صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 438 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 438

صحيح البخاری جلد ٦ ۴۳۸ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء " سے پہلے تمام اہل کتاب ان پر ایمان لائیں گے اور پھر مرنے سے قبل وہ دنیا میں دوبارہ نہیں آئیں گے۔(وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا) قیامت کے روز ہی اہل کتاب کے خلاف یا ان کے حق میں شہادت دیں گے۔علاوہ ازیں سورۃ النساء کی آیات میں صلیب وقتل و رفع سے متعلق مسیح ابن مریم کا ذکر تو ہے مگر ان کے نزول کا مطلق ذکر نہیں۔نیز فقرہ ليُؤْمِنَنَّ بِہ میں ”ہ“ کی ضمیر تو واقعہ قتل و صلیب کی طرف عود کرتی ہے یعنی اہل کتاب میں سے ہر یہودی و ہر عیسائی واقعہ قتل و صلیب پر یقین رکھتا ہے۔ایک کے نزدیک ان کی موت لعنتی ہے اور دوسرے کے نزدیک اس موت پر ایمان سے دنیا کی نجات ہے۔دونوں فریق اس واقعہ کو اپنے ایمان کا جزو سمجھتے ہیں اور ان کا یہ ایمان صرف یہودی یا عیسائی کی موت تک ہی محدود ہے۔کیونکہ حضرت مسیح علیہ السلام روز قیامت دونوں کے خلاف ہوں گے اور امر واقعہ کی شہادت دیں گے کہ وہ صلیب سے زندہ اُتارے گئے تھے اور صلیبی موت نہیں مرے۔یہ امر بھی یقینی طور پر نہیں کہا جاسکتا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے آیت سے کیا استدلال کیا ہے۔صرف قرینہ ہے کہ حدیث نزول ابن مریم میں حضرت مسیح کے نازل ہونے کا ذکر ہے، اس لئے ان کا ذہن اس طرف منتقل ہوا ہے کہ موتہ کی ضمیر حضرت مسیح ابن مریم کی طرف ہے۔جس سے سمجھا جاتا ہے کہ ان کے نزدیک وہ ابھی تک آسمان پر ہیں اور ان کے نازل ہونے پر تمام اہل کتاب یہودی و عیسائی ان کے فوت ہونے سے پہلے پہلے ان پر ایمان لے آئیں گے۔خالی قرینے سے اگر ان کا یہ استدلال درست سمجھا جائے تو پھر آیت وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمُ شَهِيدًا کا کیا مطلب ہوگا اور قیامت کے روز ان کی اہل کتاب کے خلاف شہادت کیا ہوگی جبکہ اسی دنیا ہی میں نازل ہو کر وہ ان پر اتمام حجت پوری کریں گے۔کیا اس آیت سے یہ استدلال نہیں ہو سکتا کہ وہ رفع کے بعد اس دنیا میں نازل نہیں ہوں گے اور نہ یہود و نصاریٰ پر انہیں اتمام حجت کرنے کا موقع ملے گا۔غرض حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا یہ استدلال الجھا ہوا ہے۔صاف اور واضح نہیں۔جہاں تک نفس حدیث نبوی کا تعلق ہے وہ مسلم ہے۔ان کا حافظہ قوی پایا گیا ہے اور دوسرے مستند راویوں سے بھی حدیث کی تصدیق ہوتی ہے۔مگر جہاں حضرت ابو ہریرہ کے اپنے استدلال کا تعلق ہے اس میں علماء کو کلام ہے۔فن درایت کی رو سے وہ کمزور سمجھے گئے ہیں۔چنانچہ امام بخاری نے بھی ان کے مذکورہ بالا استدلال کو مجروح قرار دیا ہے اور متروک الروایت نقل کیا ہے۔باب ۴۹ کی دوسری روایت میں جو نافع مولی ابی قتادہ سے مروی ہے ان کا یہ استدلال مذکور نہیں اور جیسے یونس والی روایت میں یہ متروک ہے، ویسے ہی تحصیل اور اوزاعی کی روایتوں میں بھی متروک ہے۔(دیکھئے تغلیق التعليق على صحيح البخاری، كتاب الأنبياء، باب نزول عيسى ( یہ دونوں تبع تابعین امام زہری ہی سے روایت کرتے ہیں جیسا کہ باب کی پہلی روایت بھی انہی سے مروی ہے۔چاروں روایتوں پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوگا کہ پہلی روایت کا سلسلہ استناد امام زہری ہی سے چلتا ہے۔ایک میں تو ان کا مذکورہ بالا استدلال مذکور ہے اور تین میں نہیں۔اس سے امام بخاری نے توجہ دلائی ہے کہ حضرت ابو ہریرہ کا یہ استدلال اپنا ذاتی ہے حدیث نبوی کا حصہ نہیں اس لئے متروک ہے۔