صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 417 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 417

صحيح البخاری جلد ٦ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء میں نہ لا۔( لوقا باب ۱۱ آیات ۲ تا ۴) اور ایک موقع پر حضرت مسیح علیہ السلام کو نیک کہنے والے سے آپ نے فرمایا: تو مجھے کیوں نیک کہتا ہے؟ کوئی نیک نہیں مگر ایک یعنی خدا۔(لوقا باب ۱۸ آیت (۱۹) اور اسی باب میں یہ بھی فرمایا کہ جب تک خدا کے حکموں پر عمل نہ کیا جائے اور سب مال و منال اس کی راہ میں قربان نہ ہوں خدا کی بادشاہی میں داخل ہونا ایسا ہی ناممکن ہے جیسا کہ اونٹ کا سوئی کے ناکے میں سے نکل جانا۔سو تمام انبیاء علیہم السلام اور ان کے حقیقی پیرو انہی معنوں میں معصوم و نجات یافتہ ہیں اور انہی معنوں میں حضرت مریم اور حضرت ابن مریم بھی معصوم و نجات یافتہ تھے۔بلکہ قرآن مجید میں تو ہر مومن صالح راست رو کی تشبیہ معصومیت میں حضرت مریم علیہا السلام سے دی گئی ہے جیسا کہ بیان ہو چکا ہے۔پس معصومیت کا غلط تصور کر کے مبالغہ آمیز باتیں بنانا راستبازوں کا شیوہ نہیں بلکہ راستبازی وہی ہے جس کا پاک نمونہ حضرت داؤد و حضرت عیسی علیہا السلام اور ان کے ماسوا دیگر انبیاء نے دکھایا کہ وہ عمر بھر اپنے خالق ذوالجلال کے سامنے تواضع اور بجز وفروتنی سے کام لیتے اور اپنے کامل تزکیہ نفس کے لئے ہمیشہ دعاؤں میں لگے رہے اور اپنی کمزوریوں سے متعلق ان کا شعور و احساس اتنا شدید و نازک تھا کہ حیرت آتی ہے۔حضرت مسیح علیہ السلام ہی کا نمونہ دیکھیں جنہیں معصوم اور خدا کا بیٹا بلکہ شریک باری تعالیٰ سمجھا جاتا ہے وہ الزام لگانے والے یہودیوں سے فرماتے ہیں: جو تم میں بے گناہ ہو وہی پہلے اس زیر الزام عورت کے پتھر مارے اور جب ان میں سے کسی یہودی کو جرات نہ ہوئی اور وہ ایک ایک کر کے وہاں سے چل دیئے تو آپ نے اس عورت سے پوچھا: کیا کسی نے تجھ پر حکم نہیں لگایا ؟ اس نے کہا: اے خداوند ! کسی نے نہیں۔تو انہوں نے کہا: میں بھی تجھ پر حکم نہیں لگاتا۔جا پھر گناہ نہ کرنا۔(یوحنا باب ۸ آیات ۷ تا ۱۱) اپنے عجز و انکسار کا کتنا عجیب شعور ہے اگر ان کے متعلق اس فقرہ سے کوئی شخص غلط نتیجہ اخذ کرے تو یہ بھی غلو اور حدو د ادب سے تجاوز ہو گا اور اگر معصومیت اور ابن اللہ کے استعارہ سے کوئی انہیں خدا اور خدا کا بیٹا سمجھے تو یہ بھی غلو ہے۔معنونہ آیت میں میانہ روی اور راست بازی کی تلقین ہے۔امام بخاری کے نزدیک مذکورہ بالا آیت کے مخاطب مسلمان و یہود و نصاری کبھی ہیں۔ہمارے مبلغین و مناظرین کو چاہیے کہ وہ دعوت حقہ و مناظروں میں وہی طریق اختیار کریں جو آنحضرت ﷺ نے اختیار فرمایا ہے کہ اپنے مخالفین کی عداوت و دشنام دہی کے باوجود حضرت مسیح علیہ السلام اور ان کی والدہ سے یہودیوں کے گندے الزاموں کی تردید پر زور الفاظ میں فرمائی اور کسی موقع پر الزامی جواب کی نامناسب راہ اختیار نہیں کی۔مذکورہ بالا آیت میں بھی آپ کو ہدایت ہوئی ہے کہ اہل کتاب کو توحید کی دعوت دی جائے اور انہیں راستبازی اختیار کرنے اور غلو سے بچنے کی تلقین ہو۔فرماتا ہے: تأهلَ الْكِتَابِ لَا تَغْلُوا فِي دِينِكُمْ وَلَا تَقُولُوا عَلَى اللهِ إِلَّا الْحَقَّ إِنَّمَا الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَسُولُ اللهِ وَكَلِمَتُهُ الْقِهَا إِلَى مَرْيَمَ وَرُوْحٌ مِنْهُ فَآمِنُوا بِاللهِ وَرُسُلِهِ وَلَا تَقُولُوا ثَلَاثَةٌ اِنْتَهُوا خَيْرًا لَكُمْ إِنَّمَا اللَّهُ إِلَهُ وَاحِدٌ سُبْحَانَهُ أَنْ يَكُونَ لَهُ وَلَدٌ لَهُ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَكَفَى بِاللهِ وَكِيَّاه (النساء: ۱۷۲) اے اہل کتاب! ز قف