صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 430
صحيح البخاری جلد ٦ م ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء اندھا تھا اور حضرت مسیح علیہ السلام سے آگے تھا۔(وراء کا لفظ آگے اور پیچھے دونوں کے لئے ہے۔بعد کی روایت سے لفظ وَراء کا مفہوم متعین ہوتا ہے۔) رویاء میں حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام طواف کرتے دیکھے گئے ہیں۔جن کے بال سیدھے تھے اور ان سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے۔فَذَهَبْتُ التَفِتُ فَإِذَا رَجُلٌ جَسِيم۔۔۔مڑ کے جو دیکھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ بھاری جسم والا شخص ہے جو فلاں حلیہ کا ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ یک چشم موٹا تازہ شخص الگ تھلگ طواف کر رہا تھا جس کے سر کے بال کنڈل دار بہت گھنے تھے۔امام ابن حجر اس تعلق میں لکھتے ہیں: وَيُرَادُ بِهِ الدَّمُ کہ اس سے مذمت مراد ہے۔جَعْدُ الْيَدَيْنِ وَجَعْدُ الأصابع - بخیل ، پست قد اور ذلیل شخص کو کہتے ہیں۔مسیح ابن مریم علیہما السلام اور مسیح دجال کے طواف میں حسب نیت و عمل فرق ہے۔اس (مسیح دجال ) کا طواف ہرم و تخریب بیت اللہ کے لئے ہوگا اور ان (مسیح بن مریم ) کا اس کی حفاظت کی غرض سے۔گویا فتنہ دجال کے ظہور کے بعد مسیح ابن مریم کی بعثت ہوگی تا خانہ خدا تو حید کو اس کے شر سے محفوظ رکھے۔باب ۴۸ کے تحت کل بارہ روایتیں ہیں۔پہلی روایت کا مقصد بیان کیا جا چکا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی خارق عادت ولادت و قوت تکلم ایسی نہیں جو بے مثل سمجھ کر خدائے یگانہ کی طرح دونوں ماں بیٹا پوجے جائیں۔بنی نوع انسان میں ایسی اکا دُکا مثالیں اور بھی مروی ہیں۔اس ذکر سے الوہیت مسیح کا ابطال مقصود ہے۔دوسری روایت کے آخر میں بتایا گیا ہے کہ جس طرح حضرت مسیح کی امت توحید سے بھٹک گئی، امت محمدیہ نہیں بھٹکے گی۔جو دین آپ کو عطا ہوا ہے وہ دین فطرت ہے وہ متغیر نہیں ہو گا۔اپنی حالت میں مصفار ہے گا۔تیسری، چوتھی، پانچویں اور چھٹی روایت کا خلاصہ بتایا جا چکا ہے کہ مسیح لقب دو شخصوں کے حلیوں کا اختلاف ان کی دو الگ الگ شخصیتوں پر دلالت کرتا ہے۔یعنی دو الگ وجود ہیں، ایک نہیں۔دجال جود ثمن حق ہے اس کا طواف کعبہ نیک نیتی سے نہیں ہوسکتا۔وہ بیت اللہ کو گرانے کے لئے چکر لگائے گا اور مسیح محمد کی اسے بچائے گا۔یہ مراد ہے ان روایتوں سے۔(دیکھئے روایات نمبر ۳۴۳۸ تا ۳۴۴۱) باب کی ساتویں روایت خاص طور پر قابل توجہ ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِابْنِ مَرْيَمَ۔دوسرے لوگوں کی نسبت میں ابن مریم سے زیادہ قریب کا تعلق رکھنے والا ہوں۔وَالْأَنْبِيَاءُ أَوْلَادُ عَلَّاتٍ اور انبیاء علاقی بھائی ہیں جن کا باپ تو ایک ہو اور مائیں الگ الگ۔یعنی باعتبار ربوبیت و غرض بعثت تمام انبیاء ایک ہی سرچشمہ الوہیت سے مستفید ہوتے ہیں اور ان کی بعثت سے مقصود بھی ایک ہی غرض ہے کہ بنی نوع انسان کا رابطہ اللہ تعالیٰ سے قائم کریں۔اس لحاظ سے انبیاء کے درمیان مماثلت و مشابہت ہوتی ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِابْنِ مَرْيَمَ - چونکہ ابن مریم قتل دجال کے لئے مامور ہے۔غرض وغایت کے اعتبار سے میرا اُس سے زیادہ تعلق ہے کیونکہ وہ میری غرض بعثت پوری کرنے والا ہوگا۔کیس بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِی۔میرے اور اس کے درمیان کوئی نبی نہیں یعنی وہ نبی ہوگا۔اس تصریح سے طبعا یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ ابن مریم سے مراد بنی اسرائیل والے سابقہ نبی حضرت عیسی بن مریم ہی مراد ہیں جو بوقت فتنہ دجال نازل ہو کر اس فتنہ کا قلع قمع کریں گے۔