صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 412
صحيح البخاری جلد ٦ ۴۱۴ ٢٠ - کتاب احاديث الأنبياء مسیح عیسی بتایا اور فرمایا: وَجِيْهَا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ کہ وہ دنیا و آخرت میں بڑی شان والا اور ان لوگوں میں سے ہوگا جنہیں قرب دیا گیا ہے۔ الأحمہ کے معنے ہیں جو دن کو تو دیکھ سکتا ہو مگر رات کے وقت نہ دیکھ سکے۔ مذکورہ بالا تینوں لفظ اپنے لغوی معانی کے اعتبار سے مشکل الفاظ میں سے نہیں ہیں بلکہ معروف و مستعمل ہیں۔ اس ۔ لئے انہیں نمایاں کیا گیا ہے کہ امام بخاری مندرجہ ذیل امور کی طرف توجہ دلانا چاہتے ہیں: اول : مسیح اسم ذات نہیں بلکہ اسم صفت ہے۔ ہر شخص جو اللہ تعالیٰ سے خاص طور پر برکت پاتا ہے اس کا مصداق ہے۔ روم: صرف دو ہی زندگیوں ( الدُّنْيَا وَالْآخِرَة ( میں ان کی شان و جاہت کا ذکر ہے۔ وہ حسب بشارت الہی دنیا میں اپنی طبعی عمر کا دور طفولیت اور دور کہولت کا زمانہ پانے والے اور اپنے ہر دور زندگی میں لوگوں سے دانش و حکمت کی باتیں کرنے والے ہوں گے۔ کلام سے خالی قوت گویائی اور صفت تکلم مراد نہیں جو قابل ذکر اور محل ستائش ہو بلکہ ایسا کلام نبوت مراد ہے جو جاذب قلب و گوش اور مستحق مدح والتفات ہو۔ سوم: حضرت مسیح علیہ السلام کے ذکر والی آیت میں قرآن مجید نے اس کا بھی ذکر فرمایا ہے کہ وہ الأسمہ اور الأَبْرَصَ کو شفا بخشتے ہیں لیکن امام بخاری نے صرف ایک لفظ کی شرح کی ہے۔ پس الأَبْرَصَ کے لفظ کی شرح چھوڑ کر الْأَكْمَه کی شرح خاص طور پر کرنا اس لئے نہیں کہ ایک لفظ آسان ہے اور دوسرا مشکل۔ الْأَكْمَهَ کی شرح مَنْ يُبْصِرُ بِالنَّهَارِ وَلَا يُبْصِرُ بِالَّيْل سے کرنا معنی دارد۔ میں اس وقت قارئین کو صرف یہ توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے مشہور معجزات کا ذکر اس باب کا مقصود نہیں ! ں اور وہ ضعیف روایتیں بھی جو اس تو جو اس تعلق میں عام طور پر مشہور اعام طور پر مشہور ہیں بالکل نظر انداز ہیں اور یہ امر کہ اس باب کا مقصد ولادت عیسی مسیح اور ان کے معجزات نہیں ، اس کے لئے ایک بڑا قرینہ تو یہی امر ہے کہ یہاں معجزات کی طرف اس میں اشارہ تک نہیں اور نہ روایت زیر باب میں اس کا کوئی ذکر ہے۔ اگر کوئی ذکر ہے تو خواتین امت محمدیہ کی فضیلت کا یا خواتین قریش کا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سب سے افضل قرار دی گئی ہیں اور باب کی پہلی اور دوسری روایت کا بیان سلبی پیرایہ میں ہے: وَلَمْ يَكُمُلُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَرْيَمُ بِئْتُ عِمْرَانَ وَآسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ۔ وَلَمْ تَرْكَبُ مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ بَعِيرًا قَطُّ - عمران کی بیٹی مریم اور فرعون کی بیوی آسیہ کے سوا اور کوئی عورت بنی اسرائیل کی کامل نہیں ہوئی اور مریم علیہا السلام اونٹ پر کبھی سوار نہیں ہوئیں ۔ اس نفی سے ظاہر ہے کہ موضوع باب ۴۶ کا تعلق کاملین بنی اسرائیل کے ذکر سے نہیں بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے کاملین مرد و زن سے ہے کیونکہ جن دو گزشتہ زمانے کی عورتوں کے کمال کا ذکر کیا گیا ہے یہ وہ دو مبارک خواتین ہیں جن سے امت محمدیہ کے مومن و صالحین مثیل قرار دیئے گئے ہیں اور اس کا مفصل ذکر باب ۳۲ کے عنوان اور اس کی روایت سے متعلق شرح میں گزر چکا ہے۔ ان میں سے ایک خاتون یعنی حضرت آسیہ کی مثال اس مرد مومن و صالح کی ہے جو نفس امارہ کا حکم نہیں مانتا اور نجات کا خواہاں اور حضرت آسیہ کی طرح دعاؤں میں مشغول ہوتا اور کہتا ہے : رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ وَنَجِّنِي مِنْ فِرْعَوْنَ وَعَمَلِهِ