صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 458
البخاري - جلد ٦ ۴۵۸ ۶۰ - كتاب احاديث الأنبياء حمد تشریح: أمْ حَسِبْتَ أَنَّ أَصْحَابَ الْكَهْفِ وَالرَّقيم۔۔۔باب ۵۰ سے کتاب المناقب تک بنی اسرائیل سے متعلق متعدد روایتیں نقل کی گئی ہیں جو متفرق مضامین پرمشتمل ہیں۔پہلی روایت ( نمبر ۳۴۵) دجال سے متعلق ہے کہ اس کے ساتھ جنت و جہنم ہوگی اور اس ضمن میں خشیت اللہ والا واقعہ مذکور ہے جو کتاب البیوع روایت نمبر ۲۰۷۸ میں گزر چکا ہے۔اس کے بعد یہود و نصاریٰ والی قبر پرستی سے بچنے کی وصیت سے متعلق روایت ہے۔اس تعلق میں کتاب الصلاۃ باب ۵۵،۳۸ بھی دیکھئے۔اور روایت نمبر ۵ ۳۴۵ کا تعلق خلافت راشدہ سے ہے جس کے امت محمدیہ میں جاری ہونے کی بشارت ہے اور روایت نمبر ۳۴۵۶ میں بیان ہے کہ مسلمان یہود و نصاریٰ کی پوری پوری نقالی کریں گے۔روایت نمبر ۳۲۵۷، ۳۴۵۸ میں ان کے خلاف عمل کرنے کی ہدایت ہے تا جہاں تک ممکن ہو سکے ان کی مشابہت سے اہل اسلام محفوظ رہیں۔ہمارے ہادی و رہنما کی یہ ہدایت مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمُ * کے مطابق معمولی معمولی باتوں میں شوق تقلید انسان کو کہاں سے کہاں پہنچا دیتا ہے۔روایت نمبر ۳۴۵۹ کے لئے دیکھئے ہے۔کتاب مواقيت الصلاة روایت نمبر ۵۵۷- روایت نمبر ۳۴۶۰ کے لئے دیکھئے کتاب البیوع روایت نمبر ۲۲۲۳۔جس میں یہود کی جسارت کا ذکر ہے کہ انہوں نے کس طرح احکام الہیہ کی پرواہ نہیں کی اور روایت نمبر ۳۴۶ کے لئے دیکھئے کتاب العلم باب ۳۷، ۳۸۔حَدَثُوا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ کے اس ارشاد نبوی سے ظاہر ہے کہ جس بات کی سچائی کا علم ہو وہ بیان کی جائے نہ کہ ہر بات بغیر تمیز حق و باطل۔ابتداء میں ممانعت تھی جبکہ احکام اسلامیہ اور قواعد دینیہ واضح (مکمل اترے ) نہ تھے اور اہل کتاب صحابہ کی کمزوری سے ناجائز فائدہ اُٹھا کر انہیں عمداً مغالطہ دیتے تھے۔لیکن بعد میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حالات بیان کرنے کی اجازت دی جو موجب عبرت و نصیحت ہیں۔ایسا علمی مذاکرہ قوم کی بیداری کے لئے از بس ضروری ہے۔یہ ابواب باب نُزُولِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ اور ظہور فتنہ دجال کے ذکر کے بعد دو غرضوں سے قائم کیے گئے ہے۔اول یہ بتانا مقصود ہے کہ فتنہ دجال اقوام بنی اسرائیل یہود و نصاری ہی میں پیدا ہونے والا ہے۔جن کے اہل اسلام جانشین بنائے گئے ہیں۔دوم ان کے احوال سے عبرت و نصیحت حاصل کرنا اہل اسلام کے لئے ضروری ہے۔تا وقتیکہ ان کا علم نہیں رکھیں گے ان کی ضلالت و بے راہ روی سے کیونکر بچیں گے۔روایت نمبر ۳۴۶۲ میں ارشاد نبوی باب کی یہی غرض واضح کرنے کے لئے پانچویں بار دہرایا گیا ہے کہ یہود و نصاریٰ کی نقالی سے بچو۔اس تکرار سے باب ۵۰ کا تعلق سابقہ ابواب نزول ابن مریم و ظہور فتنہ دجال سے ظاہر ہے۔باب۵۰ میں خلافت راشدہ کے قیام کی بشارت دی گئی ہے۔(روایت نمبر ۳۴۵۵) اور خلفاء کی اطاعت اور ان کے ساتھ عہد بیعت وفاداری نباہنے کا حکم دیا گیا ہے۔اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات متذکرہ بالا مد نظر رکھے جاتے تو امت اسلامیہ کی وہ حالت نہ ہوتی جو بعد میں ہوئی اور آج تک ہے۔پھر روایت نمبر ۳۴۶۳ اس غرض سے بیان کی گئی ہے ابو)،داؤد کتاب اللباس، باب في لبس الشهرة