صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 415
صحيح البخاري - جلد 4 ۴۱۵ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ قَالَ وليد بن مسلم ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اوزاعی حَدَّثَنِي عُمَيْرُ بْنُ هَانِي قَالَ حَدَّثَنِي سے روایت کی۔انہوں نے کہا: عمیر بن ہانی نے مجھ سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: جنادہ بن ابی امیہ نے ةُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ عَنْ عُبَادَةَ رَضِيَ مجھے بتایا۔انہوں نے حضرت عبادہ بن صامت) اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ رضی اللہ عنہ سے، حضرت عبادہ نے نبی ﷺ سے وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ شَهِدَ أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ روایت کی۔آپ نے فرمایا: جس نے یہ شہادت دی وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ که صرف ایک اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔کوئی اس کا وَرَسُوْلُهُ وَأَنَّ عِيْسَى عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ شریک نہیں اور یہ کہ محمد اس کے عبد ہیں اور اس کے رسول ہیں اور یہ کہ عیسی اللہ کے عبد ہیں اور اس کے وَكَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَى مَرْيَمَ وَرُوْحٌ مِنْهُ رسول ہیں اور اس کی ایک بشارت ہیں جو اس نے وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ أَدْخَلَهُ الله مریم کو دی تھی اور اس کی رحمت تھے اور جنت برحق ہے الْجَنَّةَ عَلَى مَا كَانَ مِنَ الْعَمَلِ قَالَ اور آگ بھی برحق ہے۔اللہ ان کو جنت میں اپنے اپنے عمل کے مطابق داخل کر دے گا۔ولید نے کہا: الْوَلِيْدُ حَدَّثَنِي ابْنُ جَابِرٍ عَنْ عُمَيْرٍ (عبد الرحمن بن یزید ) بن جابر نے مجھے یہ حدیث بتائی۔عَنْ جُنَادَةَ وَزَادَ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ انہوں نے عمیر سے ، عمیر نے جنادہ سے روایت کی اور الثَّمَانِيَةِ أَيُّهَا شَاءَ۔اس میں یہ الفاظ زیادہ بیان کئے کہ جنت کے آٹھ دروازوں میں سے جن میں سے وہ چاہے گا داخل ہو گا۔تشریح : يَأَهْلَ الْكِتَابِ لَا تَعْلُوا فِي دِینگم : اے اہل کتاب! اپنے دین میں خلونہ کر یعنی حد سے نہ بڑھو۔قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ كَلِمَتُهُ كُنْ فَكَانَ۔ابو عبید سے مراد قاسم بن سلام ہیں۔ان کے نزدیک کلمہ سخن ہی متمثل ہو کر وجود پذیر ہو گیا۔آیت كَلِمَتُهُ الْقَهَا إِلَى مَرْيَمَ کی یہی شرح ابوعبیدہ معمر بن مثنی اور قتادہ سے بھی مروی ہے۔(فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۵۷۸) وَقَالَ غَيْرُهُ وَرُوْحٌ مِنْهُ أَحْيَاهُ فَجَعَلَهُ رُوحًا اور ان کے سوا دوسروں نے کہا کہ مسیح اللہ کا کلمہ سخن تھا جو اس کی تقدیر سے وجود پذیر ہو گیا اور یہی کلمہ روح بنا یعنی اسے زندگی بخشی گئی۔وَلَا تَقُولُوا ثَلَاثَة اور تین خدامت کہو۔اس سے محولہ بالا آیت کا بقیہ حصہ مراد ہے۔مذکورہ بالا حوالوں اور شرح سے ظاہر ہے کہ یاهْلَ الْكِتَابِ سے امام بخاری کے نزدیک اہل اسلام، یہود و نصار کی سب مراد ہیں۔حضرت مسیح علیہ السلام کی پیدائش سے متعلق (اس کی کنہ و کیفیت کے بارے میں ) چھان بین یا قیاس آرائی بھی اسی طرح غلو ہے جس