صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 435
صحيح البخاری جلد 4 ۴۳۵ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء اطرافه ٢۲۲۲، ٢٤٧٦، ٣٤٤٩۔السَّجْدَةُ الْوَاحِدَةُ خَيْرًا مِنَ الدُّنْيَا وَمَا سے ہوگا کہ کوئی اس کو قبول نہ کرے گا اور حالت یہ فِيْهَا ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ وَاقْرَعُوا إِنْ ہوگی کہ ایک سجدہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہوگا۔یہ حدیث شِئْتُمْ وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بیان کر کے حضرت ابو ہریرہ کہتے تھے: اگر تم چاہو تو یہ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيِّمَةِ يَكُونُ آیت پڑھ لو: اہل کتاب میں سے ایک بھی نہیں جو عَلَيْهِمْ شَهِيدًا ) (النساء: ١٦٠) اس (واقعہ) پر اپنی موت سے پہلے ایمان نہ لاتا رہے اور وہ قیامت کے دن ان پر گواہ ہو گا۔٣٤٤٩: حَدَّثَنَا ابْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا ۳۴۴۹ : ( سمي ) بن بگیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث اللَّيْثُ عَنْ يُونُسَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے یونس سے، یونس نے نَّافِعٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ ابن شہاب سے، ابن شہاب نے ابو قتادہ انصاری أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ الله کے آزاد کردہ غلام نافع سے روایت کی کہ حضرت صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا ابو ہریرہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ فِيْكُمْ وَإِمَامُكُمْ مِنْكُمْ۔تم کیسے ہوگے جب ابن مریم تم میں نازل ہوں گے اور تم ہی میں سے امام ہوں گے۔یونس کی طرح عقیل اور اوزاعی نے بھی اس کو روایت کیا۔تَابَعَهُ عُقَيْلٌ وَالْأَوْزَاعِيُّ۔تشریح۔اطرافه ٢۲۲۲، ٢٤٧٦، ٣٤٤٨۔نُزُولُ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ: عنوانِ باب کے تحت حضرت ابو ہریرہ کی جو روایت نقل کی گئی ہے وہ مشہور روایت ہے اور اس میں صرف ابن مریم کنیت (بغیر عیسی نام ) دارد ہے۔باب کی دوسری روایت بھی انہی سے مروی ہے اور اس میں بھی ابن مریم ہی کا لفظ ہے۔علاوہ ازیں اِمَامُكُمْ مِنْكُمُ کے الفاظ بتارہے ہیں جو جملہ اسمیہ ہے۔اس جملہ کی بہترین شرح وہ ہے جو امام جوزقی نے بعض متقدمین سے نقل کی ہے کہ وہ شریعت قرآن کے مطابق فیصلہ کریں گے۔ابن التین نے اس جملے کو حالیہ قرار دیا ہے اور اس سے یہ مراد لی ہے کہ أَنَّ الشَّرِيعَةَ الْمُحَمَّدِيَّةَ مُتَّصِلَةٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ - ( فتح البارى جزء ۶ صفر ۱۰۳) شریعت محمد یه روز قیامت تک برقرار رہے گی۔نزول ابن مریم سے اس میں کوئی وقفہ پیدا نہیں ہوگا۔دونوں ائمہ کا استدلال درست ہے اور اگر امام بخاری کی ترتیب ابواب مد نظر رکھی جائے اور امت محمدیہ کے کامل افراد مؤمنین کی ابن مریم سے مماثلت ملحوظ رہے جو سورۃ التحریم