صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 452 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 452

صحيح البخاری جلد ۲ ۴۵۲ ٢٠ - كتاب احاديث الأنبياء کہ یہ لوگ مومن نہیں ہیں بلکہ آپ کا مذکورہ بالا کرب و اضطراب معین کشفی نظارے کی وجہ سے تھا جس میں آپ نے یہود و نصارٹی کے ذریعے سے اپنی امت میں خرابی پھیلتی دیکھی اور وہ اس رویت سے تعلق رکھتی ہے جو افق اعلی والی رویت ہے جس کا بیان سورۃ النجم کی آیات میں بایں الفاظ آیا ہے : مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَى (النجم: (۱۸) جو کچھ آپ کو مشاہدہ ہوا ہے بالکل صحیح صحیح مشاہدہ ہے۔ جذبات و تخیل کا اس سے کوئی واسطہ نہیں۔ شیرا بشبر جیسے ایک پھیلی دوسری ہتھیلی کی مانند ہوتی ہے۔ ایسی ہی مشابہت دیکھ کر آپ گھبرا اُٹھے اور آپ کی زبان ترجمان الغیب سے اس کا بار بار اظہار ہوا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: اگر یہود و نصاری نے اپنے انبیاء کی قبریں سجدہ گاہ بنائی ہیں، تم بھی قبر پرستی کرو گے۔ (روایت نمبر ۳۴۵۳-۳۴۵۴) اور ہر بدی میں تم ان کی مشابہت اختیار کرو گے۔ (روایت نمبر ۳۴۵۶) غرض ان چھوٹی بڑی باتوں کا ذکر آنکھوں دیکھا ماجرا ہے جس کی تفصیل آپ نے بیان فرمائی ہے اور ہدایت وضلالت میں تینوں قوموں کی باہمی مماثلت کا عرصہ تک معین فرمایا ہے۔ (روایت نمبر ۳۴۵۹) جو ذیل کی دو متوازی الشکل مستطیلوں سے بآسانی سمجھا جا سکتا ہے۔ ۲۵۰ سال شکل اول شارع اول نوح ۱۹۰۰ سال 1 شکل دوم شارع دومه موسی ج شارع دوم موسی ۱۹۰۰ سال شارع ثالث خاتم الانبیاء ج ب تابع نبی ابراهیم ۱۹۰۰ سال تابع نبی عیسی ۱۲۵۰ سال ۱۲۵۰ سال ۱۳۵۰ سال ب تابع نبی عیسی ۱۹۰۰ سال مسیح موعود ( تابع نبی ) ان متوازی الشکل مستطیلوں کے زاویہ قائمہ ”الف“ پر حضرت نوح علیہ السلام ہیں جو آدم ثانی تسلیم کئے گئے ہیں علیہ ہیں جو که طوفان عظیم - ٹیم کے بعد ان سے ایک نو سے ایک نئی نسل چلی اور زاویہ ”ب“ پر حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں جو آدم ثانی حضرت نوح علیہ السلام کے سلسلہ سے تعلق رکھنے والے عالی مرتبت خلیفہ تھے جن کے ہاتھوں سے بیت اللہ (خانہ توحید ) کی بنیادیں رکھی گئیں۔ حضرت نوح اور حضرت ابراہیم علیہما السلام کے درمیان کا عرصہ ۱۲۵۰ سال کا ہے جو شکل اوّل میں ہندسوں میں لکھا گیا ہے اور زاویہ ج“ پر دوسرے شارع نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام ہیں جو حضرت نوح علیہ السلام شارع اول سے ۱۹۰۰ سال بعد ہوئے اور خلفائے موسیٰ علیہ السلام میں سے خلیفہ ذیشان حضرت عیسی ہیں جو زاویہ دی“ پر دکھائے گئے ہیں اور دونوں کے درمیان عرصہ ۱۲۵۰ سال ہے۔ غرض ارتقائے بشری کے دور کا آغاز حضرت آدم علیہ السلام سے ہوا جو غیر شرعی نبی تھے کہ ہنوز ابتداء تھی اور دور ارتقاء کے ہزار اول میں حضرت نوح علیہ السلام پہلے شرعی نبی تھے جو اس ہزار اول کی آخری صدی میں مبعوث ہوئے۔ آدم اول اور آدم ثانی کے درمیان فاصلے کی مدت کا اندازہ