صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 473
صحيح البخاری جلد 4 سم کے ہوم ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء حضرت یوسف علیہ السلام کے ساتھی قیدیوں میں سے ایک نے دیکھا کہ انگور کا رس نچوڑ رہا ہے اور دوسرے نے دیکھا کہ وہ سر پر روٹیاں اُٹھائے ہوئے ہے جن میں سے پرندے کھا رہے ہیں۔تو ان مختصر نظاروں کی جو تعبیر سورہ یوسف میں بیان ہوئی ہے اور پھر واقعات میں ظاہر ہوئی وہ درست معانی پر دلالت کرتی ہے اور اسی طرح دجال سے متعلق بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مشاہدہ اور مکاشفہ بھی وسیع معانی ہی میں لیا جائے گا۔خاص کر جبکہ وہ انہی وسیع معنوں میں پورا ہو چکا ہے۔یعنی صلیب پرست مغربی اقوام جو اپنی تجارت کے بل بوتے تمام دنیا پر چھا گئی ہیں اور جنہیں ملمع سازی اور فریب دہی میں کمال حاصل ہے اور جن کا کفر اتنا نمایاں اور متعدی ہے کہ مذہبی قوموں کے افراد مرد و زن بھی ان کی دہریت سے شدید طور پر متاثر ہیں۔دجل اور ترجیل کے ایک معنی (تغطية اور تذبیس) چھا جانے اور احساسات میں سرایت کرنے کے بھی ہیں۔کہتے ہیں دَجَلَ الْبَعِير : اونٹ کا سارا جسم رال سے لیپ کیا۔دجل الاناء : برتن سونے سے بمع کیا۔دَجَلَ الْأَرْضَ : قَطَعَ نَوَاحِيْهَا سَيْرًا۔زمین کی تمام اطراف سیر و سیاحت سے ملے کیس وَغَطَّاها اور زمین پر چھا گیا۔اقرب الموارد - دجل) (لسان العرب دجل) صلیب پرست اقوام اپنے ہمہ گیر تسلط اور استیلاء سے آج روئے زمین پر جس طرح مستولی اور دل و دماغ پر متسلط ہیں کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں، ظاہر وباہر ہے۔عقائد دینیہ اور اعمال صالحہ کو جس طرح انہوں نے بگاڑا ہے وہ عیاں ہے اور محتاج بیان نہیں۔ان کی ملمع سازی و فریب دہی کے دلکش اور اخلاق سوز مناظر بخش اور عریاں رقص و سرود جگہ جگہ سینماؤں میں دیکھے جا رہے ہیں اور دیکھنے والا یقین کرتا ہے کہ سچ سچ پردہ فلم پر ایک حسین پری وش گا رہی ہے۔اس کے گانے کی آواز اس کے زمردی ہونٹوں سے نکلتی سنائی دیتی ہے۔بحالیکہ یہ سارا منظر فریب نظر اور فریب سماعت کے سوا کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔پردہ فلم پر جو مترنم سُسر اور ئے میں گا تا نظر آتا ہے، پس پردہ دراصل کسی خوش گلو نغمہ نواز کا ریکارڈ بیچ رہا ہوتا ہے۔ریکارڈ کے الفاظ اور مترنم ہونٹوں کی حرکت کو کمال فن سے آپس میں ایسا ہم آہنگ اور ہمساز کر دیا جاتا ہے کہ دیکھنے والے لوگ ان دونوں میں تمیز نہیں کر سکتے۔اسی طرح رقاصاؤں کا رقص بھی محض فریب نظر ہے اور فلمی پردوں پر جو عالیشان خوبصورت محلات دکھائی دیتے ہیں کہ وہ سنگ وخشت اور چوب و آہن سے تعمیر شدہ ہیں در حقیقت صرف ٹاٹ کے پردے ہیں جو بانس اور لکڑی کے سہارے سے قائم ہوتے ہیں اور جن پر ایسی خوبی سے رنگ وروغن کر دیا جاتا ہے کہ وہ تماشائیوں کو حقیقی خوبصورت قصر و ایوان نظر آتے ہیں۔علی ھذا القیاس۔پہاڑ و دریا اور چلتی کشتیاں وغیرہ اکثر اشیاء مثل لباس و اسلحہ وغیرہ بھی اصلی نہیں بلکہ نفلی ہوتی ہیں۔غرض دجل کا مفہوم ملمع سازی، فریب وہی، فلم سازی کی صنعت میں واضح طور پر پورا ہے اور اس سے جو اقتصادی و اخلاقی تباہ کاری اور عقاید و کردار کا بگاڑ ہوتا ہے، وہ نہایت بھیا تک اور تباہ کن نتائج کا حامل ہے۔سیاسی فریب دہیاں اور دروغ بافیاں مذکورہ بالا طمع سازی سے علاوہ ہیں، جن کی داستان لمبی ہے۔لفظ دجل و تد جیل کے تمام مذکورہ بالا معانی