صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 413 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 413

صحيح البخارى- جلد 4 ۱۳ ۶۰ - كتاب احاديث الأنبياء ☆ وَنَجِّنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ) (التحریم: ۱۲) * صالح مومن حضرت آسیہ کی مانند پہلے مرحلہ سلوک میں ہے اور اس کے بعد مریم علیہا السلام کی مانند محفوظ اور مصدقین کلمات اللہ اور قانتین کے زمرہ میں ہے جو پابند احکام الہی اور مقام ادب واطاعت پر کھڑا اور نفخ روح القدس کا امیدوار اور اعلیٰ مرحلہ ارتقاء روحانی پر گامزن ہے۔جیسا کہ آیت فَنَفَخُنَا فِيهِ مِنْ رُّوحِنَا وَصَدَّقَتْ بِكَلِمَاتِ رَبِّهَا وَكُتُبِهِ وَكَانَتْ مِنَ الْقَانِتِينَ ) (التحریم: ۱۳) اشارہ کر رہی ہے۔غرض باب ۳۲ کے مضمون کا باب ۴۶ میں اعادہ دوسرا قوی قرینہ ہے کہ اس باب کے موضوع کا تعلق دراصل کاملین امت محمدیہ سے ہے نہ کہ کاملین امت موسویہ سے جو اپنی مقدر عمروں کا دور پورا کر چکے۔جس شخص کی نظر شب تاریک میں کام نہ کرے وہ تو معذور سمجھا جا سکتا ہے بھلا وہ شخص جو آفتاب نصف النہار کی روشنی میں بھی نہ دیکھے وہ کیونکر بینا کہلا سکتا ہے؟ اسی طرف اشارہ کرنے کی غرض سے الْأَكْمَهُ كے معنى مَنْ يُولَدُ أَعْمَى (پیدائشی نابینا) بھی کئے گئے ہیں جو نہ دن کو دیکھ سکے اور نہ رات کو۔یہ معنے طبری نے سری ، حسن بصری اور حضرت ابن عباس وغیر ہم سے نقل کئے ہیں۔جس کا حوالہ شرح الفاظ کے آخر میں دیا گیا ہے۔اَلْأَكْمَهُ مَنْ يُولَدُ أَعْمَى - ( فتح الباری جزء ۶ صفحه ۵۷۶) دوسری روایت کے آخری فقره يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ عَلَى إِثْرِ ذَلِكَ وَلَمْ تَرْكَبُ مَرْيَمُ بَعِيرًا قَطُّ سے یہ سکھایا ہے کہ فضیلت فضیلت میں فرق ہے اور آسیہ یا مریم و عائشہ رضی اللہ عنہن کی جس فضیلت کا ذکر ہے وہ نسبتی واضافی فضیلت ہے۔جیسا کہ اس تعلق میں پہلے بیان کیا جاچکا ہے اور امام بخاری نے دوسری روایت کا انتخاب فضیلت کے ضمن میں اسی غرض سے کیا ہے کہ تا خواتین کی مماثلت یا حضرت خدیجہ یا حضرت عائشہ کی فضیلت کے ذکر سے یہ غلط فہمی پیدا نہ ہو کہ ان کی فضیلت مومن مرد و زن پر ہر جہت سے ہے اور مشبہ بہ ہونے کی وجہ سے آسیہ و مریم دونوں تمام مومنوں سے افضل ہیں۔مذکورہ فضیلت سے یہ مراد نہیں بلکہ مثل بہ مومن افراد اپنے معراج روحانی میں ایک دوسرے سے بڑھ سکتے ہیں۔شید (مالیدہ) کی تمثیل بھی اسی امر پر دلالت کرتی ہے کہ اس کی فضیلت کھانوں میں اضافی ہے ورنہ ہر کھانے کا اپنا اپنا مزہ اور اپنی اپنی قوت تغذیہ ہے۔امام بخاری نے انوار پیکر رحمت و آفتاب عالمتاب کی برکت سے جو حقیقت دور دراز زمانہ میں اپنی چشم وا سے دیکھی ہے وہ انہوں نے باب ۳۲ سے باب ۴۷ کے عنوانوں دروایتوں اور الفاظ کی شرح میں ہماری رہنمائی کے لئے تہ بہ تہ محفوظ کر دی ہے۔ہاں اگر قارئین کرام کو اس سے بہتر حل ملے تو چشم ما روشن دل ما شاد۔ورنہ یقین جائیں کہ ان ابواب کا تعلق اسی رحمت ربانیہ سے ہے جو بالفاظ ذِكْرُ رَحْمَةِ رَبِّكَ سورۃ مریم کا عنوان ہے اور جو رحمت ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : "اے میرے رب ! میرے لیے اپنے حضور جنت میں ایک گھر بنا دے اور مجھے فرعون سے اور اس کے عمل سے بچالے اور مجھے ان ظالم لوگوں سے نجات بخش۔۔۔ہم نے اس ( بچے) میں اپنی روح میں سے کچھ پھونکا اور اس ( کی ماں) نے اپنے رب کے کلمات کی تصدیق کی اور اس کی کتابوں کی بھی اور وہ فرمانبرداروں میں سے تھی۔“ (سورۃ التحریم آیات ۱۳۱۲)