صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 429 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 429

صحيح البخاری جلد ۲ ۴۲۹ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء تشریح : وَاذْكُرُ فِي الْكِتَابِ مَرْيَمَ إِذِ الْتَبَذَتْ مِنْ أَهْلِهَا : باب ۴۴ سے ۲۸ تک ایک اہم موضوع سے سے متعلق احادیث نبویہ مذکور ہیں اور یہ سب باب مع احادیث ایک خاص ترتیب میں مرتب ہیں جسے پہلے سمجھنا ضروری ہے تا امام بخاری کا نقطہ نظر سمجھنے میں آسانی ہو۔ورنہ بظاہر احادیث مذکورہ بالا بغیر معین غرض کے پانچ عنوانوں کے تحت جمع شدہ معلوم دیتی ہیں جو امام بخاری کے طریق کے خلاف ہے۔لیکن ذرا غور کیا جائے تو یہ سب ترتیب بلیغ میں معلوم ہوں گی۔باب ۴۸ کے آغاز میں حضرت مریم علیہا السلام کے ہاں ولادت اور ان کے بیٹے حضرت عیسی علیہ السلام کی ندرت تکلم کا ذکر ہے اور دونوں باتیں ہی نادر الوقوع ہیں۔ولادت بن باپ کی مثالیں بطور شاذ و نادر بشر میں ملتی ہیں اور کم سنی میں بچوں کے معقول کلام پر قادر ہونے کی مثالیں بھی پائی جاتی ہیں۔باب کا موضوع ایک امر واقعہ کے ذکر سے ہے جس کے لئے آیت وَاذْكُرُ فِي الْكِتَابِ مَرْيَمَ کا حوالہ دیا گیا ہے اور حضرت مریم علیہا السلام سے مومنوں کی مماثلت کا ذکر باب ۳۲ میں گزر چکا ہے۔تسلسل موضوع قائم رکھنے کی غرض اس باب اور اس کی روایتوں کا تعلق ہے۔ان میں سے پہلی روایت ( نمبر ۳۴۳۶) ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام ہی صفت متکلم میں منفرد نہیں تھے بلکہ بعض قومی روایات میں دوسرے بچوں کے کلام کرنے کا ذکر پایا جاتا ہے۔اسی طرح خارق عادت ولادت بھی۔اس کے بعد کی دوسری روایت (نمبر ۳۴۳۷) یہ ہے کہ معراج میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت موسیٰ اور آپ کے خلیفہ حضرت عیسی علیہا السلام سے ملاقات کی اور آپ نے ان کا حلیہ بیان فرمایا اور اس معراج میں آپ کے دودھ کا ہدیہ لینے پر آپ کو بشارت دی گئی کہ آپ کی امت حدود سے تجاوز نہ کرے گی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام سے بھی ملاقات ہوئی اور آپ نے فرمایا کہ میں شکل و سیرت میں ان سے زیادہ مشابہت رکھتا ہوں۔مذکورہ بالا مماثلت تب ہی درست ہوگی جب ان میں سے ہر ایک ممثل اور مثل بہ کا وجود الگ الگ تسلیم کیا جاوے۔فلاں فلاں کا ہم شکل ہے، اس سے مراد ہی یہ ہے کہ جس شخص سے مشابہت ہے اور جو مشابہ ہے دونوں الگ الگ وجود رکھتے ہیں۔چنانچہ تیسری حدیث ( نمبر ۳۳۳۸) جو مروی ہے اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عیسیٰ اور حضرت موسیٰ علیہما السلام دونوں کا حلیہ الگ الگ بیان فرمایا ہے۔روایت نمبر ۳۴۳۹، ۳۴۴۰ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اور رویاء درج ہے۔ایک مجلس میں آپ نے پہلے دجال یک چشم کا ذکر فرمایا ہے کہ وہ دا ہنی آنکھ سے اندھا ہوگا اور اس ذکر کے تعلق میں اپنی خواب بیان فرمائی ہے کہ مسیح ابن مریم علیہ السلام کو کعبہ کے پاس دیکھا۔گندم گوں رنگ ، بہت خوبصورت شکل، سر کے بال سیدھے کندھے پر لٹک رہے ہیں، ان میں کنگھی کی ہوئی ، پانی کے قطرے بالوں سے ٹپک رہے ہیں جیسے حمام سے ابھی غسل کر کے نکلے ہیں۔دو آدمیوں کے کندھوں پر ہاتھ ہیں اور وہ بیت اللہ کا طواف کر رہے ہیں اور اپنی رویاء میں دجال بھی دیکھا جو دا ہنی آنکھ سے