صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 470 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 470

صحيح البخاری جلد ۲ ۴۷۰ ۲۰ - کتاب احاديث الأنبياء چنانچه عارف یزدانی حضرت رومی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبع فیوض ربانیہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں : در کشاد ختمها تو خاتمی در جهان روح بخشان حاتمی اے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) تو ہر قسم کے ختموں کو کھولنے والا ہے اور اسی وجہ سے خاتم ہے اور روح پھونکنے والوں کے جہاں میں تو حاتم ہے۔ بست اشارات محمد ، المراد کل گشاد ، اندر گشاد اندر گشاد الغرض محمد نام ہی میں اشارے موجود ہیں کہ ہدایت کی سب راہیں کھلی ہی کھلی ہیں۔ صد ہزاراں آفریں بر جان او بر قدوم و دور فرزندان او آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے فرزندوں کی آمد اور ان کے دور پر لاکھوں آفریں۔ اور حضرت رومی رحمۃ اللہ نے انہی اشعار میں خاتم سے کمال کا مفہوم مراد لیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ تکمیل شریعت اور ہدایت کے تمام دروازے کھولنے کی وجہ سے ہی آپ کو خاتم النبین کا لقب عطا ہوا ہے۔ بہر ایں خاتم شد است او که بجود مثل اونے بود و نے خواهند بود چونکه در صنعت برد استاد دست نے تو گوئی ختم صنعت بر تو است یعنی آپ ان معنوں میں خاتم ہیں کہ داد و دہش میں نہ آپ جیسا بھی کوئی پہلے ہوا ہے اور نہ آئندہ ہوگا۔ جس طرح کوئی استاد جب کاریگری میں سبقت لے جاتا ہے تو کیا تم اسے نہیں کہتے کہ تجھ پر کاریگری ختم ہے۔ (مثنوی رومی، مترجم ،قاضی سجاد حسین، دفتر ششم ، صفحه ۳۰) علامہ جامی کا مثنوی رومی کی نسبت یہ مشہور قول ہے کہ وہ فارسی زبان میں قرآن مجید ہی کا مثنے ہے۔ مثنوی مولوی معنوی هست قرآن در زبان پهلوی اوپر کے اشعار میں دیکھ لیں کہ سورہ فاتحہ ہی کی شرح ہے جس میں صراط مستقیم کی دعا اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمِ کے ساتھ الفاظ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ سے تمام انعام یافتہ لوگوں کی راہیں دعا مانگنے والوں کے لئے کھول دی گئی ہیں۔ یہ منعم علیہ گروہ کون ہے جس کے صراط مستقیم کی ، اط مستقیم کی ہدایت طلب کی جاتی ہے۔ اس کی وضاحت قرآن مجید خود کرتا ہے اور فرماتا ہے : وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالصَّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا ( ذَلِكَ الْفَضْلُ مِنَ اللَّهِ * وَكَفَى بِاللَّهِ عَلِيمًا (النساء: ۷۰ ، اے) یعنی جو ( لوگ بھی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں گے وہ ان لوگوں میں شامل ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا ہے یعنی انبیاء اور صدیقین اور شہداء اور صالحین ( میں ۔ ) اور یہ لوگ ( بہت ہی اچھے ) رفیق ہیں۔ یہ فضل اللہ کی طرف سے ہے اور اللہ بہت ہی جاننے والا ہے۔