صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 463 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 463

صحيح البخاری جلد 4 ۶۳ سوم ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء امام ابن حجر نے اس عنوان کے تعلق میں توجہ دلائی ہے کہ اس کے تحت کوئی مستند روایت درج نہیں کی گئی کیونکہ اصحاب الکہف کے تعلق میں جن کا ذکر اس سورۃ میں ہے کوئی مستند حدیث مروی نہیں جس پر وثوق سے اعتماد کیا جاسکے۔امام ابن حجر نے حضرت ابن عباس کی جس روایت کا حوالہ دیا ہے وہ عبد بن حمید سے مروی ہے اور غیر مرفوع ہے۔اسی طرح اصحاب الکہف کے تعلق میں تفسیر ابن ابی حاتم کی روایت بابت شہر بن حوشب اور حضرت ابن عباس کے حوالہ سے دقیانوس نامی بادشاہ اور اصحاب الکہف کے ناموں مسلیمنا بخشیشا تملیخا ، مرطونس، کنشطونس، بیرونس اور دینموس۔اور حسن کے حوالہ سے ان کے کتے کا نام قطمیر تھا۔کتے اور سکے کی شکل و رنگ تک بتایا گیا ہے۔(فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۶۱۷، ۶۱۸) یہ روایتیں کمزور ہیں، اس لئے حضرت امام بخاری نے انہیں نظر انداز کیا ہے اور جہاں تک اصحاب کہف و رقیم کا تعلق ہے ان کے بارے میں محولہ آیات پر ہی اکتفا کیا گیا ہے۔امام ابن حجر نے اس تعلق میں جامع صحیح بخاری کی کتاب التفسیر کی طرف توجہ دلائی ہے لیکن اس میں بھی مذکورہ بالا روایتوں کا ذکر نہیں۔البتہ محولہ بالا الفاظ کی شرح میں بروایت سعید بن جبیر حضرت ابن عباس کے حوالہ سے رقیم کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ سیسے کی تختی تھی جس پر اصحاب کہف کے نام کندہ تھے۔(دیکھئے کتاب تفسير القرآن، سورة الكهف) امام بخاری کے مخصوص تصرفات میں سے ان کا یہ عمل قابل غور ہے کہ مماثلت یہود و نصاریٰ کے تعلق میں باب ۴۸ کے بعد متعدد عنوان جدا جدا قائم کرنے سے ان کا کیا مقصد ہے؟ اس طرف شارحین نے توجہ نہیں کی۔قارئین کرام کو چاہیے کہ جس مماثلت یہود و نصاری سے ڈرایا گیا ہے اور آخری مرض الموت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس بارے میں اپنی امت کی نسبت سخت گھبراہٹ میں تھے، اس تعلق میں غور کریں کہ مندرجہ ذیل امور کا باہمی تعلق کیا ہے؟ اول: باب ۴۸ کے ضمن میں مسیح ابن مریم علیہ السلام کے حلیہ اور نازل ہونے والے مسیح ابن مریم کے حلیے کا الگ الگ بیان اور ان کا اختلاف۔ایک سرخ رنگ (أَحْمَرُ ) ، گھنگریالے بال والا ( جـعـد ) ، اور چوڑے سینے والا ( عَرِيضُ الصَّدْرِ )۔اور اس مسیح بن مریم کا حلیہ بیان کرتے وقت حضرت موسیٰ علیہ السلام کا حلیہ بھی بیان کیا گیا ہے جس سے اسرائیلی مسیح ابن مریم کی شخصیت متعین ہوتی ہے اور بیت اللہ کا طواف کرنے والے مسیح ابن مریم کا حلیہ گندم گوں (آدم) ، نہایت خوبصورت (كَأَحْسَنِ مَا يُرَى ) ، سیدھے بال (تَضْرِبُ لِمَّتُهُ بَيْنَ مَنْكِبَيْهِ ) - لِمَّةٌ سر کے سیدھے بالوں کو کہتے ہیں جو کانوں کو چھوئیں۔لِم‎ کی قسم کے بال جَعْدَة ( گھنگریالے) بالوں سے بالکل مختلف ہوتے ہیں۔مسیح ابن مریم نام در اصل وصفی نام ہے اور عیسی نام علم ( خاص نام ) ہے۔حلیے کا اختلاف جو احادیث میں مذکور ہے قابل غور ہے کیونکہ اس اختلاف سے ایک لقب کے دو الگ الگ شخص معلوم ہوتے ہیں۔ایک اسرائیلی مسیح اور دوسرا بیت اللہ کا طواف کرنے والا سیح۔(دیکھئے روایات نمبر ۳۴۴۰،۳۴۳۸) دوم: امام بخاری نے جہاں مسلمانوں کا یہود و نصاری سے مشابہت اختیار کرنے کی حدیث نبوی کا ذکر کیا ہے،