صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 436
صحيح البخاری جلد ۲ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء میں بیان ہوئی ہے اور جملہ اِمَامُكُمْ مِنْكُمْ کا عطف إِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ فِيكُمُ پر ہو تو عبارت تب ہی صحیح ہوگی اور مفہوم بھی وہی ہوگا جو امام جوزقی اور امام ابن التین رحمہم اللہ سمجھے ہیں۔یعنی تم کیسے ہو گے جب ابن مریم تم میں نازل ہوں گے اور تمہارا امام تمہی میں سے ہوگا۔پہلے فقرہ سے جو شبہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ نازل ہونے والا کہاں سے آئے گا؟ دوسرے فقرے سے دور کر دیا ہے کہ وہ ابن مریم تمہارا امام ہو گا جو تم میں سے ہوگا۔اسی طرح نزول کا فائل ابْنُ مَرْيَمَ اور اِمَامُكُم دونوں ہو سکتے ہیں اور سب سے بہتر تو یہ ہے کہ اِمَامُكُم مِنكُمْ کو جملہ حالیہ قرار دیا جائے۔جس کا مفہوم یہ ہوگا کہ ابن مریم تم میں نازل ہوں گے اور صورت نزول یہ ہوگی کہ وہ تمہارے امام ہیں جو تم میں سے ہوں گے۔مذکورہ بالا صورت عبارت وہ ہے جس کی اجازت نہ صرف قواعد دیتے ہیں بلکہ بغیر تکلف وہ مطلب حاصل ہو جاتا ہے جس کی طرف بعض ائمہ گئے ہیں یعنی شریعت اسلامیہ بدستور قائم رہے گی۔اسی کے مطابق احکام جاری ہوں گے۔جب امام اپنا ہو جو ابن مریم کے وصف سے اسی طرح متصف ہو جس طرح کہ سورۃ التحریم کی آخری آیت کا منشا ہے تو فوت شدہ عیسی بن مریم علیہ السلام کو ایک لمبے عرصے تک نہ زندہ رکھنے کی ضرورت ہوگی اور نہ جنت یا آسمان سے اسے اتارنے کی اور نہ یہ سوال پیدا ہوگا کہ وہ شریعت تو رات کا حامل ہوگا یا قرآن مجید کا اور نہ اس قسم کی کمزور روایات کی کہ بوقت نزول مسلمان بیت المقدس میں ہوں گے اور ان کا امام ایک مردِ صالح ہوگا۔ابن مریم کے نازل ہونے پر وہ پچھلی صف میں آ جائے گا اور ابن مریم سے عرض کرے گا کہ آگے بڑھ کر نماز پڑھائیں تو وہ اس کے دونوں کندھے تھام کر اس سے کہیں گے کہ آپ آگے بڑھیں، نماز کی اقامت آپ کے لئے ہوتی ہے۔یہ وہ کمزور روایتیں ہیں جو امام بخاری نے قبول نہیں کیں جو تکلف ایسی روایات میں ہے وہ ظاہر ہے۔اس تکلف سے نہ امت محمدیہ کی شان کچھ باقی رہتی ہے اور نہ ترتیب ابواب صحیح بخاری کی قدر و قیمت۔جو صرف اس غرض سے ترتیب دیئے گئے ہیں تا امت محمدیہ کو غلط قسم کی تو جیہات سے بچایا جائے اور خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ (آل عمران : 11) والی اس کی شان برقرار رکھی جائے۔یوں کہنے کو تو کہہ دیا جاتا ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبین ، افضل الرسل، سید ولد آدم اور سردار دوجہان ہیں اور خلاصہ اس فخر و افتخار کا یہ ہوا کہ آپ کی امت مرحومہ میں سے جو تمام امتوں سے بہترین امت ہے ایک فرد بھی ایسا نہ ہو سکے جو آپ کے فیوض و برکات سے مستفیض ہو کر عیسی بن مریم کا مثیل ٹھہرے اور جب امت مسلمہ کے افراد صراط مستقیم سے ہٹ جائیں تو اسے راہ راست پر لانے کے لئے عیسی بن مریم کی احتیاج ہو۔کتنا بھونڈا یہ خیال ہے۔ان ابواب پر ایک نظر پھر ڈالیں۔کیا امام بخاری ان کی ترتیب بلیغی سے یہی بات سمجھانا چاہتے ہیں یا یہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ حضرت عیسی ابن مریم تو فوت ہو گئے اور آنے والا موعود ابن مریم سورۃ التحریم کی بشارت کا حامل ہوگا۔یہی بات ذہن نشین کرانے کے لئے یہ باب ترتیب دیئے گئے ہیں۔ورنہ سورۃ التحریم والی بشارت کا باب ۴۶ میں کیا محل اور حضرت خدیجہ و حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما افضل النساء کے ذکر کا کیا موقع اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس