صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 472 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 472

صحيح البخاری جلد ٦ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء باب کی حدیث نمبر ۳۴۴۷ میں ہے۔ختم نبوت سے متعلقہ مذکورہ بالا بیان اور مماثلت انبیاء کا عقیدہ تسلیم کر لیا جائے تو پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سے ایک امام کی بعثت جو مسیح کا ہم نام اور اس کا مثیل ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت غراء کا تابع ومطیع ناقض ختم نبوت ہرگز نہیں ہوگا بلکہ اس کی غرض وغایت کو مکمل کرنے والا ہوگا۔ورنہ جس طرح یہود اب تک ایلیاء ( الیاس ) نبی کے صعود جسمانی اور آسمان سے ان کے دوبارہ نزول کا عبث انتظار کر رہے ہیں، مسلمانوں کو بھی حضرت عیسی علیہ السلام کے دوبارہ نزول کا منتظر رہنا پڑے گا۔اس طرح مشابہت یہود کی پیشگوئی کے پورا ہونے میں جو کسر باقی ہے وہ کسر بھی نکل جائے گی۔جس طرح وہ اپنے غلط عقیدہ کی وجہ سے حضرت مسیح علیہ السلام اور نبیوں کے سردار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شناخت سے محروم رہے اور مغضوب علیہم ٹھہرے اندیشہ ہے کہ ان کا بھی یہی حال نہ ہو ، بحالیکہ اسی انجام بد سے بچنے کے لئے سورۃ فاتحہ میں غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ کی دعا سکھائی گئی ہے۔قارئین باب ۴۸ کی روایات کے تعلق میں مذکورہ بالا باتوں پر ٹھنڈے دل سے غور کریں۔سوم تیسری بات جس کی طرف توجہ دلانا ضروری معلوم ہوتا ہے، وہ روایت نمبر ۳۴۳۹، ۳۲۴۰ میں دجال سے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رویاء اور خبر ہے۔اس سے مراد ایک شخص ہے یا ایک قوم؟ جہاں تک اس لفظ کے صیغہ اور لغوی معنوں کا تعلق ہے تو یہ بتایا جا چکا ہے کہ یہ مفرد بھی ہے اور اسم جمع بھی اور یہ وصف ہے جو ایک فرد پر بھی اطلاق پاتا ہے اور ایک جماعت یا گروہ اور قوم پر بھی۔لغت کے اعتبار سے اس کے معنے ملمع ساز ، بہت فریب دینے والا، دھوکہ باز ، کذاب، ظاہر میں کچھ اور باطن میں کچھ۔تَدْجیل کے معنے ہیں کھوٹے زیور کو ملمع سازی سے کھرے سونے چاندی جیسا بنا دینا۔جس شخص یا قوم میں فریب دہی کی یہ مہارت ہو وہ دجال ہے اور عربی لغت کی کتابوں میں اس کے یہ معنے بھی بیان کئے گئے ہیں: الرُّفْقَةُ الْعَظِيمَةُ، تُعَطِي الْأَرْضَ بِكَثْرَةِ أَهْلِهَا ، تَحْمِلُ الْمَتَاعَ لِلتِّجَارَةِ۔یعنی ایک بہت بڑی شراکت کی جماعت یا کمپنی جو زمین پر اپنے ہم خیال لوگوں کے ساتھ چھا جائے ، تجارت کی غرض سے سامان اُٹھائے پھرے اسے دجال کہتے ہیں۔(لسان العرب - دجل) (تاج العروس - دجل) (اقرب الموارد-دجل) با اعتبار لغت عربی لفظ دجال مفرد اور جمع دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رویاء میں بصورت فرد واحد دیکھا کہ ایک شخص بیت اللہ کا طواف کر رہا ہے اور اس کی جو شکل کشفاً دکھائی گئی کہ وہ دجال تھا جو داہنی آنکھ سے کانا ہے اور اس کی پیشانی پر حروف ک-ف- “ لکھے ہیں۔یہ تعبیر طلب ہیں اور اس سے مراد یہ ہے کہ وہ دین سے کورا ہوگا اور اس کا کفر نمایاں ہوگا۔رویا میں ایک شخص کا دیکھنا بعض وقت اس سے مراد اس کا خاندان یا اس کی ساری قوم مراد ہوتی ہے اور جب واقعات سے رویا کی تعبیر کھل جائے تو وہی صحیح سمجھی جائے گی نہ کہ واقعات کے ظہور سے قبل خیالی تعبیر۔جیسا کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے رویا میں دیکھا کہ گیارہ ستارے اور سورج اور چاند انہیں سجدہ کر رہے ہیں، بادشاہ مصر نے سات فربہ گا میں دیکھیں جو سات ڈبلی گا ئیں کھا گئی ہیں اور سات سبز اور خشک بالیاں ہیں، یا جو