صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 453
صحيح البخاری جلد ۲ ۴۵۳ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء ۹۳۹ سال کا ہے جو تینوں قوموں یہود، نصاریٰ اور مسلمانوں کو تسلیم ہے اور یہ بھی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت نوح علیہ السلام کے خلیفہ تھے۔جیسا کہ قرآن مجید میں مذکور ہے : وَإِنَّ مِنْ شِيعَتِهِ لَا بُرَاهِيمَ ) (الصافات: ۸۴) ان کے درمیان کا فاصلہ بھی اندازاً ۱۲۵۰ سال ہی ہے اور شارع اول کے خلیفہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے بنی اسرائیل کا سلسلہ چلا اور ان سے ۱۹۰۰ سال بعد نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام شارع ثانی مبعوث ہوئے۔حضرت عیسی علیہ السلام جن کے آخری خلیفہ تھے جو ان سے ۱۲۵۰ سال بعد ظاہر ہوئے اور ان پر شریعت موسوی ختم ہوگئی اور اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کا آغاز ہوا۔ان دونوں شرعی نبیوں کے درمیان کا فاصلہ بھی ۱۹۰۰ سال ہی ہے۔حضرت آدم علیہ السلام سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک کل مدت کا اندازہ تقریباً ۴۷۳۹ برس ہے جو ذیل کے اعداد سے ظاہر ہے۔حضرت آدم علیہ السلام سے حضرت نوح علیہ السلام۔۹۳۹ سال حضرت نوح علیہ السلام سے حضرت موسیٰ علیہ السلام ۱۹۰۰ سال حضرت موسیٰ علیہ السلام سے حضرت خاتم النبیین میزان ۱۹۰۰ سال ۴۷۳۹۰ سال ( ہزار پنجم ) اس حساب کے رو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت دور آدم میں ہزار پنجم کے آخری حصہ میں ہوئی تا بیت اللہ یعنی توحید کا گھر آپ کے ذریعہ سے آباد مکمل ہو۔آپ نے اپنے زمانہ کو عصر سے تعبیر فرمایا ہے جو مزدور کے دن کی آخری تہائی ہے۔روایت نمبر ۳۴۵۹ میں بتایا گیا ہے کہ یہود نے بطور مزدور نصف دن تعمیر کا کام کیا اور بیت اللہ کی عمارت ادھوری چھوڑ کر چلے گئے۔پھر نصاری نے عصر تک کام کیا اور عمارت نا تمام چھوڑ دی۔یہ عرصہ تعمیر صبح سے ظہر تک کے عرصہ کا نصف ہے۔دن اوسطاً بارہ گھنٹے کا ہو تو یہود نے چھ گھنٹے اور نصاری نے تین گھنٹے کل نو گھنٹے کام کیا۔یہ وقت دن کا دو تہائی بنتا ہے۔عصر سے شام تک تین گھنٹے اس طرح اہل اسلام نے تین گھنٹے یعنی دن کے چوتھے حصے میں عمارت توحید مکمل کرنی ہے جس پر انہیں دوگنی مزدوری ملنے کا وعدہ ہے جو یہود و نصاری کے لئے موجب شکایت ہے اور ان کی طرف سے یہ نا انصافی سمجھی گئی۔انہیں جواب دیا گیا کہ تکمیل کام پورے معاوضہ کی مستحق ہوتی ہے نہ کہ ادھورا کام۔علاوہ ازیں فرمایا: یہ میرا فضل ہے جس پر چاہوں کروں۔یہ روایت کتاب الاجارۃ باب ۸ ۹ میں گزر چکی ہے۔اس مثال سے تین باتیں معین طور پر ظاہر ہوتی ہیں: اول : دور آدم کا زمانہ جو ارتقائے بشری میں دور اول ہے سات ہزار برس کا ہے۔دوم: آپ کی بعثت ہزار پنجم کے آخر میں ہوئی جس میں عمارت توحید آپ کے ذریعہ سے تکمیل کو پہنچنے والی ہے۔سوم : آپ کی خلافت موسوی خلافت کے محاذ پر اور اس کے مماثل ہے اور آپ کی یہ خلافت ہدایت کے اعتبار سے تین سو سال تک خدمت تعمیر نہایت اچھے طریق پر بجا لائے گی۔خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُوْنَهُمْ ثُمَّ