صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 461 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 461

۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء حيح البخاری جلد 4 وَصِید کے معنی دہلیز کے بھی ہوتے ہیں۔اس سورۃ میں آتا ہے: كَلْبُهُمْ بَاسِطٌ ذِرَاعَيْهِ بِالْوَصِيْدِ (الكهف :١٩) کہ اصحاب کہف کا کتا ( بھی ان کے ساتھ ساتھ ) صحن کی دہلیز پر ہاتھ پھیلائے (موجود) رہے گا۔کہتے ہیں: أَصَدَ الْبَابَ وَأَوْصَدَ اس نے دروازہ بند کر دیا۔امام ابن حجر کا خیال ہے کہ امام بخاری نے مصدر ایصاد کی یہ گردان اشتقاق وَصِید بتانے کی غرض سے ضمناً ذکر کی ہے۔(فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۶۱۷) بَعَثْنَاهُمْ کے معنی ہیں أَحْيَيْنَاهُمُ ہم نے انہیں ترقی دی۔اس سے سورۃ الکہف کی مندرجہ ذیل آیات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔فرماتا ہے: فَضَرَبْنَا عَلَى اذَانِهِمْ فِى الْكَهْفِ سِنِينَ عَدَدًانِ ثُمَّ بَعَثْهُمْ لِنَعْلَمَ أَيُّ الْحِزْبَيْنِ أَحْصَى لِمَا لَبِثُوا أَمَدًان (الكهف : ۱۳:۱۲) ان آیات کا ترجمہ یوں ہے : جس پر ہم نے اس وسیع غار میں چند گنتی کے سالوں کے لئے انہیں ( بیرونی حالات کے ) سننے سے محروم کر دیا۔پھر ہم نے انہیں اُٹھایا تا کہ ہم جان لیں کہ جتنی مدت وہ (وہاں) ٹھہرے رہے تھے، اسے (مسیح کے متبع ) دونوں گروہوں میں سے زیادہ محفوظ رکھنے والا کون گروہ ہے۔ازگی کے معنے ہیں أَكْثَرُ رَبعًا غذائیت و نفع رسانی کے لحاظ سے کونسا شہر اچھا اور زیادہ غلہ پیدا کرتا ہے۔ابوعبیدہ نے یہ مفہوم بیان کیا ہے اور اس کی تائید میں شاعر کا یہ قول نقل کیا ہے: قَبَائِلُنَا سَبْعٌ وَأَنتُمْ ثَلَاثَةٌ وَلَلسَّبُعُ أَزْكَى مِنْ ثَلَاثٍ وَأَطْيَبُ یعنی ہمارے سات قبیلے ہیں اور تم تین ہو اور یقینا سات قبیلوں کی تعداد تین سے زیادہ ہے اور اچھی ہے قارہ سے أَزْكَى طَعَامًا کے معنی خَيْرُ طَعَامًا مروی ہیں۔(فتح الباری جزء ۶ صفحه ۶۱۷) أَزْكَى طَعَامًا سے اس آیت کی طرف توجہ دلائی ہے: وَ كَذلِكَ بَعْتُهُمْ لِيَتَسَاءَلُوا بَيْنَهُمْ قَالَ قَائِلٌ مِّنْهُمْ كَمْ لَبِثْتُمْ قَالُوا لَبِثْنَا يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ قَالُوا رَبَّكُمْ أَعْلَمُ بِمَا لَبِثْتُمْ فَابْعَثُوا أَحَدَكُمْ بِوَرِقِكُمْ هَذِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ فَلْيَنظُرُ أَيُّهَا أَزْكَى طَعَامًا فَلْيَأْتِكُمْ بِرِزْقٍ مِنْهُ وَلْيَتَلَطَّفْ وَلَا يُشْعِرَنَّ بِكُمُ أَحَدًا 0 (الكهف : ۲۰) اور اسی طرح ہم نے انہیں ( بیکسی کی حالت سے ) اُٹھایا۔اس پر وہ آپس میں (حیرت سے) ایک دوسرے سے سوال کرنے لگے ( اور ) ان میں سے ایک کہنے لگا (کہ) تم یہاں کتنی دیر ٹھہرے رہے ہو۔( جو اس کے مخاطب تھے ) انہوں نے کہا ( کہ ) ہم ایک دن یا دن کا کچھ حصہ ٹھہرے ہیں۔(تب) انہوں نے (یعنی دوسروں نے ) کہا (کہ) جو ( عرصہ ) تم ( یہاں) ٹھہرے رہے ہو ، اُسے تمہارا رب (ہی) بہتر جانتا ہے۔پس اس بحث کو چھوڑو اور ) اپنے یہ پرانے سکے دے کر اپنے میں سے کسی ایک کو اس شہر کی طرف بھیجو۔وہ ( جا کر) دیکھے کہ اس (شہر) میں سے کس کا غلہ سب سے اچھا ہے۔پھر (جس کا غلہ سب سے اچھا ہو ) اس سے کچھ کھانے کا سامان لے آئے اور وہ ہوشیاری سے (لوگوں کی ) راز کی باتیں معلوم کرنے کی کوشش کرے اور تمہارے متعلق کسی کو ہر گز (کوئی) علم نہ ہونے دے۔(ترجمہ از تفسیر صغیر) فَضَرَبَ اللهُ عَلَى آذَانِهِمْ فَنَامُوا : اس کے معنے ہیں ان کے کانوں پر تھپکی دی تو وہ سو گئے۔اس آیت کا یہ