صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 418
البخاري - جلد 4 ۴۱۸ ۶۰ - كتاب احاديث الأنبياء تم اپنے دین کے معاملہ میں غلو سے کام نہ لو اور اللہ کے متعلق سچی بات کے سوا ( کچھ ) نہ کہو کہ مسیح ابن مریم اللہ کا صرف (ایک) رسول اور اس کی (ایک) بشارت تھا جو اس نے مریم پر نازل کی تھی اور اس کی طرف سے ایک رحمت تھا۔اس لئے تم اللہ ( پر ) اور اس کے تمام رسولوں پر ایمان لاؤ اور (یوں) نہ کہو کہ (خدا) تین ہیں۔(اس امر سے) باز آجاؤ۔( یہ ) تمہارے لئے بہتر گا۔اللہ ہی اکیلا معبود ہے۔وہ (اس بات سے) پاک ہے کہ اس کے ہاں اولاد ہو۔جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے (سب) اسی کا ہے اور اللہ کی حفاظت کے بعد اور کسی حفاظت کی ضرورت نہیں۔الزامی جوابوں کے تکرار اور ان میں حدادب و اعتدال ملحوظ نہ رکھنے سے خود اپنے اخلاق متاثر ہونے کا اندیشہ ہے اور نفس رفتہ رفتہ زنگ آلود ہو کر حق شناسی کی راہ سے دور ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَأَنِ احْكُمُ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ وَلَا تَتَّبِعُ أَهْوَاءَ هُمْ وَاحْذَرُهُمُ أَنْ يُفْتِنُوكَ عَنْ بَعْضِ مَا أَنزَلَ اللهُ إِلَيْكَ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمُ أَنَّمَا يُرِيْدُ الله اَنْ يُصِيبَهُمْ بِبَعْضٍ ذُنُوبِهِمْ ، وَإِنَّ كَثِيرًا مِّنَ النَّاسِ لَفَسِقُوْنَ ) (المائدة: ۵۰) یعنی اے رسول! تو ان کے درمیان اس کلام کے ذریعہ سے فیصلہ کر جو اللہ نے ( تجھ پر ) اتارا ہے اور تو ان کی خواہشات کی پیروی نہ کر اور ان سے ہوشیار رہ کہ وہ تجھے فتنہ میں ڈال کر اللہ کے اتارے ہوئے کلام سے دور نہ لے جائیں۔پھر اگر وہ پھر جائیں تو جان لے کہ اللہ چاہتا ہے کہ ان کو ان کے بعض گناہوں کی وجہ سے سزا دے اور لوگوں میں سے بہت سے لوگ عہد شکن ہیں۔ہمارے لئے نمونہ دعوت و تبلیغ خود معنونہ آیت میں بھی ہے جنت میں داخل ہونے کی بڑی شرط یہی قرار دی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ایک سمجھا جائے اور اس کے حکموں پر عمل ہو۔مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ : قَالَ الْوَلِيدُ وَحَدَّثَنِي ابْنُ جَابِرٍ عَنْ عُمَيْرٍ عَنْ جَنَادَة والى روايت کی یہ سند مع زیادتی الفاظ امام سلمہ سے مروی ہے۔یعنی تمام موحد جنت کے آٹھوں دروازوں سے داخل ہوں گے۔عَلَى مَا كَانَ مِنَ الْعَمَلِ۔اپنے اپنے عمل کے مطابق۔ان میں سے ہر ایک کے جنت میں داخل ہونے کی کیفیت الگ الگ ہوگی اور اعمال کی وجہ سے ان کے درجات میں تفاوت ہوگا۔اس تعلق میں دیکھئے کتاب الایمان باب ۲۳۱، ۳۱ ۳۳، ۳۶۔جہاں ایمان کے ساتھ عمل کو باندھ کر اس کی مختلف حالتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔یہ حوالے اس لئے قابل توجہ ہیں کہ مذکورہ بالا روایت سے یہ سمجھنا درست نہیں کہ خالی کلمہ توحید کے زبانی اقرار سے آٹھوں دروازوں سے جنت میں داخل ہونے کی کھلی اجازت ہوگی۔ایسا نہیں ہوگا بلکہ موحد کی عملی حالت کے مطابق ہی اسے داخل ہونے کی اجازت ہوگی۔اس تعلق میں مسند احمد بن جنبل کی روایت بھی دیکھئے۔یہ روایت بھی حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی ہے کے ا (صحیح مسلم، كتاب الإيمان، باب الدليل على أن من مات على التوحيد دخل الجنة قطعا) (مسند احمد بن حنبل، مسند الأنصار، حديث عبادة بن الصامت، جزء ۵ صفحه ۳۲۵)