صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 428
صحيح البخاری جلد ۲ ۴۲۸ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء إِنَّا كُنَّا فَعِلِينَ ) (الأنبياء : ١٠٥) نے پہلے پہل پیدا کیا اسی طرح دوبارہ پیدا کریں فَأَوَّلُ مَنْ يُكْسَى إِبْرَاهِيمُ ثُمَّ يُؤْخَذُ گے۔ ہمارے ذمہ یہ ایک وعدہ ہے ہم ضرور پورا بِرِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِي ذَاتَ الْيَمِينِ کریں گے۔ (پھر فرمایا: ) سب سے پہلے جسے پہنایا وَذَاتَ الشِّمَالِ فَأَقُولُ أَصْحَابِي جائے گا، ابراہیم ہوں گے۔ پھر ( جب سب پہنائے فَيُقَالُ إِنَّهُمْ لَمْ يَزَالُوْا مُرْتَدِيْنَ عَلَی جائیں گے تو ) ایسا ہوگا کہ میرے صحابہ میں سے بعض أَعْقَابِهِمْ مُنْذُ فَارَقْتَهُمْ فَأَقُولُ كَمَا لوگوں کو دائیں طرف لے جایا جائے گا اور بعض کو قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ بائیں طرف۔ میں کہوں گا یہ میرے ساتھی ہیں۔ تو کہا وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّا دُمْتُ جائے گا: آپ جب سے ان سے جدا ہوئے وہ اپنی فِيهِمْ ۚ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ اَنْتَ ایڑیوں کے بل پھرے رہے۔ تو میں ویسے ہی کہوں گا الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ وَاَنْتَ عَلَى كُلِّ جیسے اس نیک بندے یعنی عیسی بن مریم نے کہا تھا: شَيْ شَهِيدٌ إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ میں اپنی قوم پر نگران رہا جب تک میں ان کے عِبَادُكَ وَ إِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ درمیان رہا۔ جب تو نے مجھے وفات دے دی تو تو ہی ان کا نگہبان تھا اور تو ہی ہر ایک چیز کا نگران ہے۔ اگر أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (المائدة: ۱۱۸، ۱۱۹) تو انہیں سزادے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو ان کی پردہ پوشی فرمائے تو تو بڑی عزت والا اور بڑی حکمتوں والا ہے۔ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفَرَبْرِيُّ محمد بن يوسف فربری نے کہا: ابو عبد الله (امام بخاری ) ذُكِرَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَنْ قَبِيْصَةَ سے بیان کیا گیا ہے کہ انہوں نے قبیصہ سے نقل کیا قَالَ هُمُ الْمُرْتَدُّوْنَ الَّذِيْنَ ارْتَدُّوا اور انہوں نے کہا: یہ وہی مرتد ہیں جو حضرت ابو بکر عَلَى عَهْدِ أَبِي بَكْرٍ فَقَاتَلَهُمْ أَبُو بَكْرٍ کے زمانہ خلافت میں مرتد ہوئے تھے اور حضرت رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ان سے جنگ کی تھی۔ اطرافه ٣٣٤٩، ٤٦٢٥، ٤٦٢٦، ٤٧٤٠، ٦٥٢٤، ٦٥٢٥، ٦٥٢٦۔