صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 455 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 455

صحيح البخاری جلد ۲ ۴۵۵ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء والی امت کے بچنے کی دعانہ کی ہو جس کے ذریعہ سے انبیاء کی امیدیں بر آنے والی عمارت توحید تکمیل کو پہنچنے والی ہے۔الفاظ يُحَدِّرُ مَا صَنَعُوا بتاتے ہیں کہ اس کرب کی حالت میں آپ پر امت کے لئے شفقت غالب تھی جو دعا کی متقاضی ہے اور آپ کی یہ دعا قبول ہوئی جیسا کہ ای باب ۵۰ کے تحت وہ مستقل عنوان قائم کر کے امام بخاری نے دعا کی قبولیت کی طرف توجہ دلائی ہے کہ آپ کی دعا و بدعا کی کیفیت ہماری دعا و بددعا کی طرح نہیں۔سورۃ العصر میں بھی الفاظ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ سے عمل صالح بجالانے والے مومنوں کو نجات کا وعدہ دیا گیا ہے تا مفوضہ خدمت انجام دے کر اجر غیر ممنون پانے کے مستحق ٹھہریں۔اس سے ظاہر ہے کہ حدیث نمبر ۳۲۵۹ میں جس مبارک زمانہ عصر کا ذکر ہے وہ بھیا نک نظارہ پر ختم ہونے والا نہیں بلکہ ہزار ہفتم میں ممتد ہے۔شکل مستطیل ۲ پر نظر ڈالیں اور اس کے اعداد و شمار کا حساب لگا ئیں اور دیکھیں کہ آیا ہم ہزار ششم پورا کر رہے ہیں یا ہزار ہفتم میں قدم رکھنے والے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ بعثت کا اندازہ حضرت آدم علیہ السلام سے ۴۷۳۹ برس کیا گیا ہے۔اس پر مندرجہ ذیل اعداد کا اضافہ کیا جائے۔زمانہ بعثت نبوی ۴۷۳۹ + عرصہ خلافت را شده و خَيْرُ الْقُرُونِ قَرْنِي ۳۰۰ سال + عرصہ ضلالت و مماثلت یہود و نصاری ۹۵۰ سال - میزان = ۵۹۸۹ سال۔اس حساب سے ظاہر ہے کہ ہم ہزار ششم کے خاتمہ پر ہیں اور جو علامتیں باب۵۰ کی روایتوں میں بتائی گئی ہیں، اگر وہ مد نظر رکھی جائیں تو خروج دجال اور نزول مسیح موعود ( قاتل (جال) کے زمانہ کی نشاندہی مشکل نہیں۔ان علامتوں میں سے سب سے بڑی علامت امت مسلمہ کی یہود ونصاری سے مشابہت کی علامت ہے۔یہود و نصاریٰ اقوام غیر مسلمہ پر مسلمان اس وقت تک اثر انداز رہے جب تک وہ اپنے آپ کو ذہنی لحاظ سے ان سے فائق و غالب سمجھتے تھے۔خضاب سے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت اور آپ کا ارشاد فَخَالِفُوهُمُ اسی ذہنی غلبہ و تفوق کو محفوظ رکھنے کی غرض سے ہے ورنہ اچھی باتیں اخذ کرنے کی مطلق ممانعت نہیں بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کلمہ حکمت صالة المُؤمِن یعنی مومن کی کھوئی ہوئی پونچی قرار دی ہے۔جہاں وہ پائے اسے لے لینے کا حکم ہے۔اَلْحِكْمَةَ ضَالَّةُ الْمُؤْمِنِ يَأْخُذُهَا حَيْثُ وَجَدَهَا (المدخل إلى السنن الكبرى للبيهقي، باب ما يخشى من زلة العالم فى العلم أو العمل، جزء ۲ صفحه ۲۱۶) یہ حصہ مضمون الگ شرح کا محتاج ہے۔اس کا مفصل ذکر کتاب اللباس میں آئے گا۔مسلمان جب تک اپنے ذہنی رجحان اور میلان طبع میں صالح و غالب تھے دوسروں پر اثر انداز ہوتے رہے یہاں تک کہ جب ان کا یہ ذہنی غلبہ ختم ہوا ان کی مغلوبیت اور تقلید ائمی (اندھی) کی تاریخ شروع ہوتی ہے اور یہ وہ زمانہ ہے جو یورپ کی تاریخ میں عہد تجدد و احیائے ثانی (Renaissance) کے نام سے مشہور ہے۔سولہویں اور سترھویں صدی عیسوی کے دوران اس نے مسلمانوں پر طرز معاشرت میں اپنا اثر ڈالنا شروع کیا اور وہ اس سے اثر پذیر ہونے