صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 450
صحيح البخاری جلد ۲ ۴۵۰ ۶۰ - كتاب احاديث الأنبياء فَلَا بَلَاغَ الْيَوْمَ إِلَّا بِاللهِ ثُمَّ بِكَ پہنچنے کی کوئی صورت نہیں۔ میں اس کے وسیلے سے جس أَسْأَلُكَ بِالَّذِي رَدَّ عَلَيْكَ بَصَرَكَ شَاةً نے تمہاری بینائی تم کو واپس دی ایک بکری مانگتا ہوں أَتَبَلغُ بِهَا فِي سَفَرِي وَقَالَ لَهُ تاکہ میں اپنے سفر میں اس سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے قَدْ كُنْتُ أَعْمَى فَرَدَّ اللهُ بَصَرِي اپنے ٹھکانے پہنچ جاؤں۔ اس نے کہا: ہاں میں اندھا تھا اور اللہ نے میری بینائی لوٹا دی اور محتاج تھا اور اس وَفَقِيرًا فَقَدْ أَغْنَانِي فَخُذْ مَا شِئْتَ نے مجھے مالدار کر دیا، اس لیے جو تم چاہو لے لو، اللہ کی فَوَاللَّهِ لَا أَجْهَدُكَ الْيَوْمَ بِشَيْءٍ أَخَذْتَهُ قسم ! میں تم سے آج کسی بات میں تنگی نہیں کرنے کا۔ لِلَّهِ۔ فَقَالَ أَمْسِكْ مَا لَكَ فَإِنَّمَا جو تو لے لے، اللہ کے لئے لے گا۔ فرشتہ نے یہ سن کر ابْتُلِيْتُمْ فَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنْكَ وَسَخِطَ کہا: تم اپنا مال اپنے پاس ہی رکھو کیونکہ تم کو تو صرف عَلَى صَاحِبَيْكَ۔ طرفه: ٦٦٥٣۔ آزمایا گیا ہے۔ اللہ تم سے خوش ہو گیا ہے اور تمہارے دونوں ساتھیوں پر ناراض ۔ قائم تشريح : مَا ذُكِرَ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ: كتاب بَدْءُ الْخَلْق کے بعد كتاب أحاديث الانبياء قال ----- کر کے اس کا آغاز خَلْقَ آدَمَ وَذُرِّيَتِهِ سے ہوا تھا اور باب ۲ میں بتایا گیا تھا کہ الْأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُّجَنَّدَةٌ یعنی ارواح صف آراء فوجیں ہیں۔ اس تعلق میں موازنہ و مماثلت کا ایک سلسلہ ابواب شروع کیا گیا تھا جو انذار و تبشیر پر مشتمل ہے۔ ان ابواب میں سے باب ۵۰ بھی ہے۔ اس کی اکثر روایتیں اصل موضوع کے اعتبار سے سہل الفہم ہیں اور ان سے پتہ چلتا ہے کہ روحانی مقابلہ کے تعلق میں جہاں رحمانی سپاہ کا ذکر کیا گیا ہے وہاں شیطانی سپاہ کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ یہ حصہ موضوع کتاب احادیث الانبیاء کے آخر میں انشاء اللہ تعالی از خود ظاہر ہو جائے گا۔ لیکن اس باب کی بعض روایات خاص طور پر قابل توجہ اور محتاج شرح ہیں جو حسب ذیل ہیں: حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی سند سے تین حدیثیں یکجا بیان کی گئی ہیں۔ ایک حدیث خشیت اللہ سے متعلق ہے جس میں وصیت موصی کے لئے بخشش کا موجب ہوئی۔ (روایت نمبر ۳۴۵۲) دوسری حدیث حسن معاملہ سے متعلق ہے کہ لین دین میں نرم اور اج اچھا برتاؤ نجات کا کا سبب ہوا۔ ( روایت نمبراد نمبر (۳۴۵) دونوں دونوں روایتوں کے لئے دیکھئے كتاب البيوع باب ۱۸۰۱۷۔ فتنہ دجال کے تعلق میں ان کا اعادہ معنہائے دارد ! اسی طرح روایات نمبر ۳۴۵۳-۳۴۵۴ میں دوران مرض الموت