صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 471 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 471

صحيح البخاری جلد ؟ ۶۰ - كتاب احاديث الأنبياء اس آیت میں جن چار منعم علیہ طبقہ ابرار کا ذکر ہے اور جو جو انعامات ربانیہ ان پر ہوئے ہیں، سورۃ فاتحہ کی دعا ان سب کی راہیں ان لوگوں کے لئے کھولتی ہے جو اللہ و رسول کی اطاعت کرتے ہیں اور مثنوی رومی کے مذکورہ بالا شعر سے یہی مراد ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات والا جو سراپا محامد سے متصف ہے تمام دروازوں کے تالے کھولنے والی ہے۔فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ مِّنَ النَّبِيِّينَ (النساء: ۷۰) سے کسی کو حرف ” مع “ سے یہ وہم نہ گذرے کہ اللہ و رسول کے فرمانبرداروں کو انبیاء کی صرف معیت حاصل ہوگی۔بغیر اس کے کہ انہیں مقام نبوت حاصل ہو اور وہ نبی ہوں۔اگر صرف لفظ ” مع “ سے اس قسم کی معیت سمجھی جائے تو پھر اس کے یہ معنے ہوں گے کہ مطیعان اللہ ورسول صالح بھی نہیں ہوں گے اور انہیں صالحین کی خالی معیت و رفاقت حاصل ہوگی۔آیت کا یہ مفہوم نہایت بھونڈا ہے۔عربی فصاحت و بلاغت سے ناواقف ہی اس سے یہ مراد سمجھے گا ورنہ عربی زبان کا علم رکھنے والے حرف مَعَ اور مِنْ کا ایک مفہوم سمجھتے ہیں۔أُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ کے معنے اُولئِكَ مِنَ الَّذِينَ ہیں۔تکرار مِنْ کی وجہ سے اس آیت میں ایک جگہ حرف ” مع “ وارد ہوا ہے اور اس کے بعد اسی جگہ حرف ” مِنْ “۔ایک ہی عبارت میں ایک ہی حرف یا لفظ کا دہرانا فصاحت کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔" مَعَهُمْ کے معنے انبیاء کی ایسی ہی معیت ہے جو منہم کی مترادف اور اعلیٰ درجہ کی معیت و مصاحبت ہے جیسے ایک بادشاہ، بادشاہ کی معیت میں اور ایک حاکم دوسرے حاکم کی معیت میں، نہ حاشیہ برداروں اور چپڑاسیوں والی معیت۔چنانچہ اس آیت کے آخر میں حَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا فرمایا اور بتایا ہے کہ اللہ ورسول کے تابعداروں کی مذکورہ رفاقت نہایت اچھی ہوگی۔ذلِكَ الْفَضْلُ مِنَ اللَّهِ وَكَفَى بِاللَّهِ عَلِيمًا۔یہ عمدہ رفاقت الہی فضل ہوگا اور اللہ علیم ہی جانتا ہے کہ وہ کیا رفاقت ہے۔آیت کریمہ کا یہ خاتمہ ادنی رفاقت کے خیال کو رڈ کرتا ہے۔غرض عارفین باللہ اور مقربین بارگاہ الہی نے ختم نبوت کی حقیقت جو کبھی اور بیان کی ہے، وہی درست ہے۔طوالت کا خوف نہ ہوتا تو اس کی تائید میں قرآن مجید سے بیسیوں آیات کے حوالے اور درجنوں بزرگانِ امت کے اقوال پیش کئے جاسکتے ہیں، جن سے ثابت ہوتا ہے کہ امت محمدیہ محروم نعمت ربانی نہیں بلکہ ختم نبوت محمدیہ کے طفیل ہمیشہ کے لئے ہر اس نعمت سے نوازی گئی ہے جو پہلوں پر ہوئی ہے اور ایک عابد حقیقی کے لئے سب سے بڑی نعمت جو اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور اس کے دل کا سرور ہے وہ معبود کا قرب اور اس سے ہم کلامی کا شرف ہے۔قارئین کرام اگر ختم نبوت کا مفصلہ بالا مفہوم مد نظر رکھیں اور حدیث نبوی ۳۴۴۳٬۳۴۴۲ میں بیان کردہ انبیاء کی ایک دوسرے سے مماثلت روحانی مد نظر رکھیں تو امام بخاری کی اس حدیث کے ذکر سے جو اصل غرض ہے، اس کا سمجھنا ان کے لئے مشکل نہیں۔وہ اس سے یہ بتانا چاہتے ہیں کہ جب مسلمان یہود و نصاریٰ کی مشابہت اختیار کرلیں گے تو ان کی اصلاح کرنے اور انہیں راہ راست پر لانے والا مسیح موعود مثیل عیسی ہوگا نہ کہ خود عیسی علیہ السلام جن کی وفات کا ذکر اسی