صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 454
صحيح البخاری جلد ۲ ۴۵۴ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء الَّذِينَ يَلُوْنَهُمْ ثُمَّ يَفْشُو الْكَذِبُ یعنی لوگوں میں سے بہترین میری صدی کے ہیں۔پھر وہ لوگ جو ان کے بعد ہوں گے، پھر وہ لوگ جو ان سے ملے ہوئے ہیں، پھر جھوٹ پھیل جائے گا۔تین سو سال کے بعد ضلالت کے اعتبار سے مسلمانوں کا جو حال آپ کو دکھایا گیا وہ ہو بہو یہود ونصاری کا سا حال ہے اور ان کی اس گمراہی کا سبب یہود و نصاری دکھائے گئے۔جس سے آپ گھبرا اُٹھے اور گھبراہٹ کی شدت میں آپ کی زبان سے لَعَنَ اللهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى ( روایت نمبر ۴۴۴۱) کا فقرہ بار بار سنا گیا جو جملہ خبریہ بھی ہے اور انشائیہ بھی یعنی بددعا کہ یہود و نصاریٰ نے آخری مزدوروں کو بھی اپنے جیسا بنا کر بیت اللہ کی تعمیر کچھ عرصہ کے لئے روک دی ہے۔لیکن روایت نمبر ۳ ۳۴۵-۳۴۵۴ کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ آخر یہ عمارت توحید اسلامی شریعت کے ذریعہ سے پایہ تکمیل کو ضرور پہنچے گی کیونکہ امت اسلامیہ کے دوگنی مزدوری پانے کا ذکر کیا گیا ہے جو بغیر تکمیل عمارت نہیں مل سکتی۔ظاہر ہے کہ تعمیر میں جو وقفہ واقع ہوا ہے وہ عارضی ہے۔قرآن مجید کے الفاظ سے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس امت کو تحمیل عمارت پر ملنے والی مزدورى أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونِ (التين :) یعنی منقطع نہ ہونے والی مزدوری ہے۔اس کے ساتھ ساتھ سورۃ العصر بھی قابل توجہ ہے۔یہ عصر کا مبارک زمانہ وہی ہے جس کا ذکر حدیث نمبر ۳۴۵۹ میں تمثیلاً وارد ہوا ہے۔اس حدیث میں محنتانہ کا اندازہ اکائی قیراط سے کیا گیا ہے، جسے وحی الہی نے آجُرٌ غَيْرُ مَمْنُون سے تعبیر فرمایا ہے اور سورۃ العصر میں جس گھاٹے کا ذکر کیا گیا ہے۔اس سے مومن مستقلی کئے گئے ہیں یعنی ان کی محنت کا بدلہ پورا پورا دیا جائے گا اور ان میں کسی قسم کی کمی نہ ہوگی۔اس استثناء کا مفہوم دوسرے الفاظ میں اَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُون ہی ہے۔اس سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں : i_ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ لَعَنَ اللهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى صرف ان لوگوں تک محدود ہیں جو بیت اللہ کی تعمیر میں رخنہ ڈالنے والے ہیں یعنی یہود و نصاری اور ان کی پیروی کرنے والوں سے خواہ وہ بظاہر کلمہ گوہی کیوں نہ کہلائیں۔لعنت کے معنی ہیں رحمت الہی سے محرومی، اور اسی محرومی کو سورۃ العصر میں خسارہ عظیمہ سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔غرض آپ کا بددعائیہ فقرہ امر واقعہ کا اظہار ہے کہ مسلمان یہود و نصاریٰ کی روش اختیار کریں گے اور اس طرح رحمت الہی سے محروم ہو جائیں گے۔ii۔اس حالت کرب میں آپ نے اپنی امت کے محفوظ رکھے جانے کے لئے مرض الموت میں ضرور نیک دعا بھی کی ہے کیونکہ وہ سابقہ انبیاء کی پیشگوئیوں میں کونے کا پتھر قرار دی گئی ہے۔(یسعیاہ باب ۱۶:۲۸) یہ باور نہیں کیا جاسکتا کہ نہایت مکروہ اور ہولناک نظارہ مماثلت دیکھ کر امت کو بگاڑنے والوں کے لئے بد دعا تو کی اور بگڑنے (بخاری، کتاب المناقب، باب فضائل أصحاب النبي، نمبر ۳۶۵۰) (ترمذی، کتاب الشهادات باب منه شهادة الزور مندرجہ بالا الفاظ تر مندی کے ہیں۔