صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 406
صحيح البخاری جلد ۲ م ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء باب ٤٥ : وَإِذْ قَالَتِ الْمَلَئِكَةُ يُمَرْيَمُ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَاكِ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا : ) جب ملائکہ نے کہا: اے مریم! اللہ نے تجھے چن لیا ہے وَطَهَّرَكِ وَاصْطَفْكِ عَلَى نِسَاءِ اور تجھے پاک کیا ہے اور اس زمانہ کی ساری قوموں کی الْعَلَمِينَ يُمَرْيَمُ اقْنُتِى لِرَبِّكِ عورتوں پر تجھ کو برگزیدہ کیا ہے۔ اے مریم! اپنے وَاسْجُدِي وَارْكَعِي مَعَ الرَّاكِعِينَ ربّ کی عبادت کر اور سجدہ کر اور رکوع کرنے والوں ذلِكَ مِنْ أَنْبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهِ کے ساتھ رکوع کر ۔ یہ غیب کی باتیں ہیں جو ہم تیری إِلَيْكَ وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يُلْقُوْنَ طرف وحی کرتے ہیں اور تو ان کے پاس نہ تھا جبکہ أَقْلَامَهُمْ أَيُّهُمْ يَكْفُلُ مَرْيَمَ وہ اس امر پر ) قرعہ ڈال رہے تھے کہ ان میں سے وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يَخْتَصِمُونَ کون مریم کا کفیل ہو اور تو ان کے پاس اس وقت نہ (آل عمران : ٤٣ - ٤٥) تھا جبکہ وہ آپس میں جھگڑ رہے تھے۔ يُقَالُ يَكْفُلُ يَضُمُّ كَفَلَهَا ضَمَّهَا يَكْفُلُ کے معنی ہیں وہ اپنے ساتھ رکھے گا۔ كَفَلَهَا مُخَفَّفَةً لَيْسَ مِنْ كَفَالَةِ الدُّيُونِ کے معنی ہیں اس نے اسے اپنے ساتھ رکھا۔ یہ کفل نہیں بلکہ کفل ہے۔ یعنی وہ کفالت نہیں جو قرضوں وَشِبْهِهَا ۔ وغیرہ میں ہوتی ہے۔ ٣٤٣٢: حَدَّثَنِي أَحْمَدُ ابْنُ أَبِي ۳۴۳۲ : احمد بن ابی رجاء نے مجھ سے بیان کیا کہ رَجَاء حَدَّثَنَا النَّضْرُ عَنْ هِشَامٍ قَالَ نضر بن شمیل ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام سے أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ روایت کی ۔ انہوں نے کہا: میرے باپ ( عروہ بن جَعْفَرٍ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ زیر ) نے مجھے بتایا، کہا: میں نے عبداللہ بن جعفر سے يَقُوْلُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ سنا۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم وَسَلَّمَ يَقُوْلُ خَيْرُ نِسَائِهَا مَرْيَمُ ابْنَةُ سے سنا۔ آپ فرماتے تھے: دنیا کی عورتوں میں سے عِمْرَانَ وَخَيْرُ نِسَائِهَا خَدِيجَةُ۔ بہتر عمران کی بیٹی مریم تھیں اور اس زمانہ کی عورتوں طرفه ٣٨١٥۔ میں سے بہتر عورت خدیجہ نہیں ۔