صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 456 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 456

صحيح البخاری جلد ۲ ۴۵۶ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء لگے۔یہاں تک کہ اٹھارویں صدی میں بعض مسلمان علماء کو احساس ہوا کہ ان کا مطمح نظر بدل رہا ہے اور عالم اسلامی کا قلب حساس (طبقه شعراء) عرب و عجم دونوں بلبلا اٹھے کہ ہم کیا تھے اور کیا ہوتے جارہے ہیں۔ہمارے ملک میں حاتی کا مرثیہ مشہور اور زبان زد خلائق ہے۔انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کیا: اے خاصہ خاصان رسل وقت دعا ہے امت پر تری آکے عجب وقت پڑا ہے بگڑی ہے کچھ ایسی کہ بنائے نہیں بنتی ہے اس سے یہ ظاہر کہ یہی حکم قضا ہے فریاد ہے اے کشتی امت کے نگہباں بیڑا یہ تباہی کے قریب آن لگا ہے تدبیر سنبھلنے کی ہمارے نہیں کوئی ہاں ایک دعا تیری کہ مقبولِ خدا ہے مسدس حالی ، عرض حال بجناب سرور کائنات صفحه ۱۸۹ تا ۱۹۲) یہ نمونہ اشعار مسدس حالی سے ہے جو ۱۸۷۹ء بمطابق ۱۲۹۶ھ میں پہلی بار شائع ہوئی۔اور بانگ درا (۱۹۲۴ء) میں بھی اس حقیقت حال کا کھلے الفاظ میں ذکر ہے: وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود یوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہو یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود تم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہو بانگ درا، حصہ سوم، نظم جواب شکوه، صفحه ۲۰۳) مذکورہ بالا دو حوالے ہی کافی ہیں جو آج سے نصف صدی قبل کی حالت سے متعلق شہادت دیتے ہیں۔أصدق الصادقین کا فرموده لَتَتَّبِعُنَّ سُنَنَ مَنْ قَبْلَكُمْ شِبُرًا بِشِبُرِ راست ثابت ہوا۔اس دوران مشابہت نے زیادہ تشویشناک صورت اختیار کرلی ہے اور آج یہ حالت ہے کہ تہذیب و تمدن، تعلیم و آداب وفنون جمیلہ وغیرہ کی دل فریب مجالس رقص و سرود Cultural Show) کے نام سے قائم کی جاتی ہیں جن میں مسلم بیگمات و خواتین نیم عریانی میں کرسی صدارت کی زینت بنتی ہیں۔صلیب احمر (Red Cross) کے سایہ تلے ! عیسائی تمدن کا رنگ و روپ دھارنے کے شوق نے ملی شعور اور قومی غیرت کا احساس بالکل مٹا ڈالا ہے۔تمام ممالک میں کم و بیش یہی حال ہے اور مایوسی طاری ہے۔امام بخاری نے باب ۵۰ میں انداری خبریں نقل کرنے کے ساتھ حدیث نمبر ۳۴۶۳ بھی نقل کی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مایوس ہونے سے منع فرمایا ہے اور باب ۵۱، روایت نمبر۳۴۶۴ میں کوڑھی، گنجے اور اندھے کا واقعہ نقل کیا ہے جو سبق آموز ہونے کی غرض سے متعلقہ ابواب میں برمحل ہے۔جیسا کہ آگے بیان کیا جائے گا۔