صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 433
صحيح البخاری جلد 4 ۶۰ - كتاب احاديث الأنبياء (۲) انبیاء علیہم السلام بھی ایک دوسرے کے مثیل اور ہم نام ہیں۔(۳) حضرت عیسیٰ ابن مریم مسیح اسرائیلی فوت ہو گئے اور ان کے متبعین نے ان کے بارے میں غلو سے کام لیا اور ان کی طرف ایسی باتیں منسوب کی ہیں جو ان میں نہیں تھیں۔مسلمانو ! ایسا وطیرہ مبالغہ آمیزی کا اختیار نہ کرنا۔حضرت عیسی بن مریم علیہ السلام میں کوئی بات ایسی نہ تھی جو کسی دوسرے انسان میں نہ پائی گئی ہو۔(۴) اس صحیح ابن مریم علیہ السلام کا حلیہ اس مسیح ابن مریم کے حلیے سے بالکل جدا ہے جس کے ہاتھوں سے قتل دجال کی پیشگوئی پوری ہونے والی ہے۔ایک سرخ رنگ اور گھنگھریالے بالوں والا اور دوسرا گندم گوں اور سیدھے بالوں والا ہے۔اس خلاصہ سے اور ابواب کی ترتیب پر نظر ڈالنے سے امام بخاری کا مقصد مخفی نہیں رہ سکتا۔ان کے نزدیک حضرت مسیح ناصری عیسی ابن مریم علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں اور قاتل دجال مسیح ابن مریم وہ موعود ہے جو امت محمدیہ میں سے مبعوث ہو گا۔یہ خلاصہ ہے ان ابواب کا اور ان کی روایتوں کا۔اب ذیل میں باب وار احادیث و الفاظ کی ضروری شرح ملاحظہ ہو: انتَبَذَتْ مِنْ أَهْلِهَا: حضرت مریم نے اپنے اہل بیت سے دور مشرقی سمت جا کر گوشہ تنہائی اختیار کیا۔فَأَجَاءَ هَا الْمَخَاضُ : دروزہ نے انہیں مضطر کر دیا۔جَاءَ سے باب أَفْعَلَ، اِضْطَرَّ کے مفہوم میں ہے۔تَسَاقَط اور تَسْقُطُ کا معنی ایک ہی ہے۔فرماتا ہے: تُسَاقِط عَلَيْكِ رُطَبًا جَنِيًّا (مریم): (۲۶) یعنی کھجور کا تنا ہلا، تجھ پر تر و تازہ پھل گرے گا۔اسی طرح آتا ہے: فَانتَبَذَتْ بِهِ مَكَانًا قَصِيًّا (مریم) (۲۳) یہاں قَصِيًّا کے معنی ہیں قَاصِیا یعنی دور۔بچے کو لے کر کسی دور جگہ میں چلی گئیں۔آیت لَقَدْ جِئْتِ شَيْئًا فَرِيًّا (مریم: ۲۸) میں فَرِيًّا کے معنی ہیں عَظِيمًا اور مطلب یہ ہے کہ اے مریم! تو بہت ہی بڑی بات بنا کر لائی ہے۔قَصِيًّا اور فریا کے مذکورہ بالا معانی مجاہد سے مروی ہیں اور أَجَاءَ (بمعنی أتی ) ابو عبیدہ سے۔(فتح الباری جزء ۶ صفحه ۵۸۴) آیت يَا لَيْتَنِي مِتُ قَبْلَ هَذَا وَكُنتُ نَسُيًا مُنسِيًّا (مریم: (۲۲) کے معنی ہیں: اے کاش! میں اس سے پہلے ہی مرجاتی اور بھولی بسری ہوتی۔حضرت ابن عباس کے نزدیک اس کا مفہوم یہ ہے کہ میں نہ ہوتی۔لَمْ أَكُنْ شَيْئًا وَلَمْ أخلق - سدی کے نزدیک نِسی گھر میں گری پڑی حقیر شے کو کہتے ہیں جو نا قابل توجہ ہو۔( فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۵۸۵) إن كُنتَ تَقِيًّا کے بارے میں ابو وائل کا قول ہے: حضرت مریم کو علم تھا کہ متقی انسان عقل مند ہوتا ہے اور ایسی باتوں سے رکتا ہے۔اسی لئے آپ نے اِن كُنتَ تَقِيًّا کے الفاظ سے مخاطب کیا۔(فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۵۸۵) فَنَادَهَا مِنْ تَحْتِهَا إِلَّا تَحْزَنِي قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِيًّا (مریم: (۲۵) کے معنی ہیں کسی نے نشیب وادی سے مریم کو پکار کر کہا، غم نہ کر۔تیرے نیچے چشمہ جاری ہے اور کھانے کے لئے تر و تازہ کھجور کا پھل موجود ہے۔براء