صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 464
صحيح البخاری جلد 4 ۶۰ - كتاب احاديث الأنبياء وہاں آنحضرت ﷺ کا یہ قول بھی نقل کیا ہے کہ انبیاء علیہم السلام بھی ایک دوسرے کے ہم مشرب ومثیل ہوتے ہیں۔الأنْبِيَاءُ اِخْوَةٌ لِعَلَاتِ أُمَّهَاتُهُمْ شَتَّى وَدِيْنُهُمْ وَاحِدٌ) اور فرمایا اَنَا اَوْلَى النَّاسِ بِابْنِ مَرْيَمَ یعنی ابن مریم سے میرا زیادہ تعلق ہے۔( روایات نمبر ۳۴۴۳،۳۴۴۲) اور قرآن مجید میں آپ کو مثیل موسیٰ قرار دیا گیا ہے۔(المزمل : ۱۶) ابن مریم سے اپنے زیادہ تعلق کے ضمن میں آپ نے فرمایا ہے: لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِيٌّ ( روایت نمبر ۳۴۴۲) میرے اور ابن مریم کے درمیان کوئی نبی نہیں یعنی آپ کے خلفاء میں سے ابن مریم کا سر صلیب کے سوا کوئی نبی نہیں۔اس سے ذہن اسرائیلی عیسی بن مریم والے مسیح کی طرف تو جاسکتا ہے لیکن اس کے ساتھ وفات مسیح ابن مریم ، اختلاف حلیہ اور مماثلت انبیاء سے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات نظر انداز نہیں ہونے چاہئیں اور یہ واضح ارشاد بھی نظر انداز نہیں ہونا چاہیے کہ نازل ہونے والے کا سر صلیب ابن مریم کی پیشگوئی میں آپ نے صراحت فرمائی ہے وَاِمَامُكُمْ مِنْكُمْ کہ تمہارے امام ( راہنما) تم میں سے ہوں گے اور قرآن مجید کا یہ ارشاد بھی کہ مومن اپنے روحانی ارتقاء کے اعتبار سے مثیل مریم بن جاتے ہیں اور اس مماثلت میں یہ صراحت بھی ہے کہ جس طرح حضرت مریم علیہا السلام میں روح القدس کا نفخ ہوا، مومنوں کو بھی ہو سکتا ہے۔قارئین ان تمام باتوں پر غور کریں کہ امام بخاری کا ان مختلف احادیث کو اس باب کے تحت اکٹھا کرنے سے کیا غرض ہے جس کا عنوان ہے: وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ مَرْيَمَ إِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ أَهْلِهَا۔ارشادِ يوى لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِيٍّ يا لا نبی بعدی کے تعلق میں مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ کا یہ قول بھی مد نظر ر ہے جو مکتوبات میں مذکور ہے جس کا ترجمہ بالفاظ ابو الفضل محمد احسان اللہ گورکھپوری یہ ہے: ولی کا کمال نبی کے طفیل میں ہے۔اگر ولی کو کوئی جزوی فضل یا درجہ حاصل ہو جو نبی کو حاصل نہ تھا تو نبی کو بھی اس جزوی فضل یا درجہ کا حصہ ملتا ہے کیونکہ ولی کا وہ کمال نبی کی متابعت و پیروئی سنت کا نتیجہ ہے۔ولی کی ولایت نبی کی ولایت کا جزو ہے۔جز و کتنا بڑھے پھر بھی گل سے چھوٹا ہی رہے گا۔اور اس سے پہلے فرماتے ہیں: واصلان ذات جب انتہاء تک پہنچتے ہیں تو دعوت خلق کے لئے ان کا واپس ہونا لازم ہوتا ہے، برخلاف اس کے متوسطین ( درمیانہ درجے کے واصلین ) کے لئے واپسی لازم نہیں۔ی علم بھی میرا مخصوص ہے۔دراصل ان کا یہ مخصوص علم مومنین کے اس ارتقاء روحانی ہی کی شرح ہے جن میں ان کے مقام صدیقیت کی وجہ سے مریم صدیقہ علیہا السلام سے مشابہت دے کر ان سے نفخ روحانی کا وعدہ کیا گیا ہے جو مقام عیسویت و نبوت ہے۔چنانچہ الشیخ الاکبر محی الدین ابن العربی بھی لا نبی بعدی کے تعلق میں مذکورہ بالا قول کے ہم معنی فرماتے ہیں: