صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 451 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 451

صحيح البخاری جلد ٦ ۴۵۱ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سخت گھبراہٹ اور نصاریٰ اور یہود کو ملعون قرار دینے کا ذکر بھی بر محل ہے کہ دونوں قومیں نہ صرف امت محمدیہ ہی کے لئے بلکہ سارے جہان کی تخریب و تدمیر کا جس بھیانک اور ہولناک شکل میں باعث بن گئی ہیں محتاج بیان نہیں۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایام مرض الموت میں اس عالمگیر بر بادی کے تصور نے آپ کو بے قرار و بے چین کر دیا اور آپ کی زبان پر بے ساختہ یہ الفاظ جاری ہوئے : لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى - یہ تاویل کسی خوش فہمی کا نتیجہ نہیں بلکہ خود حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت جس کے الفاظ يُحَدِّرُ مَا صَنَعُوا میں مضمر ہے اور ہمارے خیال کے مؤید نہ صرف یہ الفاظ قرینہ ہیں کہ مذکورہ بالا فقرہ خالی بد دعا نہیں جو عمو من غصہ کی حالت میں زبان پر جاری ہو جایا کرتا ہے۔شدت مرض میں انسان مضطرب ہو کر اپنی صحت یا موت کے لئے دعا یا بددعا کیا کرتا ہے۔لیکن کسی قوم پر خفگی یا ناراضگی کا اظہار نہیں کیا کرتا جس کا اس کی بیماری سے کوئی تعلق نہ ہو۔اس لئے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا خیال درست ہے کہ آپ کی گھبراہٹ کا تعلق آپ کی امت سے تھا کہ وہ یہود و نصاری کی نقالی سے بچیں مبادا وہ بھی ان کے ساتھ ہلاک ہو۔یہ تنبیہ دلیل ہے اس امر کی کہ آپ نے اس بارے میں کوئی پریشان کن نظارہ دیکھا ہے جس سے آپ اپنی امت کے لئے گھبرا اٹھے ہیں۔چنانچہ اس باب کی روایت نمبر ۳۴۵۶ سے بھی پتہ چلتا ہے کہ مذکورہ بالا فقرہ شدت مرض کی وجہ سے نہ تھا بلکہ آپ نے منذر مشاہدہ فرمایا ہے کہ مسلمان ان دونوں قوموں کے نقال بن جائیں گے اور ان کی روش اختیار کرلیں گے۔امام بخاری نے ترتیب میں شدت بیماری والی روایت ( نمبر ۳۴۵۳-۳۴۵۴) پہلے رکھی ہے اور تقلید یہود و نصاری والی روایت ( نمبر ۳۴۵۶) اس کے بعد جس سے پایا جاتا ہے کہ الفاظ لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى صرف غصے ہی کا اظہار نہیں بلکہ یہ الفاظ اس مشاہدے پر مبنی ہیں جس میں آپ کو بتایا گیا ہے کہ امت محمدیہ کی بڑی خرابی یہود و نصاری کے ہاتھوں سے ہوگی۔اس لئے آپ نے اسے ہوشیار کیا اور فرمایا کہ ان کا رویہ نہ اختیار کرو بلکہ ان کے نار و ناقوس کی جگہ عبادت میں اذان کے ذریعے سے اطلاع دیا کرو۔(روایت نمبر ۷ ۳۴۵) بوقت عبادت اس طرح کھڑے نہ ہو جس طرح یہ قو میں کھڑی ہوتی ہیں ( روایت نمبر ۳۴۵۸) اور ہدایت کی کہ یہ لوگ اشیائے خورد و نوش اور معاملات بیع و شراء میں احکام حلت و حرمت کی پروا نہیں کرتے تم ایسا نہ کرنا۔(روایت نمبر ۳۴۶۰) اگر چہ مذکورہ بالا قسم کی تفصیلی ہدایات دعائے غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِينَ کا بھی حصہ ہو سکتی ہیں۔لیکن ارشاد لَتَتَّبِعُنْ سُنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ۔۔۔( ضرور تم پہلوں کی پیروی کرو گے ) کسی معین مشاہدے کی وجہ سے ہی ہو سکتا ہے اور آپ کا کرب و اضطراب اس قسم کے اندیشے سے بھی نہیں ہے جو عام طور پر ہر مشفق و ہمدرد والدین کو اپنی ذریت کے مستقبل کے متعلق ہوتا ہے۔نہ آپ کا یہ قلق وہ بخوع ( گراز ) نفس کی حالت ہے جس کا ذکر آیت لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ) (الشعراء: ۴) میں ہے کہ شاید تو مارے غم کے اپنے آپ کو ہلاک کر دے گا