صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 465
صحيح البخاری جلد 4 ۴۶۵ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء " وَهُوَ الصَّادِقُ فِي قَوْلِهِ إِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ فَعَلِمْنَا قَطعًا أَنَّهُ يُرِيدُ التَّشْرِيعَ خَاصَّةً۔۔۔۔فَالنُّبُوَّةُ مَقَامٌ عِندَ اللهِ يَنَالُهُ الْبَشَرُ وَهُوَ مُخْتَصُّ بِالْأَكَابِرٍ مِنَ الْبَشَرِ يُعْطَى لِلنَّبِيِّ الْمُشَرَّعِ وَيُعْطَى لِلتَّابِعِ لِهَذَا النَّبِيِّ الْمُشَرَّعِ الْجَارِى عَلَى سُنَّتِهِ۔“ (الفتوحات المكية، باب : في معرفة عدد ما يحصل من الأسرار للمشاهد عند المقابلة والانحراف، جزء ۲ صفحه٦) یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اس قول میں راستباز ہیں کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔سو ہمیں قطعی طور پر اس سے علم ہو گیا کہ آپ کی مراد تشریع ( یعنی شریعت والی نبوت) ہے۔کیونکہ نبوت اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک مقام ہے جو انسان کو حاصل ہوتا ہے اور یہ مقام مخصوص ہے، انسانوں میں سے بزرگوں کے لئے۔شرعی نبی کو بھی عطا کیا جاتا ہے اور اس شرعی نبی کے تابع کو بھی جو اس کے طریق پر چلنے والا ہو۔پھر اپنی اسی کتاب میں فرماتے ہیں: فَمَا ارْتَفَعَتِ النُّبُوَّةَ بِالْكُلِيَّةِ وَلِهَذَا قُلْنَا إِنَّمَا ارْتَفَعَتْ نُبُوَّةُ التَّشْرِيعِ فَهَذَا مَعْنَى لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ۔۔۔۔۔فَعَلِمُنَا أَنَّ قَوْلَهُ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ أَى لَا مُشَرِّعَ خَاصَّةً لَا أَنَّهُ لَا يَكُونُ بَعْدَهُ نَبِيٍّ۔(الفتوحات المكية، باب ۷۳ ، السؤال الخامس والعشرون ما بدء الوحي، جزء ۲ صفحه ٥٩) غرض نبوت کلی طور پر نہیں اُٹھ گئی بلکہ صرف نبوت شرعی اٹھی ہے ( بوجہ تکمیل شریعت - ) لانبی بعدہ کا یہی مفہوم ہے کہ شریعت والا نبی اب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہیں ہوگا۔اس سے ہمیں علم ہو گیا کہ آپ کے قول لا نبی بعدی سے مراد یہ ہے کہ خاص کر صاحب شریعت نبی آپ کے بعد نہیں ہوگا، نہ یہ مراد ہے کہ ( کسی قسم کا کوئی نبی نہیں ہو گا۔اور صفحہ ۸۹ پر یہی مضمون تفصیل سے ان الفاظ میں مدلل بیان کیا گیا ہے: " فَالنُّبُوَّةُ سَارِيَةٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ فِى الْخَلْقِ وَإِنْ كَانَ التَّشْرِيعُ قَدِ انْقَطَعَ فَالتَشْرِيعُ جُزْءً مِنْ أَجْزَاءِ النُّبُوَّةِ، فَإِنَّهُ يَسْتَحِيلُ أَنْ يُنْقَطِعَ خَبُرُ اللَّهِ وَإِخْبَارُهُ مِنَ الْعَالَمِ، إِذْ لَوِ انْقَطَعَ لَمْ يَبْقَ لِلْعَالَم غِذَاءً يَتَغَذَّى بِهِ فِي بَقَاءِ وُجُودِهِ قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَاتِ رَبِّي۔۔۔(الكهف: ١٠٩) وَلَوْ أَنَّمَا فِي الْأَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ أَقْلَام (لقمان: ۲۷) وَقَدْ أَخْبَرَ اللَّهُ أَنَّهُ مَا مِنْ شَيْءٍ يُرِيدُ إِيجَادَهُ إِلَّا يَقُولُ لَهُ كُنْ (النحل: ٤٠) فَهَذِهِ كَلِمَاتُ اللهِ لَا تَنْقَطِعُ وَهِيَ الْغِذَاءُ الْعَامُ لِجَمِيعِ الْمَوْجُودَاتِ، فَهَذَا جُزْءٌ وَّاحِدٌ مِنْ أَجْزَاءِ النُّبُوَّةِ لَا يَنْفَدُ فَأَيْنَ أَنْتَ مِنْ بَاقِيَ الْأَجْزَاءِ الَّتِي لَهَا۔“ الفتوحات المكية، باب ۷۳ السؤال الثانى والثمانون : كم أجزاء النبوة، جزء ۲ صفحه ۸۹)