صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 462
صحيح البخاری جلد ۲ ٢٠ - کتاب احاديث الأنبياء مفہوم حضرت ابن عباس سے مروی ہے۔ الضَّرْبُ عَلَى الْأَذَانِ استعارہ ہے اور اس سے یہ مراد ہے کہ بیرونی دنیا سے منقطع ہو گئے۔ نہ دنیا کی خبریں انہیں ملیں اور نہ ان کی بیرونی دنیا کو۔ سونے کا مفہوم بھی یہی ہے ۔ پوری آیت مع ترجمہ او پر درج ہو چکی ہے۔ رَجْمًا بِالْغَيْبِ کے معنی ہیں لَمْ يَسْتَبِنُ اس نے وضاحت نہ کرائی ۔ حقیقت پورے طور پر معلوم نہ کی ۔ قَذفًا بِالظَّنِّ یعنی خیال سے بات ہانک لی۔ اٹکل پچو سے بات کی۔ رَجْمًا بِالْغَيْبِ کے یہ معنے قتادہ نے کئے ہیں اور ابو عبیدہ نے کہا کہ رجم وہ بات ہے جو یقین سے نہ ہو بلکہ خیال سے کہی جائے ۔ انہی معنوں میں شاعر کا یہ قول ہے: وَمَا الْحَرْبُ إِلَّا مَا عَلِمْتُمْ وَذُقْتُمْ وَمَا هُوَ عَنْهَا بِالْحَدِيثِ الْمُرَّجَمِ ( فتح الباری جزء ۶ صفحه ۶۱۷ ) یعنی جنگ تو وہ ہے جس کا تمہیں علم ہو چکا ہے اور تم چکھ چکے ہو اور وہ ایسی بات نہیں جو محض خیال سے ہو کہ یوں کر دیں گے، دوں کر دیں گے۔ پوری آیت یہ ہے : سَيَقُولُونَ ثَلَاثَةٌ رَّابِعُهُمْ كَلْبُهُمْ وَيَقُولُونَ خَمْسَةٌ سَادِسُهُمْ كَلْبُهُمْ رَجْمًا بِالْغَيْبِ وَيَقُولُونَ سَبْعَةٌ وَثَامِنُهُمْ كَلْبُهُمْ قُلْ رَبِّي أَعْلَمُ بِعِدَّتِهِمْ مَّا يَعْلَمُهُمْ إِلَّا قَلِيلٌ * فَلَا تُمَارِ فِيهِمْ إِلَّا مِرَاءً ظَاهِرًا وَلَا تَسْتَفْتِ فِيهِمْ مِّنْهُمْ أَحَدًا (الكهف : (۲۳) ترجمہ: وہ ( لوگ جو حقیقت حال سے بے خبر ہیں ضرور ) غیب کے متعلق انکل کچھ باتیں کرتے ہوئے (کبھی) کہیں گے (کہ وہ صرف ) تین ( آدمی ) تھے جن کے ساتھ چوتھا اُن کا کتا تھا اور (کبھی یہ ) کہیں گے ( کہ وہ) پانچ تھے جن کے ساتھ چھٹا اُن کا کتا تھا اور (ان میں سے بعض یوں بھی کہیں گے (کہ وہ) سات تھے اور ان کے ساتھ آٹھواں ان کا کتا تھا۔ تو (انہیں) کہہ (کہ) ان کی (صحیح) گفتی کو اللہ (ہی) بہتر جانتا ہے ( اور ) تھوڑے لوگوں کے سوا انہیں کوئی نہیں جانتا۔ پس تو اُن کے متعلق مضبوط بحث ط ط کے سوا کوئی بحث نہ کر اور ان کے بارہ میں ان میں سے کسی سے حقیقت حال دریافت نہ کر۔ (ترجمه از تفسیر صغیر) وَقَالَ مُجَاهِدٌ تَقْرِضُهُمْ تَتْرُكُهُمْ: مجاہد نے کہا ہے کہ تَقْرِضُهُمْ کے معنے ہیں سورج انہیں ایک طرف چھوڑ دیتا ہے۔ پوری آیت یہ ہے: وَتَرَى الشَّمْسَ إِذَا طَلَعَتْ تَزَاوَرُ عَنْ كَهْفِهِمْ ذَاتَ الْيَمِينِ وَإِذَا غَرَبَتْ تَقْرِضُهُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ وَهُمْ فِي فَجْوَةٍ مِنْهُ * ذَلِكَ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ مَنْ يَّهْدِ اللَّهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُ وَلِيًّا مُرْشِدًا ( الكهف : (۱۸) ترجمہ آیت یوں ہے : اور (اے مخاطب !) تو سورج کو دیکھتا ہے کہ جب وہ چڑھتا ہے تو ان کی وسیع جائے پناہ سے دائیں طرف کو ہٹ کر گذرتا ہے اور جب وہ ڈوبتا ہے تو ان سے بائیں طرف کو ہٹ کر گذرتا ہے اور وہ اس غار کے اندر ایک فراخ جگہ میں ( رہتے) تھے۔ یہ بات اللہ ( کی نصرت ) کے نشانوں میں سے (ایک نشان) ہے، جسے اللہ ( ہدایت کا راستہ دکھائے وہی ہدایت پر ہوتا ہے اور جسے وہ گمراہ کرے، اس کا تو (کبھی) کوئی دوست ( اور ) رہنما نہیں پائے گا۔ (ترجمہ از تفسیر صغیر )