صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 416
صحيح البخاري - جلد 4 ام ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء طرح عقیدہ تثلیث یا عقیدہ یہود۔اللہ تعالیٰ نے تمام اہل کتاب کو اپنے دین میں غلو کرنے سے منع فرمایا ہے اور ان میں سے ہر مذہب وملت کو حدود کے اندر رہنے کی تلقین فرمائی ہے۔معصومیت کی غلط تعریف کر کے مسلمانوں نے بھی ٹھو کر کھائی ہے اور حضرت عیسی علیہ السلام کی ولادت و معجزات کے بارے میں کمزور روایتوں کو چر چا دیا ہے اور اسی طرح عیسائیوں نے بھی ان کی امنیت والوہیت کا عقیدہ گھڑا اور توحید پرست ہونے کے بعد کہاں سے کہاں پہنچے ہیں۔اللہ بھلا کرے امام بخاری کا جنہوں نے لغو قصے کہانیوں کو رڈ فرمایا ہے اور اگر عیسائی اپنی ہی کتابوں میں غور کریں تو انہیں حضرت مریم اور حضرت عیسی علیہ السلام کی حقیقی شان معلوم ہوسکتی ہے۔لوقا بابا، آیات ۳۸ تا ۵۵ میں لکھا ہے کہ مریم علیہا السلام خدا تعالیٰ کی بڑائی کرنے والی باندی اور اپنی پست حالی پر نظر رکھنے والی عبادت گزار خاتون تھیں جس کی وجہ سے وہ نوازی گئیں۔اسی طرح حضرت عیسی علیہ السلام کا پیلاطوس حاکم وقت کو پر معرفت جواب کہ اگر تجھے اوپر سے اختیار نہ دیا جاتا تو تیرا مجھ پر کچھ اختیار نہ ہوتا۔(یوحنا باب ۱۹ آیت ۱۱) دلالت کرتا ہے کہ انتہائی مصیبت کی گھڑی میں بھی کلمہ توحید کہنے سے نہیں چوکے۔آپ کا یہ بے ساختہ جواب توحید میں آپ کے بلند ترین مقام کا پتہ دیتا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نہایت نازک ساعت اور خوف و ہراس کی گھڑی میں بھی شیطانی تسلط نے آپ کے دل میں راہ نہ پائی۔یہی مفہوم ہے حدیث نبوی کا کہ ماں بیٹا دونوں میں شیطان سے معصوم تھے جیسا کہ ہر نبی و رسول وصدیق و شہید محفوظ و مامون ہوتا ہے۔معصومیت کا یہ مفہوم نہیں کہ کوئی معصوم انسان اس خلقت سے معرا ہے جو أَحْسَنُ التَّقویم کے زریں فقرہ سے تعبیر کی گئی ہے اور اس کے نفس ناطقہ بشریہ میں خواہشات پیدا ہی نہیں کی گئیں جنہیں شیطان اپنی تحریکات کا ذریعہ بناتا اور انسان کو حد اعتدال سے نکال دیتا ہے۔اگر معصومیت کا یہ مطلب ہوتا تو نیکی وثواب دونوں کالعدم ہو جاتے ہیں۔کیونکہ نیکی وثواب کا دارو مدار ہی اس امر پر ہے کہ تحریکات شیطانیہ ہوں اور وہ رد کر دی جائیں جیسا کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے بوقت آزمائش شیطان کی ہر تحریص رڈ کی اور اس سے فرمایا: ”اے شیطان دور ہو کیونکہ لکھا ہے کہ تو خدا وند اپنے خدا کو سجدہ کر اور صرف اسی کی عبادت کرے (متی باب ۴ آیت (۱۰) طمع و حرص کی شیطانی آزمائش رڈ کرنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ تب ابلیس اس کے پاس سے چلا گیا اور دیکھو کہ فرشتے آکر اس کی خدمت کرنے لگے۔یعنی ابلیسی تحریکات کی جگہ ملکی تحریکات نے لے لی۔یہی مفہوم ہے مشار الیہ حدیث کا کہ دونوں ماں بیٹا مس شیطان سے معصوم ہیں اور ابلیسی خیالات ان کے نفوس مطہرہ کی راہ نہ پاسکیں گے۔سچ ہے نور تاریکی میں چمکتا ہے دونوں کے وجود کو ایک دوسرے سے شناخت کیا جاتا ہے۔چاہیے کہ انسان حقیقت شناس اور حقیقت پسند ہو نہ کہ مبالغہ آمیز اور باطل پرست۔پس معصومیت کا مفہوم بالکل غلط سمجھا گیا ہے جو بہتوں کی ٹھوکر کا موجب ہوا ہے۔انبیاء علیہم السلام نے اپنی روز مرہ کی مناجات میں دعا کی کہ تیرا نام پاک مانا جائے۔تیری بادشاہی آئے اور ہمارے گناہ معاف کر۔۔۔اور ہمیں آزمائش