صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 464 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 464

صحيح البخاری جلد ۲ سلام سلام ۲۰ - کتاب احاديث الأنبياء وہاں آنحضرت ﷺ کا یہ قول بھی نقل کیا ہے کہ انبیاء علیہم السلام بھی ایک دوسرے کے ہم مشرب ومثیل ہوتے ہیں۔ الْأَنْبِيَاءُ اِخْوَةٌ لِعَلَاتٍ أُمَّهَاتُهُمْ شَتَّى وَدِينُهُمْ وَاحِدٌ) اور فرمایا أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِابْنِ مَرْيَمَ یعنی ابن مریم سے میرا زیادہ تعلق ہے۔ (روایات نمبر ۳۴۴۳٬۳۴۴۲) اور قرآن مجید میں آپ کو مثیل موسیٰ قرار دیا گیا ہے۔ (المزمل : ۱۶) ابن مریم سے اپنے زیادہ تعلق کے ضمن میں آپ نے فرمایا ہے: لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِيٌّ ( روایت نمبر ۳۴۴۲) میرے اور ابن مریم کے درمیان کوئی نبی نہیں یعنی آپ کے خلفاء میں سے ابن مریم کا سر صلیب کے سوا کوئی نبی نہیں۔ اس سے ذہن اسرائیلی عیسی بن مریم والے مسیح کی طرف تو جا سکتا ہے لیکن اس کے ساتھ وفات مسیح ابن مریم ، اختلاف حلیہ اور مماثلت انبیاء سے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اللہ علیہ وسلم کے ارشادات نظر انداز نہیں ہونے چاہئیں اور یہ واضح ارشاد بھی یں اور یہ واضح ارشاد بھی نظر انداز نہیں ہونا چاہیے کہ نازل ہونے والے کا سر صلیب ابن مریم کی پیشگوئی میں آپ نے صراحت فرمائی ہے وَإِمَامُكُمْ مِنْكُمْ کہ تمہارے امام ( راہنما) تم میں سے ہوں گے اور قرآن مجید کا یہ ارشاد بھی کہ مومن اپنے روحانی ارتقاء کے اعتبار سے مثیل مریم بن جاتے ہیں اور اس مماثلت میں یہ صراحت بھی ہے کہ جس طرح حضرت مریم علیہا السلام میں روح القدس کا نفخ ہوا، مومنوں کو بھی ہو سکتا ہے۔ قارئین ان تمام باتوں پر غور کریں کہ امام بخاری کا ان مختلف احادیث کو اس باب کے تحت اکٹھا کرنے سے کیا غرض ہے جس کا عنوان ہے: وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ مَرْيَمَ إِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ أَهْلِهَا ارشادِ نبوی لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِيٌّ يَا لَا نَبِيَّ بَعْدِی کے تعلق میں مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کا یہ قول بھی مد نظر رہے جو مکتوبات میں مذکور ہے جس کا ترجمہ بالفاظ ابوالفضل محمد احسان اللہ گورکھپوری یہ ہے: ولی کا کمال نبی کے طفیل میں ہے۔ اگر ولی کو کوئی جزوی فضل یا درجہ حاصل ہو جو نبی کو حاصل نہ تھا تو نبی کو بھی اس جزوی فضل یا درجہ کا حصہ ملتا ہے کیونکہ ولی کا وہ کمال نبی کی متابعت و پیروی سنت کا نتیجہ ہے۔ ولی کی ولایت نبی کی ولایت کا جزو ہے۔ جزو کتنا بڑھے پھر بھی گل سے چھوٹا ہی رہے گا۔ اور اس سے پہلے فرماتے ہیں: و اصلان ذات جب انتہاء تک پہنچتے ہیں تو دعوت خلق کے لئے ان کا واپس ہونا لازم ہوتا ہے، برخلاف اس کے متوسطین ( درمیانہ درجے کے واصلین ) کے لئے واپسی لازم نہیں۔ یہ علم بھی میرا مخصوص ہے۔ دراصل ان کا یہ مخصوص علم مومنین کے اس ارتقاء روحانی ہی کی شرح ہے جن میں ان کے مقام صدیقیت کی وجہ سے مریم صدیقہ علیہا السلام - علیہا السلام سے مشابہت دے کر ان سے شیخ روحا ف روحانی کا وعدہ کیا گیا ہے جو مقام عیسویت و جو مقام عیسویت و نبوت ہے۔ چنانچہ الشیخ الاکبر حی الدین ابن العربی بھی لا نَبِيَّ بَعْدِی کے تعلق میں مذکورہ بالا قول کے ہم معنی فرماتے ہیں: