صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 467
صحيح البخاري - جلد 1 ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء خَاتَمُ النَّبِيِّينَ، وَلَا تَقُولُوا لَا نَبِيَّ بَعْدَه ۔ (مصنف ابن ابي شيبة، كتاب الأدب، باب من كره ان يقول لا نبي بعد النبی، جلد و صفحه ۱۰۹، ۱۱۰) یعنی یہ تو کہو کہ آپ خاتم النبیین ہیں اور یہ نہ کہو کہ آپ کے بعد کسی قسم کا نبی نہیں۔ الشیخ الاکبر فصوص الحکم میں فقرہ لا نَبَيَّ بَعْدِی کا مفہوم بایں الفاظ بیان کرتے ہیں: فَلَا نَبِيَّ بَعْدَهُ يَعْنِي مُشَرِّعًا ۔۔۔ یعنی آپ کے بعد صاحب شریعت نبی نہیں ۔ اَلَا أَنَّ اللَّهَ لَطِيفٌ بِعِبَادِهِ فَأَبْقَى لَهُمُ النُّبُوَّةَ الْعَامَّةَ الَّتِي لَا تَشْرِیعَ فِيهَا ۔ ہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر مہربانی فرمائی ہے اور ان کے لئے وہ عام نبوت باقی رکھی ہے جس میں تشریع نہیں ۔ (شرح فصوص الحكم، فص حكمة قدرية في كلمة عزيرة، صفحه ١٦٨،١٦٧) امام شعرانی کا بھی یہی قول ہے۔ آپ اپنی کتاب الیواقیت والجواہر جلد دوم صفحہ ۳۴۶ پر فرماتے ہیں: وَ قَوْلُهُ عَل فَلَا نَبِيَّ بَعْدِى وَلَا رَسُوْلَ الْمُرَادُ بِهِ لَا مُشَرِّعَ بَعْدِي۔ اليواقيت والجواهر، المبحث الثالث والثلاثون فى بيان بداية النبوة والرسالة) آپ کا یہ قول کہ میرے بعد نہ کوئی نبی ہوگا اور نہ رسول ۔ اس سے مراد یہ ہے کہ صاحب شریعت ( نبی ورسول ) نہیں ہوگا۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے اس بارے میں یہ الفاظ ہیں : خُتِمَ بِهِ النَّبِيُّونَ أَى لَا يُوجَدُ بَعْدَهُ مَنْ يَأْمُرُهُ اللَّهُ سُبْحَانَهُ بِالتَّشْرِيعِ عَلَى النَّاسِ“ (التفهيمات الإلهية، تفهيم ٥٤ ، جلد دوم صفحه ٨٥) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے تمام نبی ختم کر دیئے گئے ہیں۔ یعنی اب کوئی ایسا شخص نہیں ہوگا جسے اللہ سبحانہ نئی شریعت کا حکم دے۔ حضرت شیخ محی الدین ابن عربی پر ظاہر پرست علماء نے اسی بات پر کفر اور قتل کا فتویٰ دیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین کے بعد نبوت کا دروازہ کھلا مانا ہے بحالیکہ انہوں نے ختم نبوت کی جو تشریح کی ہے، اس سے آپ کی شریعت ہمیشہ کے لئے قائم رہتی ہے اور آپ کا فیضان بھی تا ابد جاری و ساری رہتا ہے۔ فرماتے ہیں: " فَإِنَّ النُّبُوَّةَ الَّتِي الْقَطَعَتْ بِوُجُودِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ إِنَّمَا هِيَ النُّبُوَّةُ التَّشْرِيعِ لَا مَقَامَهَا فَلَا شَرُعْ يَكُونُ نَاسِخًا لِشَرْعِهِ عَل وَلَا يَزِيدُ فِي حُكْمِهِ شَرْعًا آخَرَ وَهَذَا مَعْنَى قَوْلِهِ الله ۔ إِنَّ الرِّسَالَةَ وَالنُّبُوَّةَ قَدِ انْقَطَعَتْ فَلَا رَسُولَ بَعْدِى وَلَا نَبِيَّ أَى لَا نَبِيَّ بَعْدِي يَكُونُ عَلَى شَرْعٍ يُخَالِفُ شَرْعِي بَلْ إِذَا كَانَ يَكُونُ تَحْتَ حُكْمِ شَرِيعَتِي وَلَا رَسُولَ أَى لَا رَسُولَ بَعْدِي إِلَى أَحَدٍ مِنْ خَلْقٍ اللَّهِ بِشَرْعٍ يَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ فَهَذَا هُوَ الَّذِي انْقَطَعَ وَسُدَّ بَابُهُ لَا مَقَامُ النُّبُوَّةِ ۔ الفتوحات المكية، باب : في معرفة عدد ما يحصل من الأسرار للمشاهد عند المقابلة والانحراف، جزء ٢ صفحه ٦)