صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 411 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 411

صحيح البخاري - جلد 4 ۴۱۱ ۶۰ - كتاب احاديث الأنبياء مذکورۃ الصدر روایت باب ۴۶ میں نئی سند سے مروی ہے اور اس میں بھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت سے متعلق مثال مرید ہی کی دی گئی ہے۔لیکن اس روایت اور پہلی روایت میں ایک فرق ہے۔پہلی روایت ( سی بن جعفر والی ) میں كَمَلَ مِنَ الرِّجَالِ كَثِيرٌ کا قول مقدم ہے اور حضرت عائشہ صدیقہ کی فضیلت کا ذکر مؤخر اور اس باب کی روایت میں حضرت عائشہ کی فضیلت کا ذکر پہلے ہے اور سابقہ کاملین (رجال وَنِسَاء ) کا ذکر بعد میں عنوانِ باب ۳۲ کی مناسبت سے یحییٰ بن جعفر کی روایت وہاں درج کی گی ہے کہ اس میں مشبہ بہ مقدم ہے اور باب ۴۶ کی مناسبت سے آدم کی روایت میں امت محمدیہ کا ذکر مقدم ہے اور اس امت کی فضیلت کا ذکر اس باب کا اصل موضوع ہے۔امام موصوف کا یہ تصرف بھی دلیل ہے اس امر کی کہ الفاظ يُبْشِرُ وَيُبَشِّرُ اور وَجِيْهَا وَشَرِيْفًا کی شرح سے موضوع کا تعین ہی مقصود ہے اور اس سے امام ابن خلدون کی رائے صائب ثابت ہوتی ہے کہ جامع صحیح بخاری کی تالیف و تصنیف و ترتیب ایک نہایت عمیق غور و خوض اور وسیع فکر و نظر پر مبنی ہے۔سطحی اور سرسری مطالعہ سے امام بخاریؒ کے مطالب کا ادراک نہیں ہو سکتا۔اس کی وسعت و پنہائی کی طرف موقع محل کی مناسبت سے پہلے بھی توجہ دلائی گئی ہے اور یہاں بھی اس کا ذکر برسبیل استدلال و استنباط کیا گیا ہے تا قارئین بھی غور وفکر سے کام لیں اور صحیح طور پر اس سے مستفید ہونے کی کوشش کریں۔مذکورہ بالا الفاظ کی شرح کے علاوہ لفظ مسیح گھل ، أحمہ کی شرح بھی قابل توجہ ہے۔مسیح کے معنے بحوالہ امام ابراہیم مخفی صدیق بتائے گئے ہیں۔سفیان ثوری نے ان سے یہ معنی موصولا نقل کئے ہیں جو امام بخاری نے یہاں قبول کئے ہیں ورنہ از روئے لغت یہ لفظ مسح سے باب کھیل ہے جس کے معنی ہیں برکت دیا ہوا۔جیسے بزرگ لوگ بچوں کے سر پر ہاتھ پھیرتے اور برکت دیتے ہیں۔مسیح اللہ تعالیٰ کی طرف سے برکت یافتہ تھے۔یہ لفظ اسم وصفی ہے نہ کہ اسم ذات۔گھل کے معنی ہیں حَلِيمٌ ( عاقل و بالغ ) مجاہد سے بسند فریابی مروی ہیں۔ابو جعفر نحاس ادیب نے ان معنوں سے لاعلمی ظاہر کی اور کہا ہے کہ اس کے معنی ہیں: مَنْ نَاهَرَ الْأَرْبَعِينَ أَوْ قَارَبَهَا۔جو چالیس کی عمر کو یا اس کے قریب قریب پہنچ گیا ہو۔پچاس سالہ بھی تھل کہلاتا ہے۔اصل میں بالوں میں سپیدی نمودار ہونے کو گھل کہتے ہیں۔اسی سے اِخْتَهَل النَّبَاتُ کا محاورہ ہے یعنی تمَّ طُولُهُ پودا قد و قامت میں اپنے کمال کو پہنچ گیا۔(اقرب الموارد- کھل) مجاہد کی مذکورہ بالا شرح سے متعلق امام ابن حجر کی رائے ہے کہ یہ شرح باللزوم ہے یعنی اس عمر میں انسان پختہ عقل اور باوقار ہو جاتا ہے۔اس لیے اس کی شرح حلیم بیان کی گئی ہے ورنہ یہ شرح لغوی نہیں۔(فتح الباری جز ۶۶ صفحہ ۵۷۶) ہمیں اس بحث سے چنداں سروکار نہیں۔ہمیں تو امام بخاری کا مقصد معلوم کرنا ہے جو متعلقہ آیت سے ظاہر ہوگا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَيُكُلِمُ النَّاسَ فِى الْمَهْدِ وَكَهْلًا وَّمِنَ الصَّالِحِيْنَ ) (آل عمران: (۴۷) اور وہ (صحیح) گہوارے ( زمانہ بچپن ) اور ادھیڑ عمر میں لوگوں سے کلام کرے گا اور صالحین میں سے ہوگا۔اس سے ماقبل کی آیت میں اس موعود مولود و ابن مریم کا نام