صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 457 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 457

صحيح البخاری جلد ۲ ۴۵۷ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء باب ٥٢ آمْ حَسِبْتَ أَنَّ أَصْحُبَ الْكَهْفِ وَالرَّقِيمِ (الكهف: ١٠) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا ) کیا تو سمجھتا ہے کہ کہف اور رقیم والے لوگ ہمارے نشانوں میں سے کوئی اچنبھا نشان تھے (جن کی نظیر پھر کبھی نہ پائی جاسکتی ہو ) رَبَطْنَا عَلَى قُلُوبِهِمْ (الكهف : ١٥) أَلْهَمْنَاهُمْ صَبْرًا۔شَطَطًا (الكهف : ١٥) الْكَهْف الْفَتْحُ فِي الْجَبَلِ پہاڑ میں کھلی جگہ کو الکھف کہتے ہیں اور رقیم کے وَالرَّقِيم (الكهف: ۱۰) الْكِتَابُ مَّرْقُوم معنی ہیں لکھی ہوئی اور مرقوم کے معنی ہوتے ہیں (المطففين: ١٠) مَكْتُوبٌ مِنَ الرَّقْم لکھا ہوا۔مَرْقُوم، رقم سے مشتق ہے اور رقم کے معنی ہیں لکھنا۔اور یہ جو فرمایا: رَبَطْنَا عَلَى قُلُوبِهِمْ تو اس کے معنی ہیں کہ ہم نے اصحاب کہف کے دلوں کو مضبوط کیا اور ان کو صبر کی طاقت بخشی اور شَطَطًا کے إِفْرَاطًا۔الْوَصِيد (الكهف: ١٩) الْفِنَاء معنی ہیں افراط یعنی حد سے بڑھنا۔لفظ الوصید کے وَجَمْعُهُ وَصَائِدُ وَوُصْدٌ وَيُقَالُ معنی ہیں آنگن۔اس کی جمع وَصَائِد اور وصد آتی الْوَصِيْدُ الْبَابُ۔مُّؤْصَدَةٌ (الهمزة: ٩) ہے۔وَصِيد کے معنی دہلیز کے کئے جاتے ہیں، کہتے مُطْبَقَةٌ آصَدَ الْبَابَ وَأَوْصَدَ ہیں: الْبَابُ مُوصَدَةٌ یعنی دروازہ بند کیا ہوا ہے۔بَعَثْنَهُمْ (الكهف: ١٣) أَحْيَيْنَاهُمْ أَزْكَى أَصَدَ الْبَابَ وَأَوْصَدَ کے معنی ہیں دروازہ بند کر دیا۔(الكهف: ٢٠) أَكْثَرُ رَيْعًا۔فَضَرَبَ اللهُ اصحاب کہف کے متعلق بَعَشَاهُم آیا ہے اس کے معنی عَلَى آذَانِهِمْ فَقَامُوا رَجْمًا میں ہم نے ان کو ترقی دی۔اور اڈ کسی کے معنی ہیں غذائیت میں زیادہ اور فَضَرَبَ اللَّهُ عَلَى آذَانِهِمْ سے یہ مراد ہے کہ وہ سو گئے۔اور رَجُمًا بِالْغَيْبِ مُجَاهِدٌ تَقْرِضُهُمُ (الكهف: ۱۸) کے معنے ہیں انہوں نے اچھی طرح معلوم نہیں کیا جو به ساید بِالْغَيْبِ (الكهف: ٢٣) لَمْ يَسْتَبِنْ۔وَقَالَ تَتْرُكُهُمْ۔خیال میں آیا کہہ دیا۔مجاہد نے کہا: تَقْرِضُهُمْ کے معنی ہیں انہیں چھوڑ دیتا ہے۔