صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 432
صحيح البخاری جلد 4 م سوم ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء چھٹی روایت (نمبر ۳۴۴۱) میں جو حلیہ بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عیسی کو سرخ رنگ نہیں بلکہ گندم گوں بتایا ہے، اس کے راوی حضرت عبد اللہ بن عمرؓ ہیں اور انہوں نے اپنے حلفیہ بیان میں جس ابن مریم کا یہ گندم گوں والا حلیہ بتایا ہے وہی دجال یک چشم کا قاتل ابن مریم ہے نہ کہ وفات شدہ اسرائیلی ابن مریم۔ظاہر ہے کہ دو مختلف حلیے دو الگ الگ شخصوں کا پتہ دیتے ہیں۔نام کا اشتراک تو عام ہے۔ایک نام سے کئی شخص ہو سکتے ہیں اور انبیاء اپنے مقام روحانی کے لحاظ سے ایک دوسرے کے مثیل ہیں جس کا ذکر حدیث نمبر ۳۴۴۲ میں کیا گیا ہے تا مماثلت کے بارے میں شبہ نہ رہے اور نام کا اشتراک غلط نہی پیدا نہ کرے۔ابن مریم کے تسمیہ سے تو غلط نہی پیدا ہوسکتی ہے کہ اس کنیت کا ایک ہی شخص ہے جو بنی اسرائیل میں گزرا ہے۔اس لئے ابن مریم کی واپسی سے اسی کی واپسی سمجھی جاسکتی ہے۔اس شبہ کا حل باب ۳۲ میں گزر چکا ہے۔جہاں سورۃ التحریم کی آیات کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ عمل صالح بجالانے والے مؤمن آسیه و مریم علیہما السلام کا مقام روحانی عطا کئے جاتے ہیں اور ان میں روح القدس کا نفخ ہوتا ہے۔جس سے ان کا بلند و بالا مقام روحانیت کا ارتقاء ہو سکتا ہے۔پس جب حلیہ جدا جدا بیان ہوا ہے تو ابن مریم کے نام سے جو مشکل پیش آسکتی تھی وہ مماثلت کے اعتبار سے آسان ہو جاتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس روحانی مماثلت کے اعتبار سے أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ (روایت نمبر ۳۴۴۳) تمام لوگوں سے بڑھ کر قریب ترین تعلق والا ابن مریم سے میں ہوں۔یہی روحانی مماثلت و مشابہت اور قاتل دجال والے مسیح موعود کی پیشگوئی باب ۳۸ کا اصل موضوع ہے اور اس سے قبل کے ابواب بطور تمہید ہیں اور ان کا مدعا اس پیشگوئی کا بیان ہے۔چنانچہ باب ۴۸ کا عنوان سورۃ مریم والی آیت وَاذْكُرُ فِى الْكِتَابِ مَرْيَمَ إِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ أَهْلِهَا۔۔۔اور اس عنوان کا اعادہ باب ۴۴ میں اور ان دونوں ابواب کے درمیان سورۃ آل عمران کی آیات متعلقہ حضرت مریم صدیقہ سے دو عنوان قائم کر کے ان کے تحت ایسی احادیث نقل کی گئی ہیں جن میں حضرت مریم علیہا السلام کی فضیلت کا ذکر ہے اور اس کے ساتھ حضرت خدیجہ اور حضرت عائشہ کی فضیلت کا بھی۔باب ۴۷ میں یہ ارشاد بھی ہوا ہے کہ اے اہل کتاب اپنے دین کے بارے میں غلو سے کام نہ لیا کرو۔کسی کی خوبی حد مقصود تک ہی محدود رکھو۔افراط تفریط سے کام نہ لو۔اس تبصرہ سے ظاہر ہے کہ یہ سارے ابواب مع احادیث و روایات ایک معین مقصد و غرض سے مرتب ہیں۔جن میں امام موصوف نے مریم اور ابن مریم کی فضیلت اور نزول ابن مریم سے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعدد اقوال پیش کر دیئے ہیں تا ان پر بالجملہ نظر غائر ڈال کر اصل حقیقت سمجھنے کی کوشش ہو اور اس کا خلاصہ یہ ہے : (1) مؤمن اپنے روحانی ارتقاء میں سیدہ آسیہ وسیدہ مریم صدیقہ سے مشابہت رکھتے ہیں اور امت محمدیہ میں بھی اعلیٰ درجہ کے مرد اور عورتیں پیدا ہوتی رہیں گی۔