صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 407
صحيح البخاري - جلد 4 تشریح: ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء وَإِذْ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَاكِ: يَكْفُلُ کفالت سے ہے بھنی لفیل ہونا، ذمہ داری لینا۔آیت أَيُّهُمُ يَكْفُلُ مَرْيَمَ میں يَكْفُلُ کے معنی یضم بھی کئے جاتے ہیں۔یعنی ان میں سے کون مریم کو سنبھالے گا۔كَفَلَهَا کے معنی ہیں ضَمَّهَا۔اسے اپنے ساتھ ملا لیا، شامل کر لیا۔یہ لفظ قرضوں وغیرہ کی کفالت کے معنوں میں وارد نہیں ہوا ہے۔حدیث زیر باب میں فقرہ خَيْرُ نِسَاءِ ھا میں بحث ہوئی ہے کہ ضمیر کا کا مرجع کیا ہے۔بعض نے کھا سے مراد الدُّنْيَا اور بعض نے الجنَّة لی ہے اور معنے یوں کئے ہیں کہ دنیا کی یا جنت کی عورتوں میں سے بہترین عورت مریم ہیں۔جس فریق نے مکالمہ الہیہ اور اصطفاء (انتخاب) کی وجہ سے حضرت مریم علیہا السلام کو انبیاء میں سے قرار دیا ہے، انہوں نے ضمیر (هَا ) الْعَالَمِینَ کی طرف لوٹائی ہے۔یعنی خَيْرُ نِسَاءِ الْعَالَمِینَ۔لیکن جو علماء منصب نبوت ورسالت صرف مردوں کے لئے مخصوص قرار دیتے ہیں۔ان کے نزدیک حضرت مریم علیہا السلام نبیہ نہیں۔انہوں نے آیت وَاصْطَفَاكِ عَلَى نِسَاءِ الْعَالَمِینَ کی یہ تشریح کی ہے کہ حضرت مریم علیہا السلام اپنے زمانہ کی عورتوں سے افضل تھیں اور اَلْعَالَمِينَ اور ضمیرها سے مراد بنواسرائیل وامت موسویہ بھی ہو سکتی ہے۔غرض علماء کے مذکورہ بالا اختلاف کی وجہ سے یہ باب قائم کیا گیا ہے اور مذکورہ بالا روایت آیت إِنَّ الله اصْطَفَاكِ۔۔۔۔عَلَى نِسَاءِ الْعَالَمِيْنَ کے تحت نقل کر کے نِسَاءِ العَالَمِینَ کا مفہوم معین کیا گیا ہے کہ حضرت مریم اپنی قوم اور اپنے زمانہ کی عورتوں سے افضل تھیں۔جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خَيْرُ نِسَاءِ هَا خَدِيجَةُ فرما کر حضرت خدیجہ کو قریش کی عورتوں میں سے افضل قرار دیا۔اس سے ضمیر کا کا ابہام بھی واضح ہو جاتا ہے اور نِسَاءِ العَالَمِینَ کا مفہوم بھی متعین ہو جاتا ہے جو جمہور کا مذہب ہے۔كَفَلَ يَكْفُلُ کی شرح ضَمَّ يَضُمُ کے الفاظ سے کرنا بلا وجہ نہیں۔یہ مشکل لفظ نہیں بلکہ عام فہم لفظ ہے۔لیکن شرح الفاظ سے اس طرف اشارہ ہے کہ آیت کا مفہوم محدود معنوں میں سمجھا جائے جو چیز کفالت میں ہو وہ محدود ومعین ہو جاتی ہے۔جن شارحین نے حضرت مریم علیہا السلام کے انبیاء یا غیر انبیاء میں سے ہونے کی جو بحث اُٹھائی ہے وہ غالبا اس وجہ سے ہے کہ ان کے نزدیک انبیاء کا گروہ ہی مکالمہ و مخاطبہ الہیہ سے مخصوص ہے جو درست نہیں اور امر واقعہ کے خلاف ہے۔امت محمدیہ میں بے شمار اولیاء اللہ گزرے ہیں جو کلام و خطاب عزت سے مشرف ہوئے ہیں۔