صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 437 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 437

صحيح البخاری جلد ۲ ٢٠ - کتاب احاديث الأنبياء حدیث سے سے کیا غرض کہ میری وفات کے بعد امت محمد ب مت محمدیہ کے بعض افراد مرتد ہوں گے اور عیسی ابن مریم اسرائیلی اور ابن مریم موعود کے الگ الگ حلیے بیان کرنے سے کیا مطلب !! یہ سب باتیں قابل غور ہیں جو امام بخاری کی بصیرت و عظیم مرتبت اجتہاد کی داد دیتی ہیں۔ علاوہ ازیں غور کریں کہ باب ۴۹ کی دونوں حدیثوں میں مذکورہ کاموں کی نوعیت اور ان کا اسلوب بیان کسی امر کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ وہ کام جو موعود ابن مریم کے ہاتھوں سے انجام پانے والے ہیں ان کی نوعیت اور ان کا پیرا یہ بیان ہی اس امر کی فیصلہ کن اور بین شہادت ہے کہ پیشگوئی نزول ابن مریم استعارہ و مجاز ہے۔ الفاظ پیشگوئی ظاہری معنوں کو برداشت ہی نہیں کر سکتے کیونکہ باور نہیں ہو سکتا کہ خدا کا نبی ورسول ہو اور بجائے علاج ارواح مریضہ کے خنزیروں کا شکار کرتا پھرے۔ عیسائی قوم کے لئے ایسے شکار سے بڑھ کر من بھاتا کھا جا اور کونسا ہوگا اور وہ چوبی یا پیتل کی صلیبیں گر جا بہ گرجا اور سینہ بہ سینہ توڑتا پھرے جو مشینوں کے ذریعہ سے کروڑوں کی تعداد میں جلدی بنائی جاسکتی ہیں۔ کسر صلیب یا قتل خنزیر کے الفاظ اپنے ظاہری معنوں پر محمول کرنے معقول نہیں اور ان کی بہتر سے بہتر تاویل ہو سکتی ہے۔ مثلاً ابطال مسیحیت اور خنزیری صفت انسانوں کا قلع قمع ۔ اسی طرح يَضَعُ الْحَرْب کی بھی کہ وہ بموجب لَا إِكْرَاهَ فِی الدِّینِ دین کی خاطر حرمت جنگ کا اعلان کرے گا اور صلح و آشتی و امن عالم کی بنیاد ڈالے گا ۔ وَيَفِيضَ الْمَالُ حَتَّى لَا يَقْبَلَهُ أَحَدٌ کا مفہوم ظاہر معنوں میں نہ صرف لا حاصل بلکہ بے جوڑ ہے۔ کیونکہ مادہ پرستی و حب الدنیا کی حالت تو یہ بیان ہوئی ہے کہ ایک سجدہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہوگا اور بجائے اس کے کہ سجدہ یاد دلانے کی اسے فکر ہو وہ خدا فروشی کی راہ اختیار کرے گا۔ غرض پیشگوئی کے الفاظ ظاہری تاویل کے قطعاً متحمل نہیں۔ ساری پیشگوئی ہی استعارہ و مجاز ہے اور ابن مریم کی کنیت بھی استعارہ ہے، مسیحی نفس موعود کے لئے جو روحانی شفا کا اعجاز عطا کیا جائے گا اور وہ امت محمد یہ ہی میں سے مبعوث ہونے والا موعود ہے نہ کہ فوت شدہ مسیح ابن مریم علیہ الصلوۃ والسلام - سورۃ التحریم کی آخری آیات اور ان میں وارد شدہ تمثیل امت محمدیہ کے لئے عظیم الشان بشارت پر مشتمل ہے۔ جنگی باب ۴۹ کی دونوں روایتیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں۔ پہلی حدیث کے آخر میں جس استدلال کا ذکر ہے وہ حضرت ابو ہریرہ کا اپنا استدلال ہے جو انہوں نے سورۃ النساء کی آیت ۱۲۰ (وَإِنْ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا) سے کیا ہے ۔ حضرت عیسی بن مریم کے نزول ثانی سے متعلق حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا یہ استدلال حدیث نبوی کا حصہ نہیں اور نہ منشائے حدیث نبوی کے مطابق ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ سے تو معلوم ہوتا ہے کہ زمانہ نزول ابن مریم حب الدنیا کی شدت کا زمانہ ہوگا۔ یہاں تک کہ اس میں ایک سجدہ نہا سجدہ نہایت گراں قدر بلکہ کالعنقاء ہوگا اور فتنہ و فساد اور قتل و غارت کا زمانہ ہوگا جس میں امتارکہ کی ضرورت محسوس ہوگی اور حضرت محسوس ہوگی اور حضرت ابو ہریرہ کے استدلال سے تو معا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ ال حضرت مسیح علیہ السلام کی موت