صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 470 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 470

صحيح البخاری جلد 4 ۴۷۰ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء چنانچہ عارف یزدانی حضرت رومی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبع فیوض ربانیہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں: در کشاد ختمہا تو خاتمی درجہانِ رُوح بخشاں حاتمی اے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) تو ہر قسم کے ختموں کو کھولنے والا ہے اور اسی وجہ سے خاتم ہے اور روح پھونکنے والوں کے جہاں میں تو حاتم ہے۔ہست اشارات محمد ، المراد ل گشاد ، اندر گشاد اند رکشاد الغرض محمد نام ہی میں اشارے موجود ہیں کہ ہدایت کی سب راہیں کھلی ہی کھلی ہیں۔صد ہزاراں آفر میں یک جان او بر قدوم و دور فرزندان او آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے فرزندوں کی آمد اور ان کے دور پر لاکھوں آفریں۔اور حضرت رومی رحمتہ اللہ نے انہی اشعار میں خاتم سے کمال کا مفہوم مراد لیا ہے۔فرماتے ہیں کہ تکمیل شریعت اور ہدایت کے تمام دروازے کھولنے کی وجہ سے ہی آپ کو خاتم النبیین کا لقب عطا ہوا ہے۔مثل اونے بود و نے خواهند بود بہر ایں خاتم شد است او که بجود چونکه در صنعت بر داستاد دست نے تو گوئی ختم صنعت بر تو است یعنی آپ ان معنوں میں خاتم ہیں کہ داد و دہش میں نہ آپ جیسا بھی کوئی پہلے ہوا ہے اور نہ آئندہ ہوگا۔جس طرح کوئی استاد جب کاریگری میں سبقت لے جاتا ہے تو کیا تم اسے نہیں کہتے کہ تجھ پر کاریگری ختم ہے۔( مثنوی رومی ، مترجم قاضی سجاد حسین ، دفتر ششم صفحه ۳۰) علامہ جامی کا مثنوی رومی کی نسبت یہ مشہور قول ہے کہ وہ فارسی زبان میں قرآن مجید ہی کا مثنے ہے۔مثنوی مولوی معنوی هست قرآن در زبان پهلوی اوپر کے اشعار میں دیکھ لیں کہ سورہ فاتحہ ہی کی شرح ہے جس میں صراط مستقیم کی دعا اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيم کے ساتھ الفاظ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ سے تمام انعام یافتہ لوگوں کی راہیں دعامانگنے والوں کے لئے کھول دی گئی ہیں۔یہ منعم علیہ گروہ کون ہے جس کے صراط مستقیم کی ہدایت طلب کی جاتی ہے۔اس کی وضاحت قرآن مجید خود کرتا ہے اور فرماتا ہے : وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالصَّدِيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا ٥ ذلِكَ الْفَضْلُ مِنَ اللَّهِ وَكَفَى بِاللَّهِ عَلِيمًا (النساء : ۷۰، ۷۱) یعنی جو ( لوگ بھی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں گے وہ ان لوگوں میں شامل ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا ہے یعنی انبیاء اور صدیقین اور شہداء اور صالحین ( میں۔) اور یہ لوگ ( بہت ہی اچھے ) رفیق ہیں۔یہ فضل اللہ کی طرف سے ہے اور اللہ بہت ہی جاننے والا ہے۔こ