صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 439 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 439

صحيح البخاری جلد ۲ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء ابن مندہ نے عقیل اور اوزاعی کی متابعت کا ذکر اپنی کتاب الایمان میں کیا ہے اور اس لحاظ سے قابل قدر ہے کہ اس کے حوالہ سے حضرت ابو ہریرہ کے ضمنی استدلال سے جو الجھن پیدا ہوتی ہے وہ دور ہو جاتی ہے۔امام ابن حجر عسقلانی نے اس تعلق میں مختلف روایات نقل کی ہیں اور لکھا ہے کہ مسئلہ وفات و رفع مسیح اختلافی مسئلہ ہے۔وَالْأَصْلُ فِيْهِ قَوْلُهُ تَعَالَى إِنِّي مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ اور اس میں اصل تو یہ آیت ہے جس میں ذکر ہے کہ میں تجھے طبعی وفات دوں گا اور تجھے اُٹھاؤں گا۔اس اصل سے ان کے نزدیک نزول سے متعلق اختلاف دور ہو جاتا ہے اور ان کے رفع سے پہلے وفات کا وقوع میں آنا ضروری ہے۔(فتح الباری جزء ۶ صفہ ۲۰۲) اور یہی بات امام بخاری نے باب ۲۴ کی روایات نمبر ۳۳۹۴، ۳۳۹۶ سے نیز دومختلف حلیوں کے ذکر سے ثابت کی ہے کہ حضرت عیسی بن مریم فوت ہو گئے ہیں اور آنے والا ابن مریم ایک الگ حلیہ والا موعود ہے جو امت محمدیہ میں سے اس کا امام ہو گا۔اس شرح کے تعلق میں ایک اور امر قابل ذکر باقی ہے کہ باب ۴۸ کی روایت نمبر ۳۴۴۴ میں اور وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهُمَانَ کی سند سے منقول ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام نے تو ایک چور کے اللہ تعالیٰ کی قسم کھانے پر تصدیق فرمائی اور اپنی آنکھوں کا اعتبار نہ کیا۔اس سے امام موصوف نے باب ۴۹ والے بیان نبوی کی طرف توجہ دلائی ہے کہ آپ کی مندرجہ قسم کا تو پیرایہ بیان ہی استعارہ و مجاز ہو اور مسلمان حضرت عیسی ابن مریم علیہا السلام کے ظاہری وجسمانی نزول پر بضد ہوں۔یہ استدلال خوش فہمی پر مبنی نہیں کیونکہ اس واقعہ کا ذکر احکام کے تعلق میں بھی کیا ہے جہاں اس کا تعلق ظاہر ہے اور ائمہ نے اس سے کئی حکم مستنبط کئے اور شارحین نے ان کا ذکر بسط سے کیا ہے۔مثلاً شبہ اور احتمال پیدا ہو جانے پر حد دور ہو جاتی ہے یا قاضی اپنے علم پر فیصلہ کرنے کا مجاز نہیں۔(فتح الباری جزء 1 صفحہ ۵۹۸) یہاں اس کے ذکر سے وہی غرض ہے جو ابھی بیان ہوئی ہے اور واؤ عاطفہ کا قرینہ اس پر دلالت کرتا ہے۔غرض زیر شرح ابواب ترتیب محکم میں قائم کئے گئے ہیں محض روایات و احادیث کا مجموعہ نہیں۔باب ٥٠ : مَا ذُكِرَ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ بنی اسرائیل کے بارے میں جو بیان کیا گیا ہے اس کا ذکر ٣٤٥٠: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ :۳۴۵۰ موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ إِسْمَاعِيْلَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔عبدالملک ( بن عمیر) نے ہم سے عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ بیان کیا۔انہوں نے ربعی بن حراش سے روایت کی کہ قَالَ قَالَ عُقْبَةُ بْنُ عَمْرٍو لِحُذَيْفَةَ انہوں نے کہا: حضرت عقبہ بن عمرو (ابومسعود انصاری)