صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 410 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 410

صحيح البخاري - جلد 1 ۱۰ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء باب میں کلمہ بشارت اور اس سے متعلق یہ حصہ نمایاں کیا گیا ہے جس سے ظاہر ہے کہ اس کا یہی موضوع ہے جو قارئین کو مد نظر رکھنا چاہیے تا سابقہ ابواب کے موضوع سے اس باب کا تعلق سمجھنے میں آسانی ہو اور ان کی توجہ غیر متعلق بحث کی طرف نہ جائے۔ اس ایک امر پر توجہ مرکوز کرانے کی غرض سے يَبْشُرُ وَيُبَشِّرُ کی شرح نقل کی گئی ہے اور وجیها کے معنی ہیں شَرِيفًا - بہت بڑی شان والا ۔ وَجَاهَةٌ سے صیغہ مبالغہ ہے۔ بَشِير ، بَشَّرَ يُبَشِّر سے مشتق ہے یعنی خو ہے یعنی خوش کن خبر دینے والا ۔ عنوان باب میں یہ لفظی شرح بلا وجہ نہیں ۔ اس - رح بلا وجہ نہیں۔ اس سے باب کا اصل موضوع متعین کرنا مقصود ہے۔ وہاں بطور تمہید یہ بتایا گیا ہے کہ سورۃ مریم کی بشارت سے متعلق ایک خوش کن خبر دی جائے گی جو اپنی عظمت میں مہتم بالشان ہے۔ ابو عبیدہ نے وجیہ کے یہی معنے بتائے ہیں کہ جو بادشاہوں وغیرہ کی توجہ والتفات کا آماجگاہ ہو۔ ( فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۵۷۶) دونوں لفظ يَبْشُرُ وَيُبَشِّرُ اور وَجِيه عام فہم ہیں۔ انہیں نمایاں کرنے سے امام موصوف کی غرض سوا اس کے نہیں کہ قارئین کی توجہ اس خوش کن اہم خبر کی طرف پھیر دی جائے مگر باوجود اس ۔ ردی جائے مگر باوجود اس کے اصل موضوع چھوڑ کر یہ بحث اُٹھائی جاتی ہے کہ سن کا جو صیغہ امر ہے اس کا مخاطب کون ہے معدوم یا موجود؟ اگر معدوم ہے تو اس سے خطاب سن کیسا اور اگر موجود ہے تو شئے کی موجودگی میں اس کے وجود میں آنے کا حکم دینا بے معنی۔ یہ سوال اُٹھا کر علماء اسلام کی طرف سے یہ جواب دیا جاتا ہے کہ خطاب دو قسم کے ہیں ایک خطاب تکلیفی جیسے خطاب لطیفی جیسے شرعی احکام ۔ یہ بات کر اور فلاں بات نہ کر۔ ایسے خطاب میں مخاطب کا وجو د ضروری ہے اور دوسرا خطاب تکوینی جس میں مخاطب کے وجود کی ضرورت نہیں۔ لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ ابتداء خلق کی کیفیت مخلوق کے احاطہ تحقیق و تصور سے باہر ہے۔ خالق ہی کو اس کا علم ہو سکتا ہے۔ باب ۴۴ یا باب ۴۶ کا یہ موضوع ہی نہیں کہ شارحین و قارئین اس کی بحث میں پڑیں بلکہ ان کا موضوع وہ مہتم بالشان آئندہ کی خبریں ہیں جن کا ذکر باب ۴۸ اور باب ۴۹ میں کیا ہے یعنی فتنہ دجال اور قاتل دجال مسیح موعود سے متعلق انذار و بشارت کیونکہ جو خبر پوری ہو چکی ہو وہ آئندہ کی بشارت نہیں کہلائے گی اور جب اس کا انکشاف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ہوا تو اس انکشاف کا اپنے معین کوائف کے ساتھ ظہور پذیر ہونا بھی كُنْ فَيَكُون ہی سے تھا اور یہ امر و خلق کا ایسا وسیع بلکہ لا محدود دائرہ ہے جس میں انسانی منطق کو رسائی نہیں۔ روایت (نمبر ۳۴۳۳) زیر باب ۴۶ میں حضرت مریم اور حضرت عیسی بن مریم علیہا السلام کی نسبت کسی ایسی خبر کا ذکر نہیں جو بشارت زمانہ مستقبل کہلا سکے اور اگر کچھ ذکر ہے تو ماضی کے الفاظ میں فرمایا: كَمَلَ مِنَ الرِّجَالِ كَثِيرٌ وَلَمْ يَكْمُلُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَرْيَمُ بِئْتُ عِمْرَانَ وَ آسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ ۔ اور یہ دو کامل عورتیں وہ ہیں جن کا ذکر اس سے قبل اسی روایت کے حوالہ سے باب ۳۲ میں گزر چکا ہے اور اس باب کے عنوان میں بحوالہ آیت وَضَرَبَ اللهُ مَثَلًا لِلَّذِينَ آمَنُوا امْرَأَةَ فِرْعَوْنَ ۔۔۔۔ (التحريم (۱۲) بتایا گیا ہے کہ ان کی مثال مریم و آسیہ صفت امت محمدیہ کے مومن ہیں۔ اس روایت کا باب ۴۶ میں تکرار اسی لئے ہے کہ امام موصوف کی اس باب سے غرض واضح طور پر متعین ہوتی ہے۔