہ کہف کو پڑھیں ، اس کے شروع میں ہی حمد باری تعالیٰ اور قرآن مجید کی صحت بیانی و راستی کے بعد ایک بہت بڑے خطرے سے اندار کا ذکر ہے اور اس انذار کے ساتھ مومنوں کے لئے بشارت اور صلیب پرست مسیحی قوم کے لئے انذار کا ذکر ہے اور بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جان اس غم کی وجہ سے گداز ہے کہ ان لوگوں نے آپ کی بات نہیں مانی۔ امام بخاری کا طریق عمل یہ ہے کہ احادیث و روایات کی تصدیق و تائید میں آیات قرآن مجید پیش کرتے ہیں۔ تا وقتیکہ قرآن مجید سے تصدیق و تائید نہیں ہو جاتی، ان کے نزدیک احادیث و روایات اس اعلیٰ معیار کی نہیں جو قابل اعتماد ہوں۔ سوا اس کے کہ کسی امر واقعہ کی نسبت جس کے راوی دونوں قسم کے ہوں یعنی کمزور حافظہ راویوں کے علاوہ قوی حافظہ اور ثقہ راوی بھی اس کی تصدیق کرنے والے پائے جائیں، اس صورت میں ضروری نہیں کہ واقعہ مرویہ قرآن مجید میں بھی مذکور ہو یا اس کی تائید قرآن میں بھی تلاش کی جائے۔ لیکن فتنہ دجال والے بَأْسٌ شَدِيدٌ سے متعلق اندار کی نوعیت تو پیشگوئی کی ہے اور ایک ایسی خبر ہے جو آئندہ زمانہ سے تعو سے تعلق رکھتی ہے۔ مستقبل ہی ہی شہادت دے سکتا ہے کہ وہ فتنہ اور باس شدید کس صورت میں پورا ہونے والا ہے۔ جیسا کہ شق سوم میں ابھی بتایا جا چکا ہے کہ دجال اسم وصفی ہے اور صیغہ مبالغہ جو لفظ دجل سے مشتق ہے جس کے معنی ملمع سازی اور فریب رہی ہیں۔ دجال کے معنے غایت درجہ فریب دینے والا اور ملمع ساز۔ دجال لفظا مفرد ہے لیکن یہ اسم جمع کے معنوں میں ایک قوم پر بھی اطلاق پاتا ہے۔ چنانچہ لسان العرب، تاج العروس اور اقرب الموارد مشہور کتب لغت میں یہ لفظ تاجروں کی بڑی جماعت کے لئے بھی وارد ہوا ہے ۔ یعنی هِيَ رُفْقَةٌ تَحْمِلُ الْمَتَاعَ لِلتِّجَارَةِ اور یہ الفاظ بھی ہیں : الرُّفْقَةُ الْعَظِيمَةُ تُغَطَّى الْأَرْضَ بہت بڑی کمپنی جو زمین پر بڑی کمپنی جو زمین پر چھا جائے ۔ اور ا اور اقرب میں یہ بھی لکھا ہے : الدَّجَّال صیغہ مبالغہ ہے۔ لَقَبُ الْمَسِيحِ الْكَذَّابِ الَّذِي يَظْهَرُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ جھوٹے مسیح کا لقب ہے جو آخری زمانہ میں ظاہر ہوگا۔ اقرب الموارد کے ماسوا عربی لغت کی دوسری کتابوں نے بھی یہ معنی نقل کئے ہیں۔ (اقرب الموارد - دجل) (لسان العرب - دجل) (تاج العروس- دجل) لفظ دجال وصفی معنوں میں ہر کذاب، دروغ گو، ملمع ساز اور فریب دہندہ پر اطلاق پاسکتا ہے۔ اس سے معنوی