صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 419 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 419

صحيح البخاري - جلد 4 فَرِيًّا۔۴۱۹ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء بَاب ٤٨: قَوْلُ اللهِ تَعَالَى وَاذْكُرُ فِي الْكِتَبِ مَرْيَمَ إِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ أَهْلِهَا (مریم: ۱۷) کتاب میں مریم کا حال پڑھ جبکہ وہ اپنے لوگوں سے الگ ہوئی تھی نَبَذْنَاهُ أَلْقَيْنَاهُ اعْتَزَلَتْ شَرْقِيَّا (مریم:(۱۷) انتَبَذَتْ، نَبَذَ سے ہے۔کہتے ہیں نَبَذْنَاهُ ہم نے اس مِمَّا يَلِي الشَّرْقَ فَأَجَاءَهَا (مریم: ٢٤) کو پھینک دیا۔انتَبَذَتْ وہ الگ ہوگئی۔شَرْقِيًّا کے أَفْعَلْتُ مِنْ جِئْتُ وَيُقَالُ أَلْجَأَهَا اضْطَرَّهَا معنی ہیں وہ حصہ جو مشرق سے ملا ہو۔فَأَجَـاءَ هَا، تَساقَطْ تَسْقُطْ قَصِيًّا (مریم: ۲۳) قَاصِيًّا جَاءَ سے باب افعال ہے اور اس کے معنی یہ کئے جاتے ہیں کہ اس کو بے قرار کر دیا۔تساقط یعنی گریں گے۔قصِيًّا کے معنی ہیں دور۔فریا کے معنی ہیں بہت بڑا۔حضرت ابن عباس نے کہا: نَسیا کے معنی ہیں میں کچھ غَيْرُهُ النِّسْيُ الْحَقِيْرُ۔وَقَالَ أَبُوْ وَائِلٍ بھی نہ ہوتی۔اور حضرت ابن عباس کے علاوہ اوروں عَلِمَتْ مَرْيَمُ أَنَّ التَّقِيَّ ذُو نُهْيَةٍ حِيْنَ نے کہا: البَسُی کے معنی ہیں حقیر۔اور ابو وائل نے کہا: قَالَتْ إِنْ كُنْتَ تَقِيًّا (مريم: ١٩)۔مریم نے جب یہ کہا : اِنْ كُنتَ تَقِيًّا تو وہ جانتی تھیں کہ متقی وہ ہے جو عقل مند ہو ، جو بدیوں سے رُک جائے۔(مریم: ۲۸) عَظِيمًا، قَالَ ابْنُ عَبَّاسِ نَسيَّا (مريم: ٢٤) لَمْ أَكُنْ شَيْئًا۔وَقَالَ قَالَ وَكِيعٌ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ وسیع نے بتایا۔انہوں نے اسرائیل سے، اسرائیل نے أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَاءِ سَرِيَّا (مریم:(۲٥) ابو اسحاق سے، ابو اسحاق نے حضرت براء سے روایت نَهَرٌ صَغِيْرٌ بِالسُّرْيَانِيَّةِ۔کی کہ سریا سریانی زبان میں ندی کو کہتے ہیں۔٣٤٣٦: حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ :۳۴۳۶ : مسلم بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا جَرِيْرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جریر بن حازم نے ہمیں بتایا۔انہوں نے محمد بن سیرین سِيْرِيْنَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ سے، ابن سیرین نے حضرت ابو ہریرہ سے، حضرت صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَمْ يَتَكَلَّمْ ابوہریرہ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپ نے الله فِي الْمَهْدِ إِلَّا ثَلَاثَةٌ عِيْسَى وَكَانَ فِي فرمايا : بچپن میں سوائے تین کے کسی نے باتیں نہیں