صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 459
صحيح البخاری جلد 4 ۴۵۹ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء کہ مسلمان مایوس نہ ہوں۔کیونکہ مایوس وہی ہوتا ہے جو رحمت ایزدی سے محروم ہو۔إِنَّهُ لَا يَبْتَسُ مِنْ رَّوْحِ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْكَافِرُونَ (يوسف: ۸۸) باب ۵۰ سے متعلقہ مذکورہ بالا تبصرہ واضح طور پر امام بخاری کی غرض و غایت پر دلالت کرتا ہے۔اس میں بغیر مقصد یونہی احادیث جمع نہیں کر دی گئیں۔باب ۵۱ کی روایت میں جو واقعہ ابرص دائمی واقرع کا بیان ہوا ہے، وہ اس غرض سے بیان ہوا ہے کہ ابن مریم کی پیشگوئی کا مصداق وہی موعود مثیل عیسی بن مریم ہوگا جو اُمت کا کوڑھ، اندھا پن اور خستہ حالی دور کرنے پر قادر ہوگا۔مذکورہ بالا تر تیب ابواب سے امام بخاری کے علم لدنی اور ان کے علم ومعرفت کی عظمت ظاہر ہے۔خصوصا باب ۵۲ کے عنوان سے جو سورۃ الکہف کی آیت سے قائم کیا گیا ہے اور یہ وہ سورۃ ہے جس کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد واضح ہے کہ جو فتنہ دجال سے بچنا چاہتا ہو تو اس سورۃ کی تلاوت کرے۔بعثت نبویہ سے لے کر پہلی تین صدیاں اگر منہا کر دیں تو ہم ایک ہزار سال کا عرصہ گزار چکے ہیں اور اب چودھویں صدی ہجری یا بیسیویں صدی عیسوی ہے۔گزشتہ ایک ہزار سال کے عرصہ میں عقیدہ تثلیث عالم اسلامی کے لئے جس جس شر کا باعث بنا ہے اس کی تاریخ محفوظ ہے۔عقیدہ و کردار، دنیوی مال و دولت اور جاہ وعزت کے اعتبار سے مسلمانوں کا آج جو حال ہے وہ آنکھوں کے سامنے ہے اور اہل تثلیث کا غلبہ چار سُو ہے۔ان کی ناگفتہ بہ حالت کا زمانہ خود زبانِ حال سے شرح کر رہا ہے۔اس بارے میں کسی اور شارح کو کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔البتہ جو سوچنے والی بات ہے وہ یہ ہے کہ کا سر صلیب اور قاتل خنزیر ابن مریم کب نازل ہوگا۔غلبہ تثلیث کا تو یہی وقت ہے اور مسلمانوں کی خستہ حالی کا بھی یہی وقت اور موعود کے آنے کا وقت بھی یہی۔تا اس کے آنے سے مسلمان سنبھلیں اور یہ بات بھی سوچنے والی ہے کہ نزول ابن مریم بیچ بیچ اپنے ظاہری معنوں میں ہے اور عیسی بن مریم اسرائیلی رسول ہی آسمان پر اپنے جسد عنصری کے ساتھ اس غرض سے زندہ رکھے گئے ہیں کہ وہ آخری زمانہ میں مسلمانوں کی خستہ حالی کے وقت نازل ہوں اور مسلمانوں کو عقیدہ تثلیث کے فتنہ وشر سے نجات دلانے والے ہوں یا حسب تصریح امام بخاری وہ ابن مریم اسرائیلی تو اپنے وقت پر فوت ہو چکے ہیں اور آنے والا ان کا ہم نام مسیح اور مثیل موعود و ائمہ مسلمین میں سے امام ہوگا۔یہ امر اس شرح میں اس لحاظ سے بڑی اہمیت رکھتا ہے کہ کتاب احادیث الانبیاء کا خاتمہ ایسی احادیث پر ہے جن میں صراحت ہے کہ امت محمد یہ سابقہ امتوں کی آخری جانشین امت ہے اور اس میں خلافت کا سلسلہ چلے گا اور تربیت و حفاظت کا جو کام انبیاء بنی اسرائیل دیتے تھے وہ خلفائے اسلام انجام دیں گے۔یہاں تک کہ موعود ابن مریم نازل ہو، یہ موعود نبی ہوگا۔اس کے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کوئی نبی نہیں۔( روایت نمبر ۳۴۴۲) اور اس میں یہ الفاظ بھی ہیں: أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِابْنِ مریم یعنی وہ میری صورت و شباہت پر ہوگا۔یہ الفاظ موعود ابن مریم کی روحانی عظمت پر دلالت کرتے ہیں۔