صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 409
صحيح البخاري - جلد 4 ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء بِنْتُ عِمْرَانَ وَآسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ۔میں سے سوائے مریم بنت عمران اور آسیہ فرعون کی اطرافه: 3٤١١، 3769، 5418۔بیوی کے کوئی کامل نہیں ہوئی۔٣٤٣٤: وَقَالَ ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي ۳۴۳۴: اور (عبداللہ ) ابن وہب نے کہا: یونس يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ حَدَّثَنِي نے مجھے بتایا۔انہوں نے ابن شہاب سے روایت کی۔سَعِيْدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ انہوں نے کہا: سعید بن مسیب نے مجھ سے بیان کیا سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کہ حضرت ابوہریرۃ نے کہا: میں نے رسول اللہ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ نِسَاءُ قُرَيْشٍ خَيْرُ نِسَاءٍ صلى اللہ علیہ وسلم سے سنا۔آپ فرماتے تھے: قریش رَكِبْنَ الْإِبِلَ أَحْنَاهُ عَلَى طِفْلِ وَأَرْعَاهُ کی عورتیں اچھی عورتیں ہیں۔اونٹوں پر سوار ہوتی عَلَى زَوْجِ فِي ذَاتِ يَدِهِ يَقُولُ ہیں۔بچوں پر بہت مہربان ہیں اور خاوندوں کا بہت أَبُو هُرَيْرَةَ عَلَى إِثْرِ ذَلِكَ وَلَمْ تَرْكَبْ خیال رکھتی ہیں۔حضرت ابو ہریرہ یہ بیان کرنے مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ بَعِيْرًا قَطُّ تَابَعَهُ کے بعد کہتے تھے: مریم بنت عمران کبھی بھی کسی اونٹ ابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ وَإِسْحَاقُ الْكَلْبِيُّ پر سوار نہیں ہوئی۔یونس کی طرح زہری کے بھتیجے ( محمد بن عبد اللہ بن بیسار ) اور اسحق کلبی نے بھی زہری سے یہ روایت نقل کی۔عَنِ الزُّهْرِيِّ۔اطرافه: ٥٠٨٢، ٥٣٦٥ تشریح : اِذْ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللَّهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ۔: باب ۴۴ کے عنوان۔کی آیات محولہ میں یہ آیت بھی نقل کی گئی ہے لیکن صرف بِكَلِمَةٍ تک اور یہاں یہ آیت اپنے پورے سیاق کے ساتھ منقول ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ وہاں موضوع باب یہ تھا کہ سورۃ مریم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت سے متعلق ایک مہتم بالشان پیشگوئی پر مشتمل ہے جس کا سلسلہ بہت وسیع و ممتد ہے اور یہاں باب ۴۶ کا موضوع اس بشارت مولود سے ہے جس کی نسبت حضرت مریم کو قبل از وقت خبر دی گئی اور وہ انوکھی بشارت سن کر حیران ہوئیں اور پوچھا: أَنَّى يَكُونُ لِي وَلَدٌ وَلَمْ يَمْسَسْنِي بَشَرٌ - میرے ہاں کیسے بچہ پیدا ہو سکتا ہے کسی بشر نے مجھے چھوا نہیں۔قَالَ كَذلِكِ اللهُ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ إِذَا قَضَى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونَ ٥ (آل عمران: ۴۸) کہا: اسی طرح اللہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔جب وہ کسی بات کے ہونے کا فیصلہ فرمائے تو وہ یہ فرماتا ہے: ہوجا اور وہ ہو جاتی ہے۔ط