صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 435 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 435

صحيح البخاری جلد ۲ ۴۳۵ ٢٠ - كتاب احاديث الأنبياء السَّجْدَةُ الْوَاحِدَةُ خَيْرًا مِنَ الدُّنْيَا وَمَا سے ہوگا کہ کوئی اس کو قبول نہ کرے گا اور حالت یہ فِيهَا ثُمَّ يَقُوْلُ أَبُو هُرَيْرَةَ وَاقْرَءُوا إِنْ ہوگی کہ ایک سجدہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہوگا۔ یہ حدیث شِئْتُمْ وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتٰبِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بیان کر کے حضرت ابو ہریرہ کہتے تھے: اگر تم چاہو تو یہ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيمَةِ يَكُونُ آیت پڑھ لو: اہل کتاب میں سے ایک بھی نہیں جو عَلَيْهِمْ شَهِيدًا (النساء : ١٦٠) اس (واقعہ) پر اپنی موت سے پہلے ایمان نہ لاتا رہے اور وہ قیامت کے دن ان پر گواہ ہوگا۔ اطرافه ٢۲۲۲، ٢٤٧٦، ٣٤٤٩۔ ٣٤٤٩ : حَدَّثَنَا ابْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا ۳۴۴۹ : (يحي ) بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث اللَّيْثُ عَنْ يُونُسَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یونس سے، یونس نے نَّافِعِ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ ابن شہاب سے، ابن شہاب نے ابو قتادہ انصاری أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ کے آزاد کردہ غلام نافع سے روایت کی کہ حضرت صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا ابوہریرہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ فِيكُمْ وَإِمَامُكُمْ مِنْكُمْ۔ تم کیسے ہو گے جب ابن مریم تم میں نازل ہوں گے اور تم ہی میں سے امام ہوں گے۔ یونس کی طرح تَابَعَهُ عُقَيْلٌ وَالْأَوْزَاعِيُّ۔ اطرافه ٢۲۲۲، ٢٤٧٦، ٣٤٤٨۔ عقیل اور اوزاعی نے بھی اس کو روایت کیا۔ تشريح : نُزُولُ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ : عنوان باب ا باب کے تحت حضرت ابو ہریرہ کی جو روایت نقل کی گئی ہے وہ مشہور روایت ہے اور اس میں صرف ابن مریم کنیت (بغیر عیسی نام ) ) وارد ہے۔ باب کی دوسری روایت بھی انہی سے مروی ہے اور اس میں بھی ابن مریم ہی کا لفظ ہے۔ علاوہ ازیں اِمَامُكُمْ مِنْكُمْ کے الفاظ بتا رہے ہیں جو جملہ اسمیہ ہے۔ اس جمہ جملہ کی بہترین شرح وہ ہے جو امام جوزقی نے بعض متقدمین سے نقل کی ہے کہ وہ شریعت قرآن کے مطابق فیصلہ کریں گے۔ ابن التین نے اس جملے کو حالیہ قرار دیا ہے اور اس سے یہ مراد لی ہے کہ أنَّ الشَّرِيعَةَ الْمُحَمَّدِيَّةَ مُتَّصِلَةٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ - ( فتح الباری جزء ۶ صفحه ۲۰۳) شریعت محمد یه روز قیامت تک برقرار رہے گی۔ نزول ابن مریم سے اس میں کوئی وقفہ پیدا نہیں ہوگا۔ دونوں ائمہ کا استدلال درست ہے اور اگر امام بخاری کی ترتیب ابواب مد نظر رکھی جائے اور امت محمدیہ کے کامل افراد مؤمنین کی ابن مریم سے مماثلت ملحوظ رہے جو سورۃ التحریم