صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 431 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 431

صحيح البخاری جلد ۶ ۶۰ - كتاب أحاديث الأنبياء اس غلط خیال کا ازالہ باب کی آخری احادیث ۳۴۴۴، ۳۴۴۵، ۳۴۴۶ سے کیا گیا ہے۔جن میں سے پہلی حدیث نبوی میں حضرت عیسی علیہ السلام کا واقعہ بیان ہوا ہے کہ انہوں نے دوسرے کی قسم کا اعتبار کیا اور چشم دید واقعہ دیکھنے کے باوجود اپنی آنکھ کا اعتبار نہیں کیا۔اگلی روایت نمبر ۳۴۴۵ میں ہے: لَا تُطْرُونِي كَمَا أَطْرَتِ النَّصَارَى ابْنَ مَرْيَمَم میری مدح میں مبالغہ نہ کرو جیسے نصاری نے ابن مریم کی مدح میں کیا ہے۔طَرَى، طَرُوا اور أَطْرَى إِلَيْهِ کے معنی ہوتے ہیں اس کی طرف خوش عقیدہ باتیں منسوب کیں جو اس میں نہیں تھیں اور نہ وہ درست ہوں ( کامل مبرد ) صرف نمائش ہی نمائش ہو۔روایت نمبر ۳۴۴۶ میں آتا ہے کہ اس شخص کو دوہرا ثواب ملے گا جو مجھ پر ایمان لایا اور پھر حضرت عیسی پر ایمان لایا۔ط لیکن یہ ایمان اسی وقت کارآمد ہو گا جب تقوی اللہ سے کام لیا جائے گا اور ہر ایک تم میں سے اپنا فرض منصبی ادا کرے گا۔روایت نمبر ۳۴۴۷ میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو روز محشر کا نظارہ دکھایا گیا۔آپ نے دیکھا کہ قیامت کے روز آپ کی امت کے کچھ لوگوں کو آپ کے حوض سے ہٹا کر دائیں بائیں لے جایا جائے گا۔اس پر آپ فرما ئیں گے کہ یہ تو میرے ساتھی ہیں۔جواب ملے گا: نہیں یہ تو اس وقت سے ہی مرتد ہیں جب آپ نے انہیں چھوڑا۔حضور فرماتے ہیں : تب میں عبد صالح عیسی بن مریم کی طرح کہوں گا: وَكُنتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّا دُمُتُ فِيْهِمْ : فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ ، وَأَنْتَ عَلى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ o إِنْ تُعَذِّبُهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادَكَ ، وَإِنْ تَغْفِرُ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (المائدة: (۱۱۹،۱۱۸) میں ان کی دیکھ بھال کرتا رہا جب تک ان میں رہا۔سو جب تو نے مجھے وفات دے دی تو تو ہی ان کا نگران تھا اور تو ہی ہر شئے کا واقف حال ہے۔اگر تو انہیں سزا دے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو ان کی پردہ پوشی فرمائے تو تو بڑی عزت والا اور بڑی حکمتوں والا ہے۔روایت نمبر ۳۴۴۷ اس امر پر فیصلہ کن ہے کہ حضرت عیسی بن مریم علیہ السلام فوت ہو گئے اور عیسائی آپ کی وفات کے بعد بوجہ مبالغہ آمیز عقائد کے راہ راست سے جو توحید ہے بھٹک گئے۔غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی سابقہ وفات شدہ نبی کی دنیا میں واپسی اور امت محمدیہ میں اس کی جانشینی کا خیال بھی خلاف عقل ہے اور اس کے یہ معنی کہ آپ کی تاثیر قدسی سے امت کا کوئی فرد بھی ابن مریم کا روحانی مقام حاصل نہیں کر سکتا اور آپ کی جانشینی کے اہل نہیں ، اس غلط خیال کے رڈ کرنے کی غرض سے حضرت امام بخاری نے اس باب میں حدیث ۳۴۳۸ نقل کی ہے۔جن میں انبیاء علیہم السلام کے مثیل اور انبیاء بنی اسرائیل کے ذکر میں حضرت عیسی علیہ السلام کا حلیہ بیان کیا ہے کہ وہ سرخ رنگ اور گھونگھریالے بالوں والے ہیں اور حدیث نمبر ۳۴۳۹ میں مسیح دجال یک چشم کا ذکر کرنے کے بعد روایت نمبر ۳۴۴۰ میں مسیح موعود ( قاتل دجال ) کا حلیہ بیان فرمایا ہے کہ وہ خوبصورت گندم گوں ہے۔( سرخ رنگ نہیں ) اور اس کے سر کے بال سیدھے ہیں ( گھنگھریالے نہیں۔)