صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 466 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 466

صحيح البخاری جلد ۲ سام ۲۰ - کتاب احاديث الأنبياء یعنی نبوت مخلوق میں قیامت تک جاری و ساری رہے گی اگر چہ تشریع ختم ہو گئی ہے کیونکہ تشریح اجزاء نبوت میں سے ایک جزء ہے۔ اس لئے بھی کہ ناممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کے وجود سے متعلق خبر و اطلاع اس جہان سے موقوف ہو۔ وجہ یہ کہ سمندر ؟ اگر یہ خبر و اطلاع کٹ جائے تو اس جہان کی وہ غذا باقی نہ رہے گی جس کے ذریعہ سے وہ اپنے بقاء کی غذا حاصل کرتا ہے یعنی ایمان باللہ حاصل کرنے کا سلسلہ ختم ہو جائے گا جس سے اس کی زندگی قائم ہوتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے: کہو اگر میرے ربّ کے کلمات کے لئے سمندر روشنائی ہو جائے تو وہ مد رختم ہو جائے گا پیشر اس کے کہ میرے ربّ کے کلمات ات ختم ختم ہوں ہوں خواہ خواہ ویسے ویسے ، ہی سمندر پھر اور روشنائی ہم لے آئیں۔ ( نیز فرماتا ہے :) اور اگر زمین میں جتنے درخت ہیں وہ وہ قلمیں نا ں : ہوں اور سمندران یران - کے لئے روشنائی۔ اس کے علاوہ سات سمندر اور روشنائی بن جائیں، کلمات الہیہ ختم نہ ہوں گے۔ اور اللہ یہ بھی بتا چکا ہے کہ جس شئے کے وجود میں لانے کا وہ ارادہ کرے، اس کے لئے صرف یہی فرماتا ہے: ہو جا (اور وہ ہو جاتی ہے۔) غرض کلمات الہیہ منقطع نہیں ہوتے اور وہ تمام مخلوقات کی عام غذا ہیں اور یہ غذا اجزاء نبوت میں سے ایک جزء ہے جو ختم نہیں ہوتی ۔ نبوت کے جو باقی اجزاء ہیں جن کا تعلق کلمہ کُن سے ہے اور غیر محدود سلسلہ کلام و کلمات اللہ ہے تمہارا کیا خیال ہے کہ وہ ختم ہو سکتا ہے۔ اور اسی تعلق میں فرماتے ہیں: " وَأَمَّا النُّبُوَّةُ العَامَّةُ فَأَجْزَاءُهَا لَا تَنْحَصِرُ وَلَا يُضْبِطُهَا عَدَدٌ فَإِنَّهَا غَيْرُ مُؤَقَّتَةٍ لَّهَا الْإِسْتِمْرَارُ دَائِمًا دُنْيَا وَآخِرَةً، وَهَذِهِ مَسْئَلَةٌ أَغْفَلَهَا أَهْلُ طَرِيقِنَا فَلَا أَدْرِي عَنْ قَصْدٍ مِّنْهُمْ كَانَ ذَلِكَ أَوْ لَمْ يُوَقِّفُهُمُ اللَّهُ عَلَيْهَا أَوْ ذَكَرُوهَا وَمَا وَصَلَ ذَلِكَ الذِّكْرُ إِلَيْنَا ۔“ الفتوحات المكية، باب ۷۳ ، السؤال الثالث والثمانون: ما النبوة، جزء ۲ صفحه ۸۹) یعنی نبوت عامہ (یعنی غیر تشریعی مکالمہ و مخاطبہ الہیہ ) جو ہے تو اس کی جزئیات بے حساب ہیں اور گنتی سے ض اور گنتی سے ضبط شمار میں نہیں آسکتیں کیونکہ وہ کسی وقت سے مخصوص نہیں وہ ہمیشہ ہمیش ہیں دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ ہمارے اہل طریقت ( مشائخ ) نے اس مسئلہ سے غفلت برتی ہے۔ میں نہیں جانتا کہ ان سے یہ غفلت قصدا ہوئی ہے یا انہیں اس ( نبوت عامہ یعنی مکالمہ و مخاطبہ الہیہ ) کی توفیق نہیں ملی یا انہوں نے اس کا ذکر کیا ہے اور یہ ذکر ہم تک نہیں پہنچا۔ حضرت محی الدین ابن عربی شیخ اکبر نے اس قسم کی نبوت غیر شرعی یعنی مکالمہ و مخاطبہ الہیہ کے امت محمدیہ میں ہمیشہ جاری رہنے کی نسبت اپنی مشہور و معروف تصنیف فتوحات مکیہ میں کئی جگہوں میں بار بار ذکر فرمایا ہے۔ اس مسئلہ اجراء نبوت میں وہ یا مجددالف ثانی رحمۃ اللہ علیہ ہی منفرد نہیں بلکہ بلا مبالغہ تمام اولیاء ربانی و مقربین بارگاہ الہی اور عارفین باللہ مثل امام شعرانی، جلال الدین رومی، شیخ عبدالقادر جیلانی، سید عبدالکریم جیلانی اور شاہ ولی اللہ محدث رحمہم اللہ اجمعین اس بارے میں متفق ہیں بلکہ بعض صحابہ کرام بعض صحابہ کرام سے بھی یہی عقیدہ مروی ہے۔ مثلاً حضرت عائشہ رض اہے۔ مثلاً حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول ہے : قُولُوا