صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 468
صحيح البخاری جلد 4 ۴۶۸ ۶۰ - كتاب احاديث الأنبياء یعنی وہ نبوت جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود سے ختم ہوئی وہ صرف شرعی نبوت ہے مقام نبوت نہیں۔اس لئے اب کوئی شریعت نہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کو منسوخ کرنے والی ہو اور نہ آپ کی شریعت میں کوئی حکم زیادہ کرے گی اور آپ کے قول کہ رسالت و نبوت منقطع ہو گئی ہے۔اس کے یہی معنے ہیں کہ میرے بعد کوئی ایسا نبی نہیں ہوگا جو میری شریعت کے خلاف کسی اور شریعت پر ہو بلکہ جب ہوگا میری شریعت کے ماتحت ہوگا اور نہ کوئی ایسا رسول ہوگا جو اللہ کی مخلوق میں سے کسی کونئی شریعت کی طرف بلائے کیونکہ نئی شریعت منقطع ہے اور اس کا دروازہ بند کیا گیا ہے نہ کہ مقام نبوت بند ہے۔کتنی وضاحت کے ساتھ شیخ اکبر نے اپنا عقیدہ بیان فرمایا ہے جسے دیگر ائمہ وعلماء نے بھی قبول کیا ہے جن میں سے ہمارے ملک کے مشہور عالم ملاعلی قاری بھی ہیں ، وہ لکھتے ہیں: قُلتُ وَمَعَ هَذَا لَرُ عَاشَ إِبْرَاهِيمُ وَصَارَ نَبِيًّا وَكَذَا لَوْ صَارَ عُمَرُ نَبِيًّا لَكَانَا مِنْ أَتْبَاعِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ كَعِيسَى وَالْخَضِرِ وَالْيَاسَ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ فَلَا يُنَاقِضُ قَوْلَهُ تَعَالَى: وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ، إِذِ الْمَعْنَى أَنَّهُ لَا يَأْتِي نَبِيٌّ بَعْدَهُ يَنْسَخُ مِلتَهُ وَلَمْ يَكُنْ مِنْ أُمَّتِه۔66 (الأسرار المرفوعة في الأخبار الموضوعة، حرف اللام، روایت نمبر ٧٤٥) یعنی با وجود اس کے میں نے کہا کہ اگر ابراہیم ( ابن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) زندہ رہتے اور نبی ہو جاتے اور اسی طرح عمر نبی ہو جاتے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تابعین میں سے ہوتے۔اس طرح ان کا نبی ہونا اللہ تعالیٰ کے قول خاتم النبیین کے خلاف نہ ہوتا کیونکہ اس کے یہ معنے ہیں کہ کوئی ایسا خاتم النہ نبی نہیں آئے گا جو آپ کی ملت و طریق شریعت کو منسوخ کر دے اور آپ کی امت میں سے نہ ہو۔ملاعلی قاری نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ابراہیم اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی مثال اس لئے دی ہے کہ اول الذکر کی وفات پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر ابراہیم زندہ رہتا تو نبی صدیق ہوتا اور ثانی الذکر مکالمہ و مخاطبہ الہیہ سے سرفراز تھے جس کی وجہ سے محدث کے لفظ سے پکارے گئے۔ان کے علاوہ اور صحابہ کرم کو بھی یہ شرف حاصل تھا اور وہ ادبا اپنے الہامات کا ذکر نہ کیا کرتے تھے اور اس کے لئے وہ مامور بھی نہ تھے۔نبی کے لئے کثرت مکالمہ الہیہ کی شرط ہے اور یہ شرط ہے کہ وہ مامور ہو یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم دیا جائے کہ جس وحی اور کلام سے وہ مخاطب ہے اس کی لوگوں کو اطلاع دے تا انہیں علم ہو کہ ان کا عظیم و قادر خدا موجود ہے اور وہ اس پر ایمان لائیں۔قدرت نمائی ہی سے مردہ ایمان زندہ ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ کا مامور اس کے حکم سے اس کی ہستی کا قطعی اور واقعی ثبوت بہم پہنچاتا ہے کیونکہ وہ اس کی طرف سے ایسی باتوں کا اعلان کرتا ہے جو دنیا کی نظر میں ناممکن ہوتی ہیں۔وہ انہیں جھوٹ اور باطل بجھتی ہے اور ان سے متنفر ہو جاتی اور استہزاء اور حقارت سے پیش آتی ہے اور اس کی مخالفت پر اپنا سارا زور صرف