صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 414
صحيح البخاري - جلد 4 م اسم ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء باب ۳۳ سے باب ۴۶ میں بیان ہوئی ہے اور ان سے ماقبل اور مابعد کے ابواب میں بار بار بیان کی گئی ہے اور جس رحمت سے افضل الرسل خاتم النبین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت مخصوص مشرف اور جو كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسَ کی مصداق ہے۔عَلَيْهِ صَلَوَاتُ اللهِ اَلْفَ صَلَوَاتٍ وَعَلَى أُمَّتِهِ - ہم ہوئے خیر اہم تجھ سے ہی اے خیر اسل تیرے بڑھنے سے قدم آگے بڑھایا ہم نے آئینہ کمالات اسلام- روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۲۲۶) باب ٤٧ قَوْلُهُ يَاهْلَ الْكِتَبِ لَا تَغْلُوا فِي دِينِكُمْ وَلَا تَقُوْلُوْا عَلَى اللَّهِ إِلَّا الْحَقَّ اللہ تعالیٰ کا فرمانا: اے اہل کتاب! اپنے دین میں غلومت کرو اور اللہ کی نسبت سوائے سچی بات کے نہ کہو إنَّمَا المُيْحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَسُول مسیح عیسی بن مریم اللہ کا صرف ایک رسول اور اس کی اللهِ وَكَلِمَتُهُ الْقُهَا إِلى مَرْيَمَ وَرُوح ایک بشارت تھا جو اس نے مریم پر نازل کی تھی اور اس مِنْهُ فَامِنُوا بِاللهِ وَرُسُلِهِ وَلَا تَقُولُوا کی طرف سے ایک رحمت تھا۔اس لئے تم اللہ اور اس ثَلَثَةٌ اِنْتَهُوا خَيْرًا لَّكُمْ إِنَّمَا الله اله کے رسولوں پر ایمان لاؤ اور تین مت کہو، رُک جاؤ وَاحِدٌ سُبْحَنَةٌ اَنْ يَكُونَ لَهُ وَلَدٌ تمہارا بھلا ہوگا۔اللہ ہی صرف ایک معبود ہے۔پاک لَهُ مَا فِي السَّمَوتِ وَ مَا فِي الْأَرْضِ ہے وہ اس بات سے کہ اس کا کوئی بیٹا ہو۔اسی کا ہے وَكَفَى بِاللهِ وَكِيْلًا (النساء: ۱۷۲) جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ اس زمین میں ہے اور اللہ ہی بس ایک کارساز ہے۔b قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ كَلِمَتُهُ كُنْ فَكَانَ وَقَالَ ابو عبید نے کہا: كَلِمَة سے مراد ہے کُن۔یعنی ہو جا غَيْرُهُ وَرُوحُ مِنْهُ أَحْيَاهُ فَجَعَلَهُ رُوْحًا اور وہ ہو گیا۔دوسروں نے کہا: رُوحٌ مِنہ سے یہ مراد وَلَا تَقُولُوا ثَلثَةٌ ہے کہ اللہ نے ان کو زندہ کیا اور ان کو روح بنایا اور تین خدا نہ کہو۔٣٤٣٥: حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ :۳۴۳۵: صدقہ بن فضل نے ہم سے بیان کیا کہ