صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 460
صحيح البخاری جلد 4 ۴۶۰ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء اگر عین ضرورت کی گھڑی میں کوئی مدعی ہو جس کے ہاتھوں سے کسر صلیب کی داغ بیل ڈالی گئی ہو تو ایسے مدعی کا ساتھ دینا ہر حب رسول کا دعویٰ کرنے والے کا فرض اولین ہے کہ اس کی آواز پر متوجہ ہو۔احیائے امت کا کام جنتر منتر سے نہیں ہوسکتا کہ پھونک مارنے سے ہو جائے بلکہ اس کے لئے عقل درکار ہے اور ایمان باللہ اور خشیت اللہ۔جس طریق سے ایسی نہیں انجام پاتی رہی ہیں اب بھی اسی طریق سے یہ ہم انجام پائے گی۔انشاء اللہ تعالی۔گھف کے معنی ہیں غار جو پہاڑ میں ہوتی ہے۔رقیم کے معنی ہیں الْكِتَاب - كِتَابٌ مَّرْقُوم کے معنی ہیں لکھی ہوئی تحریر۔رقم سے اسم مفعول ہے رقیم بمعنی کتاب۔حضرت ابن عباس سے بواسطہ علی بن ابی طلحہ مروی ہیں۔اور مَّرْقُوم سے اشارہ آیت وَمَا أَدْرَكَ مَا سِجَيْنُ كِتَابٌ مَّرْقُومٌ وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِلْمُكَذِّبِينَ الَّذِينَ يُكَذِّبُونَ بِيَوْمِ الدِّينِ (المطففين: ۹ تا ۱۲) کی طرف اشارہ ہے۔ترجمہ: اور تجھے کس نے بتایا ہے کہ محبین کیا ہے؟ وہ ایسا حکم ہے جو ( ازل سے ) لکھا ہوا ہے۔اس دن جھٹلانے والوں کے لئے عذاب ہی عذاب ) ہوگا۔ان (ایسے جھٹلانے والوں) کے لئے جو جزا سزا کے دن کا انکار کرتے ہیں۔(ترجمہ از تفسیر صغیر) رَبَطْنَا عَلَى قُلُوبِهِمْ کے معنی ہیں الْهَمْنَاهُمُ صَبرًا یعنی ہم نے ان کے دل میں صبر ڈالا۔اسی آیت میں ہے: لَقَدْ قُلْنَا إِذًا شَطَطًا (الكهف : (۱۵) شَطَطًا کے معنی ہیں اِفرَاطًا یعنی جور وغلو، حد سے بڑھی ہوئی بات۔یہ معنے ابو عبیدہ سے مروی ہیں اور طبری سے کذب کے معنے مروی ہیں۔دونوں معنے ہی ہو سکتے ہیں۔حد سے گذرنے کے معنوں میں امام ابن حجر نے یہ شعر نقل کیا ہے: أَلَا يَا لَقَوْمِنْ قَدْ اَشَطْتُ عَوَاذِلِي وَيَزْعُمْنَ أَنْ أَوْدَى بِحَقِّيَ بَاطِلِي (فتح الباری جزء ۶ صفحه ۶۱۶ ) دیکھ اے میری قوم! میری ملامت کرنے والیاں حد سے بڑھ گئی ہیں اور خیال کرتی ہیں کہ میں اپنا حق یونہی ضائع کر دوں گا۔مذکورہ بالا آیت مکمل طور پر یوں ہے: وَرَبَطْنَا عَلَى قُلُوبِهِمْ إِذْ قَامُوا فَقَالُوا رَبُّنَا رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ لَنْ نَّدْعُوَاْ مِنْ دُونِهِ إِلَهَا لَقَدْ قُلْنَا إِذًا شَطَطًا ه (الكهف : ۱۵) ترجمہ آیت یہ ہے: اور جب وہ (اپنے وطن سے نکلنے کے لئے ) اُٹھے تو ہم نے ان کے دلوں کو مضبوط کر دیا۔تب انہوں نے ایک دوسرے سے ) کہا ( کہ ) ہمارا رب ( وہ ہے جو ) آسمانوں اور زمین کا ( بھی ) ربّ ہے۔ہم اس کے سوا کسی اور معبود کو ہر گز (کبھی) نہیں پکاریں گے۔ورنہ ہم ایک حق سے دور بات کہنے والے ہوں گے۔(ترجمہ از تفسیر صغیر) الْوَصِيْدُ کے معنے ہیں الْفِناء آنگن۔اس کی جمع وَصَائِد اور وصد آتی ہے۔یہ معنی ابن ابی حاتم اور ابن جریر نے بواسطہ سعید بن جریر حضرت ابن عباس سے نقل کئے ہیں۔(فتح الباری جزء 4 صفحہ ۶۱۶ ) وصید کے معنی دروازہ کے بھی کئے جاتے ہیں اور مُوصَدَة کے معنی ہیں مُطْبَقَة بند کی ہوئی۔قرآنِ مجید ہی میں آتا ہے: عَلَيْهِمْ نَارٌ مُؤْصَدَةٌ (البلد : ۳۱) یعنی ان کو ایسی آگ کا عذاب ملے گا جو بند کی ہوئی یعنی سخت تیز ہوگی۔