صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 469
صحيح البخاري - جلد 1 ۴۶۹ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء اور کر دیتی ہے۔ باوجود اس کے وہ وقت آ جاتا ہے کہ اس کی ناقابل یقین اور بظاہر نظر انہونی باتیں پوری ہو جاتی ہیں او ا خدا تعالیٰ کی ہستی کا انکار کرنے والے کا انکار کرنے والے یقین کرنے لگتے ہیں کہ ان کا قادر مطلق علیہ ا قادر مطلق علیم وخبیر خالق موجود ہے اور اس مامور کی باتیں ان کے مردہ ایمان کو زندہ کر دیتی ہیں۔ یہ مراد ہے حضرت شیخ اکبر محی الدین ابن عربی کی کہ مکالمہ والی غیر تشریعی نبوت جہان کے لئے بطور غذا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ سے متعلق خبر و اخبار کا یہ سلسلہ منقطع ہو جائے تو مخلوق زندہ نہ رہے اور یہ کہ امت محمدیہ میں ۔ یہ سلسلہ نبوت تا قیامت جاری رہے گا۔ ان کا یہ عقیدہ ائمہ رہ ائمہ و علمائے ربانی اور عارفین باللہ سب نے قبول کیا اور اس کا وجود اور استمرار وبقا ان کے نزدیک مسلم ہے۔ نہ صرف اس بارے میں ان کا اپنا ذاتی تجربہ و مشاہدہ ہے بلکہ قرآن مجید میں بھی بایں الفاظ تصریح ہے: اِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ ۔ نَحْنُ أَوْلِيَاءُ كُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيْهَا مَا تَدَّعُونَ ) نُزُلًا مِّنْ غَفُورٌ رَّحِيمٍ ) ( حم السجدة: ٣١-٣٣) یعنی وہ لوگ جنہوں نے یہ اقرار کیا کہ اللہ ہی ہمارا رب ہے۔ پھر مستقل مزاجی سے اس عقیدہ پر قائم ہو گئے ان پر فرشتے اتریں گے، یہ کہتے ہوئے کہ ڈرو نہیں اور کسی پچھلی غلا اور کسی پچھلی غلطی کا غم نہ کرو اور اس جنت کے ملنے سے خوش ہو جاؤ جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ ہم دنیا میں بھی تمہارے دوست رہیں گے اور آخرت میں بھی تمہارے دوست رہیں گے اور اس (یعنی جنت ) میں جو کچھ تمہارے جی چاہیں گے تم کو ملے گا اور جو کچھ تم مانگو گے وہ بھی تم کو اس میں ملے گا۔ مکالمہ و مخاطبہ کے تعلق میں وعدہ الہی بینات میں سے ہے اور اس کا تعلق دنیا سے بھی ہے اور آخرت سے بھی اور جب یہ مکالمہ کسی کے ساتھ کثرت سے ہو اور وہ مامور ہو ایسا شخص مذکورۃ الصدر علماء کے نزدیک نبی ہے۔ قرآن مجید کی اس صراحت کے بعد حضرت ابن عربی وغیرہ علمائے ربانی کا قول قبول کرنے میں کیا تر در ہو سکتا ہے اور امت محمد یہ ایسے فیضانِ نبوت سے کیوں محروم ہو جبکہ امت موسویہ وغیرہ میں الہی مکالمہ سے شرف یاب بکثرت ہوئے اور وہ نبی کہلائے حالانکہ وہ شریعت نہیں لائے ۔ شریعت لانے والے انبیاء تو چند گنتی کے ہیں۔ جو علماء اسلام امت محمدیہ میں غیر تشریعی نبوت کے قائل ہیں، وہ در حقیقت اس کے وجود و بقا ہی کو نبی اکرم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے جاودانی فیضان و آپ کی شریعت کی دائمی برکات کے لئے زندہ دلیل گردانتے ہیں۔ خاتم ” تاء“ کی کسرہ (زیر) سے ہو بمعنی ختم کرنے والا یا خاتم ” تاء“ کی فتح (زبر ) سے ہو بمعنی مہر ۔ دونوں معنوں کے اعتبار سے آپ نبیوں کے خاتم ہیں کہ آپ کی آمد سے سابقہ ان نے سابقہ انبیاء کی شریعتوں کو ختم کیا گیا اور ان کی جگہ ایک جامع کا ، جامع کامل شریعت بنی نوع انسان کو دی کی انسان کو دی گئی اور آپ نے اپنی امت میں نبوت کا دروازہ کھول دیا کہ آپ کی مہر کی تصدیق کے ساتھ اور آپ کی اطاعت و اتباع کی برکت سے انسان مقام نبوت حاصل کر سکتا ہے۔ آپ خاتم نبوت شریعت ہیں اور فاتح نبوت بلا شریعت ۔