صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 406 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 406

صحيح البخاري - جلد 4 ۶۰- كتاب احاديث الأنبياء باب ٤٥ : وَاِذْ قَالَتِ الْمَلَبِكَةُ يُمَرْيَمُ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفْكِ (اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: ) جب ملائکہ نے کہا: اے مریم! اللہ نے تجھے چن لیا ہے وَطَهَّرَكِ وَاصْطَفْكِ عَلَى نِسَاءِ اور تجھے پاک کیا ہے اور اس زمانہ کی ساری قوموں کی الْعَلَمِيْنَ يُمَرْيَمُ اقْنُتِى لِرَبِّكِ عورتوں پر تجھ کو برگزیدہ کیا ہے۔اے مریم ! اپنے وَاسْجُدِى وَارْكَعِی مَعَ الرَّشِعِينَ رب کی عبادت کر اور سجدہ کر اور رکوع کرنے والوں ذلِكَ مِنْ أَنْبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهِ کے ساتھ رکوع کر۔یہ غیب کی باتیں ہیں جو ہم تیری اِلَيْكَ وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ اِذْيُلْقُونَ طرف وحی کرتے ہیں اور تو ان کے پاس نہ تھا جبکہ أَقْلَامَهُمْ أَيُّهُمْ يَكْفُلُ مَرْيَمَ وہ اس امر پر ) قرعہ ڈال رہے تھے کہ ان میں سے وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يَخْتَصِمُونَ كون مریم کا کفیل ہو اور تو ان کے پاس اس وقت نہ (آل عمران: ٤٣-٤٥) تھا جبکہ وہ آپس میں جھگڑ رہے تھے۔) يُقَالُ يَكْفُلُ يَضُمُّ كَفَلَهَا ضَمَّهَا يَكْفُلُ کے معنی ہیں وہ اپنے ساتھ رکھے گا۔كَفَلَهَا مُخَفَّفَةٌ لَيْسَ مِنْ كَفَالَةِ الدُّيُونِ کے معنی ہیں اس نے اسے اپنے ساتھ رکھا۔یہ کفل نہیں بلکہ كَفَل ہے۔یعنی وہ کفالت نہیں جو قرضوں وَشِبْهها۔وغیرہ میں ہوتی ہے۔٣٤٣٢: حَدَّثَنِي أَحْمَدُ ابْنُ أَبِي ۳۴۳۲ : احمد بن ابی رجاء نے مجھ سے بیان کیا کہ رَجَاءٍ حَدَّثَنَا النَّضْرُ عَنْ هِشَامٍ قَالَ نضر بن شميل ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ہشام سے أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ روایت کی۔انہوں نے کہا: میرے باپ ( عروہ بن جَعْفَرٍ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ زبیر) نے مجھے بتایا، کہا: میں نے عبد اللہ بن جعفر سے سنا۔انہوں نے کہا: میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ يَقُوْلُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ سے سنا۔وہ کہتے تھے: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم وَسَلَّمَ يَقُوْلُ خَيْرُ نِسَائِهَا مَرْيَمُ ابْنَةُ سے سنا۔آپ فرماتے تھے: دنیا کی عورتوں میں سے عِمْرَانَ وَخَيْرُ نِسَائِهَا خَدِيجَةُ۔بہتر عمران کی بیٹی مریم تھیں اور اس زمانہ کی عورتوں طرفه: ۳۸۱۵ میں سے بہتر عورت خدیجہ نہیں۔